نظام عدل پہ اٹھتے سوالات، اسلام میں استثنا کی گنجائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کرمنل قانون، اس کے طریقہ کار اس میں موجود سقم دور کرکے قانون کو حقیقی طور پر اسلامی اور شرعی بنانے کے لئے نجانے کتنے عرصے سے صرف بحث ہی ہوتی آئی ہے، ملک میں نظام عدل کو بھی قرآن و سنت میں وضع کیے گئے عدل انصاف کے مطابق ڈھالنے پر عدالتیں اور قانونی ماہرین رائے دیتے رہے، حکومتیں اس قانون میں خرابیوں کا شکوہ بھی کرتی نظر آتی رہیں مگر انگریزوں کے زمانے اس قانون کو تبدیل کرنے کی جسارت و توفیق کسی کو نہیں ہوئی۔ آج نہ صرف کرمنل پروسیجر پہ بلکہ نظام عدل و انصاف اور استثنا کے آئینی اختیارات پہ بھی بحث اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔

اسلامی طرز حکمرانی میں کسی حاکم وقت کے پاس یہ صوابدیدی اختیارات نہیں ہوتے کہ وہ اپنی صوابدید پہ اسلامی حدود کا تعین کر سکے، نہ اسلام ہی اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کسی خلیفہ یا بادشاہ یا سلطان نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ قانون سے بالاتر ہے اسے استثنا حاصل ہے۔ اسلام نے خلیفہ وقت سمیت قاضی اور کسی بھی طاقتور ترین کو قانون سے ماوراء نہیں رکھا سب قانون کے سامنے برابر کے جوابدہ قرار پائے ہیں۔ اسلامی شریعت نے کسی حاکم یا سلطان، بادشاہ یا وزیراعظم یا پھر صدر کو یہ حق و اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا معاف کر سکے یا پھر اس میں کمی کا روادار ہو سکے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ بھی ظالموں میں گنا جائے گا۔ اسلام میں استثنا کا دعویٰ معصومیت کے دعوے کے مترادف ہے اور معصومیت صرف اور صرف انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام کا شرف قرار پایا ہے۔

پاکستان بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر معرض وجود میں آیا اور قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 227 ( 1 ) میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت میں وضع کیے گئے قانون و انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں بنایا جاسکتا، مگر بدقسمتی سے قرآن و سنت کا قانون اسلامی جمہوری پاکستان میں لاگو ہی نہیں ہے یا اگر ریاستی سطح پر لاگو ہے تو اس پہ عملدرآمد کم از کم کبھی نہیں نظر آیا کیوں کہ ملک میں آج بھی ڈیڑھ سو سالہ پرانا انگریزوں کا دیا قانون ہی چلتا ہے۔

اسلام میں عدل و انصاف کے جو معیارات متعین کیے گئے ہیں ان پر عمل ہوتے کبھی نہیں دیکھا، جیسے کہ آئینی استثنا کا معاملہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 45 میں صدر مملکت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی کی سزاجب چاہیں معاف کردیں، لہاذا ملک سے غیر اسلامی غیر انسانی قوانین کے خاتمے اور آئین و قانون کو حقیقاً اسلامی طرز پہ ڈھالنے کے لئے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دس سال سے عمر قید کی سزا کاٹتے ایک قیدی کی اپیل منظور کرتے ملک کے نظام عدل و انصاف اور کرمنل پروسیجر پہ انتہائی سنگین نوعیت کے سوالات کھڑے کردیے ہیں، اگر قرآن و سنت میں نظام عدل و انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھیں تو اسلامی جمہوری پاکستان میں قانون نہ اسلامی نہ ہی انسانی تقاضوں کے ہم آہنگ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ستائیس سال سے جیل میں سزا کاٹنے والے ایک شخص کو عدالت نے بے گناہ قرار دے کر جب آزاد کیا تو اس شخص نے یہ کہہ کر آزادی لینے سے انکار کر دیا کہ اب وہ کہاں جائے گا، کس کے پاس جائے، ایسا ہی ایک دردناک واقعہ سپریم کورٹ میں پیش آیا جب ایک پھانسی کی سزا والے مجرم کو عدالت نے چودہ سال بعد جرم ثابت نہ ہونے پہ بری کیا تو معلوم پڑا کہ اس قیدی کو دو سال پہلے ہی سزائے موت دی جا چکی ہے۔ یہ المیہ کبیرہ گناہ اس ملک کی ریاست اور عدلیہ کے ماتھے کا داغ ہے۔

آج بھی پاکستان میں قانون سے کھلواڑ کا رواج عام ہے، قتل کے کیس میں ریمانڈ کی حد دس دن زیادہ سے زیادہ چودہ دن ہے مگر نیب کے قانون میں نوے دن۔ آج بھی پاکستان میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے دی گئی پالیسی کے تحت ماتحت عدالتوں میں فیصلے دیے جاتے ہیں جبکہ ثبوتوں، حقائق و شواہد اور گواہی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، کسی بھی ادارے کے فرد واحد کو اتنے اختیارات ہیں کہ شاید اتنے اختیارات دنیا کے کسی طاقتور سے طاقتور ملک کے صدر وزیراعظم کو بھی نہیں۔

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کئی بار قرار دے چکی ہے کہ ملک کے نجانے کتنے قانون نیب قانون سمیت قرآن و سنت میں وضع کیے کیے گئے عدل وانصاف کے تقاضوں کے منافی، مکمل طور پر غیر شرعی غیر انسانی ہیں مگر ہماری عدالت عظمیٰ کورونا پہ سوموٹو نوٹس لے کر حکم جاری کرنے کی بات تو کرتی ہے مگر غیر شرعی غیر انسانی قانون کو ختم کرنے کے لئے کارروائی سے گریزاں ہے۔ پھانسی چڑھ جانے والے ا س بے گناہ کہ موت کا ذمے دار کون ہے، کیا حکمران یا قاضی وقت اپنے آپ کو اس بے گناہ کے خون سے بری الزمہ قرار دے سکتے ہیں۔

آج بھی پاکستان کی جیلوں میں محض الزامات کی بنیاد پہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں قیدی انصاف کے منتظر ہیں مگر ہماری عدلیہ بے گناہوں کو انصاف کہ فراہمی کے بجائے انتظامی معاملات میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے، عدالت عظمیٰ سے لے کر ماتحت عدالتوں تک لاکھوں کیس زیر التواء ہیں، ہزاروں ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی تاریخوں پہ عدالت جاتے اور پھر نمبر نہ آنے پر واپس جیل میں بند کر دیے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی کئی سال چلتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے تحت بھی کرمنل قانون اور اس کے طریقہ کار، قانون شہادت میں قوانین وضع کرنے کے اختیارات صوبائی اسمبلیوں کو تفویض کیے گئے ہیں مگر ابھی تک کوئی پیش رفت کہیں نظر نہیں آئی۔ ملک میں جاری نیب کی کارروائیوں اور اس کے سیاہ قوانین پہ اب تنقید شدت اختیار کر چکی ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کچھ ماہ قبل ہدایت دی تھی کہ حکومت تین ماہ میں نیب قوانین میں تبدیلی لائے ورنہ اگر انہوں نے نیب کی کسی شق کو غیر اسلامی غیر قانونی قرار دیا تو سارا قانون ہی ختم ہو جائے گا، سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن نیب کی شق 25 میں تبدیلی کے سوموٹو نوٹس پہ دی تھیں، مگر افسوس کہ حکومت کی جانب سے انتقامی احتساب میں دلچسپی کے سبب پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی نہ کی گئی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں اس کے بعد اس سوموٹو نوٹس پہ مزید کارروائی ہو سکی ہے۔

اس وقت پاکستان میں انصاف کے حصول کے لیے سرگرداں، مظالم اور نا انصافی کی چکی میں پستے غریب و بے پہنچ اس انتظار میں ہیں کہ شاید قدرت کو ہی ان کی بے بسی پہ رحم آجائے اور وہ کوئی سبیل پیدا کردے ان غیر شرعی غیر انسانی قوانین میں تبدیلی کی ورنہ ملک کی سیاسی جماعتوں کے باہم دست و گریباں ہونے کی وجہ سے ان قوانین میں جلد تبدیلی ہوتی اور ملک کا قانون قرآن و سنت میں وضع کیے گئے عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *