پاناما لیکس : وزیراعظم کیخلاف الزامات کو دیکھنا ترجیح‘ مطمئن کریں رقوم کی منتقلی قانونی تھی : سپریم کورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"supreme-court\"

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نیٹ نیوز + نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ 15 نومبر تک دستاویزی شواہد پیش کریں کیس کی سماعت بھی 15 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے ثبوت اور دستاویزات جمع کرانے کے حوالے سے کہا کہ یہ آخری موقع ہے اس کے بعد کسی کو کاغذات جمع کرانے اور التوا کی اجازت نہ ہو گی۔ حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ انہیں دستاویزی شواہد جمع کرانے کے لیے 15 روز کا وقت دیا جائے تاہم حکومت کی یہ درخواست مسترد کردی گئی۔ عدالت نے کہا کہ عدالت کیس جلد نمٹانے کے لئے اسے روایتی انداز میں نہیں چلائے گی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کے پاس تو پہلے ہی دستاویزی شواہد موجود ہیں، ہم کم سے کم وقت میں معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیشگی دستاویزی ثبوت طلب کرنے سے مجوزہ کمشن کو کم سے کم وقت میں فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی، اس معاملے کو عام کیس کی طرح سنا تو مقدمہ کئی سال چلے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کمشن کی بجائے دستاویزات منگوا کر جائزہ لیا جائے؟ ہم نہیں چاہتے کہ تاخیر ہمارے کھاتے میں آئے، مناسب وقت نہ دیا تو کل کہا جائے گا کہ کمشن نے وقت نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر کو برائی نظر ہی نہیں آتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ دیا وہ پھر بھی عہدے پر برقرار رہے، کورٹ نے بعد میں حکم دیا کہ آپ وزیراعظم نہیں رہے، ہم کلین چٹ بھی دے سکتے ہیں اور فیصلہ مختلف بھی آ سکتا ہے۔ حکومت کے خلاف فیصلہ آیا تو وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ عہدے پر نہیں رہیں گے۔ قانونی طور پر ہم نہ زیادہ گہرائی میں جائیں گے نہ پانامہ کا دورہ کرینگے۔ بظاہر کمشن کی ضرورت نہیں خاندان کے ذرائع آمدن اور رقوم کی بیرون ملک منتقلی ثابت کرنا ہو گی۔ ثابت نہ کر سکے تو مشکلات ہونگی حسین نواز نے ملکیت سے انکار نہیں کیا دیکھنا ہے خریداری قانونی ہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کتنے لوگ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن کے نام سکینڈل میں آئے ہیں طارق اسد نے کہا کہ 400کے قریب کمپنیاں اور لوگوں کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 800لوگوں کے خلاف تحقیقات ہو تو یہ کام کئی سال چلے گا، حاکم وقت کا معاملہ دوسروں سے الگ ہوتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس نے واضح کیا عدالت کی فی الحال ترجیح وزیر اعظم کے خلاف الزامات کو ہی دیکھنا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ جائیداد اور رقوم کی منتقلی سے متعلقہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمشن تشکیل دیا جائے یا نہیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سماعت کے دوران بعض وکلاء کی جانب سے ان تحقیقات میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ دیگر افراد کو بھی شامل کرنے کی استدعا کے جواب میں کہا کہ \’وزیر اعظم کی پوزیشن دیگر افراد سے مختلف ہے۔ وزیراعظم نے خود کو تحقیقات کے لیے پیش کر دیا ہے۔ ہم پِک اینڈ چوز نہیں کریں گے۔ بدعنوانی کرنیوالے زد میں آئینگے۔ ہم یہاں بادشاہ بن کر نہیں بیٹھے وہی کریں گے جس کی اجازت قانون اور آئین دیتا ہے۔ عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ ان کے پاس مقدمے سے جڑے مزید کوئی شواہد ہیں تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے سب پہلے ہی جمع کرا دیئے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس دو راستے ہیں کہ وہ دستاویزی شواہد کا خود جائزہ لے کر فیصلہ کرے یا پھر شواہد دیکھ کر کمیشن تشکیل دے جو ان کے حوالے سے تحقیقات کرے۔ حامد خان کا اصرار رہا کہ یہ کمشن کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ مزید شواہد حاصل کرے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ حکومت کے پاس تو پہلے ہی دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ عدالت کم سے کم وقت میں معاملے کو نمٹانا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیشگی دستاویزی ثبوتوں سے مجوزہ کمیشن کو کم سے کم وقت میں فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی اس معاملے کو عام کیس کی طرح سنا گیا تو مقدمہ کئی سال چلے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملکی صورتحال میں اداروں پر بداعتمادی بڑھ گئی ہے، وفاقی تحقیقاتی اداروں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو برائی نظر ہی نہیں آتی۔ سماعت میں شرکت کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جہانگیر ترین اور شیرین مزاری اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور دیگر فریقین عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے شیخ رشید کو بھی بات کرنے کی اجازت دی جس پر انہوں نے کہا کہ وہ پریکٹس نہیں کرتے لہٰذا کوئی اگر غلطی ہو تو درگزر کی جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے دستاویزات جمع نہ کرنے کی شکایت کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہی دیکھنے کے لیے کمشن پر غور کر رہے ہیں۔ دریں اثنا پانامہ لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے تحریری حکم جاری کیا ہے جس میں عدالت نے فریقین کو 15 نومبر تک شواہد اور دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ ضرورت پڑی تو کمشن بنائیں گے یا خود سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو آخری موقع دیتے ہوئے آئندہ سماعت تک دستاویزی ثبوت مانگ لئے اور واضح کیا کہ کمشن کی کارروائی کے دوران کسی قسم کا ریکارڈ پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی چینلز کے مطابق تحریری حکم میں سپریم کورٹ نے فریقین کو ہدایت کی کہ اپنے دعوے کے حق میں دستاویزی ثبوت پیش کریں، فریقین کی باہمی رضا مندی سے 15 نومبر تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے آخری موقع دیا جاتا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ کمشن کی تشکیل سے پہلے عدالت کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ شواہد کا سرسری جائزہ لے، یہ بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ اس حکم نامے سے مقرر ہونیوالے کمشن کے اختیارات میں کمی نہیں ہو گی، وہ جب چاہے کسی بھی ذریعے سے کوئی بھی ریکارڈ مانگ سکتا ہے۔ آن لائن کے مطابق سلمان بٹ اور بنچ کے رکن آصف کھوسہ اور جسٹس عظمت سعید کے درمیان مکالمہ ہوا، وکیل نے وزیراعظم کے بچوں کے جواب پڑھ کر سنائے تو جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز وزیراعظم کے زیر کفالت ہیں جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت نہیں اور دوہزار نو سے اپنے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کررہی ہیں اور اس سے پہلے وہ بیرون ملک مقیم تھیں، مریم نواز نے آف شور کمپنیوں سے بھی فائندہ نہیں اٹھایا،وہ صرف ٹرسٹی ہیں اور لندن کی جائداد سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں، لندن جائدا د خریدنے کے لئے رقم بھی پاکستان سے نہیں بھجوائی گئی۔جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ یہ جائداد کب خریدی گئی،کیا عدالت سے کچھ چھپایا جارہا ہے، جس پر سلمان اسلم بٹ نے جواب دیا کہ ایسا کچھ نہیں، حسن نواز اور حسین نواز کئی سال سے ملک سے باہر ہیں اور اپنا کاروبار کررہے ہیں، وزیراعظم نواز شریف کا بھی اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا جائداد کی دستاویزات مالکان کی تحویل میں ہیں؟ جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ رقم کی قانونی طور پر منتقلی کو بھی ثابت کرنا ہوگا۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات جمع نہ کرانے سے یہی مطلب ہے کہ کچھ چھپایا جارہا ہے۔ پانامہ لیکس معاملے پر عدالت عظمیٰ میں جماعت اسلامی نے مزید ٹرمز آف ریفرنس( ٹی او آرز) جمع کروا دیئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے ایڈووکیٹ اسد منظور بٹ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں متعدد کمشن قائم ہوئے ہیں تاہم ان کمشن کی تجاویز اور فائنڈنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، کمشن نے بنانے کا مقصد پانامہ پیپرز میں نام آنے والے تمام افراد کے غیر قانونی اقدامات سامنے لانا ہے ، کمشن میں سماعت کیلئے عوام کو شامل ہونا چاہئے، کمشن کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے کم از کم 25دن کی مہلت دی جائے، انکوائری کمشن پانامہ پیپرز پر تحقیقات کیلئے فوری سماعت کرے ،کمشن کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی جائے اور عدالت قصور وار کو سزا دے، کمشن کی تمام کارروائی فائدہ مند ہو اور قانون کے مطابق ہو اور تمام تحقیقاتی ایجنسیاں معاہدے کے تحت کمشن کے ساتھ تعاون کریں ، کمشن کے سامنے ہر شہری کو حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی شہری کے خلاف شکایت کرسکے جس نے پاکستان میں یا پاکستان سے باہرغیر قانونی اثاثے بنائے ہیں، رقم منتقل کی ہے یا حقائق چھپائے ہوں یا غلط معلومات فراہم کی ہوں، کمشن ملک سے کرپشن ختم کرنے بارے عدالت کو تجاویز فراہم کرے۔
اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس معاملے پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کے تینوں بچوں مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز نے جواب جمع کروادیا ہے، وزیر اعظم کے بچوں کی جانب سے جواب سلمان اسلم بٹ نے عدالت میں جمع کرایا۔ جواب کے مطابق مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتے، مریم نواز نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی کفالت میں نہیں، وہ 2011 میں اپنے والد کے زیر کفالت نہیں تھیں، 2009 سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، انہوں نے اپنے تمام اثاثے ظاہر کیے ہیں، مریم نواز نے جواب میں کہا ہے کہ وہ شریف خاندان کی کسی جائیداد کی مالک نہیں، 2009 سے پہلے وہ بیرون ملک تھیں، وہ نیسکول اور نیلسن کی ٹرسٹی ہیں تاہم آف شور کمپنیوں سے کوئی فائدہ نہیں لیتیں، اس حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں، حسین نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی زیر کفالت نہیں، وہ 16 سال سے ملک سے باہر کاروبار ہے، لندن کی جائیدادیں 2006 سے پہلے حسین نواز کے نام نہیں تھیں، لندن جائیدادوں کے لیے کوئی رقم پاکستان سے نہیں بھیجی گئی، حسین نواز کے جواب میں کہا گیا ہے کہ جائیدادوں سے مریم نواز کا کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم کے تیسرے بیٹے حسن نواز نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ بھی اپنے والد کی زیرکفالت نہیں ہیں، وہ22 سال سے باہر کاروبار کر رہے ہیں، ان کی بیرون ملک کوئی جائید اد نہیں، مریم نواز محض ٹرسٹی ہیں، کوئی فائدہ نہیں لیتیں، عدالت کو ٹرسٹ ڈیڈ بھی فراہم کی جائے گی، مریم، حسن اور حسین نواز پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، حسن نواز کا کاروبار ملک سے باہر ہے۔ ان جوابات میں کہا گیا ان تینوں میں سے کوئی بھی نواز شریف کے زیر کفالت ہیں نہ ہی کسی کے پاس کوئی عوامی عہدہ ہے۔ اس پر بنچ میں شامل ایک جج نے کہا یہ ہمیں پہلے سے معلوم ہے آپ آگے بتائیں۔ مریم صفدر کی جانب سے داخل کئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان پر آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے بارے میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں۔ جواب کے مطابق مریم 2011ءمیں بھی وزیراعظم کی کفالت میں نہیں تھیں۔ حسین نواز نے اپنے جواب میں موقف اپنایا وہ 16 سال سے بیرون ملک قانون کے مطابق کاروبار کررہے ہیں، 2005ءسے قبل متذکرہ جائیدادیں ان کی نہیں تھیں۔ تاہم انہوں نے اپنے والد کو ایک بار خطیر رقم تحفہ کے طور پر دی تھی۔ اس موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ جواب کے ساتھ دستاویزات کیوں جمع نہیں کرائی گئیں جس پر انہوں نے کہاکہ وقت مختصر تھا البتہ مجوزہ کمشن میں تمام دستاویزات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس پر جسٹس آصف نے کہا کہ اگر آپ خدانخواستہ ایسا نہ کرسکے تو مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ خریداری قانون کے مطابق تھی اور قانون کے مطابق رقم بیرون ملک منتقل کی گئی۔ اس کے بعد آپ سکون سے گھر چلے جائیں۔ حسن نواز نے بھی اپنے جواب میں عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ 20 سال سے بیرون ملک مقیم ہیں اور قانونی طریقے سے کاروبار کررہے ہیں۔ سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ مریم صفدر اپنا ٹیکس ریٹرن باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں، انہوں نے کسی متذکرہ پراپرٹی کی قیمت ادا نہیں کی۔ مریم نواز نیلسن اور نیسکول کمپنی کی ٹرسٹی ہیں، انہوں نے یہ الزام مسترد کیا ہے کہ وہ کسی آف شور کمپنی کی مالک ہیں۔ سلمان اسلم بٹ نے بتایا کہ حسن اور حسین نے عمران خان کی درخواست میں لگائے گئے تمام الزامات مسترد کردئیے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اسلم بٹ سے پوچھا کہ ٹرسٹی کا کام کیا ہوتا ہے؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ ٹرسٹی کا کام اپنی خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ خریداری قانون کے مطابق تھی، عدالت کو مطمئن کریں قانون کے مطابق رقم بیرون ملک منتقل کی گئی، آپ عدالت کو مطمئن کریں۔ درخواست گزار طارق اسد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ کیس عمران خان اور نواز شریف کے خلاف ہے۔ مریم نواز باقاعدہ سے ٹیکس دیتی ہیں۔ حسن اور حسین نواز کا بیرون ملک کاروبار ہے۔ نواز شریف کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔ لندن کے فلیٹس نیسکول اور نیلسن کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ سلمان اسلم بٹ نے جوابات جمع کرواتے ہوئے بتاےا کہ وزیر اعظم کے دونوں بیٹے اور بیٹی بالغ ہیں اور زیر کفالت نہیں، مر یم نواز مستقل ٹیکس دیتی ہیں اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ٹیکس ریٹرن جمع کراتی ہیں جہاں انہوں نے تمام تر اثاثہ جات اور آمدن کو ظاہر کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نوازغیر ملکی رہائشی ہیں، پاکستان سے باہر22 اور 16 سال سے قانونی طریقے سے اپنا بزنس کر رہے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ساتھ مذاق نہ کریں، آپ کی بات سے زیادہ دستاویزات اہم ہیں، مریم نواز نے کو خود کو پہلے زیر کفالت ظاہر کیا تھا۔ اب کیس میں کوئی پیچیدگی نہیں رہی بلکہ بہت ہی سادہ بن چکا ہے کہ وزیراعظم کے خاندان کو ذرائع آمدن اور رقوم کی بیرون ملک منتقلی ثابت کرنا ہوگی۔ دوران سماعت وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنے بچوں کے بزنس اور جائیدادوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وزیر اعظم کے بچوں کو غلط طور پر جواب گزار بنایا گیا ہے، لندن میں فلیٹس بارے میں تنازعہ پیدا کیا گیا ہے یہ جائیدادیں دو کمپنیوں نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹڈ کی ملکیت میں ہیں، اب فلیٹ 16اے موجود نہیں بلکہ اس کو فلیٹ نمبر 16میں ضم کر دیا گیا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے بچوں نے جائیداد کا اعتراف کیا؟ آپ کی بات کا مطلب ہے مریم آج زیرکفالت نہیں جبکہ وزیراعظم نے گوشواروں میں مریم کو زیرکفالت ظاہر کیا تھا۔ جس پر شریف فیملی کے وکیل نے جواب دیا کہ گوشواروں میں ایسی کوئی بات نہیں۔ جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ آپ کی بات سنیں یادستاویزات کو اہمیت دیں گے، جائیدادکب اورکیسے حاصل کی گئی، یہ بھی عدالت کو بتائیں۔ سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ ہم سب کچھ کمیشن کے سامنے رکھیں گے، کمیشن کو بتادیں۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آپ کو 5جواب کیلئے پانچ سال درکار ہیں یا سات سال، آپ ہم سے کچھ چھپارہے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ مریم نواز نے جو ٹیکس دیا اس کی تاریخ کہیں نہیں دی گئی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کو ذرائع آمدن اور بیرون ملک رقم منتقلی کو قانونی ثابت کرنا ہے، ثابت نہ کرسکے توآپ کیلئے کافی مشکلات ہوں گی، جو جوابات آپ نے پڑھے ہیں وہ صرف وقت کا زیاں ہے، ٹرسٹیز کا اگر کمپنیوں پر کوئی کنٹرول نہیں تو پھر اسکا کام کیا ہے، ٹرسٹی کا کیا کام ہوتا ہے۔ سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مالک کے انتقال کے بعد فیصلے ٹرسٹی نے کرنے ہوتے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آف شورکمپنیوں کے کیس میں ایسے نہیں ہوتا، کمپنیوں کی ملکیت سےے انکار نہیں کیا گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسارکیا کہ کیا یہ کمپنیاں پاکستانی حکام کے سامنے ظاہرکی گئیں جس پر وکیل کا جواب تھا کہ وزیراعظم کے بچے پاکستان میں مقیم نہیں، اس لیے ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں نے اپنے جوابات میں غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، درخواستوں پر نتیجہ خیز کارروائی کرنا ہوگی، درخواستوں میں عائد الزامات سے آگے نہیں جائیں گے، کمیشن درخواستوں میں عائد الزامات کی تحقیقات کرےگا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کرہی حکم دیں گے، بادشاہ بن کر نہیں بیٹھے کہ جومرضی حکم دےدیں، ہم جو حکم دیں گے وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دیں گے، ہم تفتیش کا وہ کام کر رہے ہیں جو ہمارا کام نہیں ہے، یہ کام ملک کو انتشار سے بچا نے کے لیے کر رہے ہیں، بنیادی طور پر تحقیقات کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ایک جج صاحب کا نام بھی پاناما میں شامل ہے مگرجج کیخلاف کارروائی کا طریقہ کار الگ سے موجودہے،جوعوامی عہدہ پرنہیں ان کا کیس چلتا رہےگا، اللہ کا شکر ہے ملک میں کچھ مثالی کام ہوئے۔کیس کی تفتیش کرنا بنیادی طور پر سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے، اگر اخباری خبروں کے پیچھے جائیں تو کیس ہی نہ چلاسکیں،کیس میں نام آنے والے چھ سو سے آٹھ سو لوگوں کے خلاف تحقیقات میں کئی سال گزر جائیں گے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سب کا احتساب کیا جائے، جن جن کی کمپنیوں ہیں ان کو شامل کر یں اور جو بھی کر پشن کر رہا ہے اس کو چھو ڑا نہ جائے، وزیر اعظم کا پہلے حساب کیا جائے، کمیشن کو آگے بڑھایا جائے، جن کی بھی آف شور کمپنیاں ہیں ان کو اس معاملے میں شامل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم اس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے رہے ہیں، کیا یہ جا ئیدادیں قانونی طور پر خریدی گئیں ہیں اور اگر قانونی طور پر نہیں خریدی گئیں تو ان کا جواب گزار نمبر ایک کے ساتھ کیا تعلق ہے، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے وکیل نے کہا کہ ہماری پٹیشن کسی بھی خاص شخص کے خلاف نہیں، جن جن لوگوں کا نام آیا ہے ان کے خلاف ملکی اداروں کو تفتیش کرنا چاہیے تھے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ دوسرے فریق کی ذمہ داری بھی ہے وہ خودکوسچاثابت کرے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیس میں کوئی پیچیدگی نہیں رہی،جودستاویزات درکارہیں دوسرافریق فراہم کرکے عدالت کومطمئن کرسکتاہے، تجویزنہیں دےے رہالیکن بظاہرکمیشن کی ضرورت نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعدعدالت کومطمئن کرنامالکان کاکام ہے، عدالت کومطمئن کریں کہ قانونی طریقے سے سب کام ہوا۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ صادق اورامین کافیصلہ کرسکتی ہے،یوسف گیلانی کیس میں بھی عدالت نے ایساہی کیاتھا، بادی النظرمیں جائیدادوں اورآمدن کے درمیان تعلق نظرآرہاہے۔ جن کاپیسہ ہے انہوں نے ہمیں مطمئن کرناہے۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا کہ آج پوری دنیا کو اپ پر اعتماد ہے اور پوری قوم اپ کی جانب دیکھ رہی ہے، نواز شریف پیسہ چھپانے کے عادی ہیں، انہوں نے مریم کو دو کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے دیے۔ کیاان کی بچی معذورتھی یاانہیں تعلیم کے حصول کیلئے ضرورت تھی؟چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ صاحب انہی باتوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنارہے ہیں،نتائج اورحالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کواولین ترجیح دی ہے۔ ایک راستہ ہے کہ کمیشن کے روبروتمام دستاویزات رکھی جائیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تمام دستاویزات منگواکرکمیشن کودی جائیں، کوئی یہ نہ کہے کہ دستاویزات آنے میں وقت لگ گیا؟صفائی کاموقع نہیں ملا۔ جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ شریف خاندان کوثابت کرناہوگاکہ کمپنیاں اورجائیدادکب بنائیں، ہم کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والے نہیں۔ پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے اور ان کو کہا جائے کہ پہلے ثبوت دیں۔ سلمان اسلم بٹ نے جواب دیا کہ دستاویزات اس وقت ہمارے پاس نہیں، ہم تویہ سمجھ رہے تھے کہ دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کر نا ہیں۔
وزیراعظم کے بچے/ جواب

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply