میڈیا کا محاذ اور حکومتی بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے وزیر اطلاعات سینٹر شبلی فراز اورمیڈیا سے جڑے معاملات پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری کی سیاسی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ دونوں افراد اچھی سیاسی اور انتظامی و عسکری شہرت کے حامل ہیں۔ بالخصوص جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ بطور سابق سربراہ آئی ایس پی ار ا ور میڈیا مینجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر روایتی انداز میں میڈیا مینجمنٹ کی بجائے ان معاملات کو جدید انداز اور مربوط رابطہ سازی کی مدد سے چلاتے رہے ہیں۔

جبکہ شبلی فراز ایک اچھا سیاسی چہرہ ہیں اور ان کی جماعت سمیت سیاسی سطح پر ان کے مخالفین نے بھی ان کی تقرری کی تعریف کی ہے۔ دونوں کی اہم خوبی معاملات سے نمٹنے میں جذباتیت سے زیادہ سنجیدگی اور ان کی اپنی شخصیت میں ٹھراؤ کی پالیسی ہے۔ دونوں بہت زیادہ میڈیا میں خود نمائی کے حامی نہیں اور نہ ہی معاملات سے نمٹنے میں جذباتیت و ٹکراؤ کی پالیسی کے حامی ہیں۔

دونوں کی تقرری کی سیاسی ٹائمنگ اس لیے اہم ہے کہ حکومت اور میڈیا یا حکومت اور حزب اختلاف کے حوالے سے میڈیا کے تناظر میں جو جنگ جاری ہے اس میں بداعتمادی کے سائے گہرے ہیں۔ اس کا واضح اعتراف حکومت اور میڈیا دونوں سطحوں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس وقت پانچ بڑے چیلنجز ہیں۔ اول حکومت اور میڈیا سے جڑے تعلقات میں توازن اور بہتر ی سمیت اعتماد کے ماحول کو پیدا کرنا، دوئم میڈیا میں حکومتی کارکردگی، موقف اور سیاسی مخالفین کی سیاست پر حقایق اور شواہد کی مدد سے اپنا مقدمہ پیش کرنا جو جذباتیت اور ٹکراؤ کے مقابلے میں دلیل و منطق اور تضحیک کے مقابلے میں شائشتگی کی بنیاد پر ہو۔

سوئم حکومتی امور میں میڈیا کے محاذ پر تضادات کی پالیسی سے گریز اور ایک ہی مسئلہ پر مختلف انداز میں بیان بازیاں جو انتشار یا کنفیوژن پیدا کرے یا حد سے زیادہ ترجمانوں کی بھرمار کی پالیسی سے گریز کرنا۔ چہارم ریاستی اور خارجی امو رپر ایک مضبوط بیانیہ کی جنگ جو ہمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر مضبوط کرنا، اخباری یا میڈیا کے کارکنوں سے جڑے بے روزگاری یا ملازمت کے عدم تحفظ یا تنخواہوں کی عدم آدائیگی جیسے مسائل پر مربوط پالیسی جیسے امور شامل ہیں۔

نئی میڈیا ٹیم کی تقرری پر دو بڑی تنقید سامنے آئی ہیں۔ اول جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری سے ثابت ہوتا ہے کہ سول حکومت کی رٹ کمزور ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کا پلڑا سول حکومت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ دوئم وزیر اطلاعات شبلی فراز اپنے فیصلوں کی سطح پر آزاد نہیں ہوں گے اور فیصلوں کا اصل اختیار جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے پاس ہوگا اور شبلی فراز کا عہدہ ایک مصنوعی عہدہ ہوگا جبکہ اصل میں طاقت کا مرکز کہیں اور ہوگا۔

جبکہ یہ تقرری ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اہم اہنگی ہے اور اس میں کوئی بڑا ٹکراؤ نہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز پارٹی، حکومت، حزب اختلاف اور میڈیا سے جڑے معاملات پر کام کریں گے جبکہ سیکورٹی اور خارجہ پالیسی سے اہم جڑے معاملات، حکومت اور میڈیا تعلقات میں بہتری پیدا کرنے اور وزیر اعظم سمیت حکومتی امور پر امیج بلڈنگ پر جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کام کریں گے۔ یہ ذمہ داری دونوں میں باہمی مشاورت سے ہوگا اور وزیر اعظم اس کی نگرانی کریں گے۔ اس لیے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری پر تنقید درست نہیں اور واقعی حکومت کو ایسے فرد کی ضرورت تھی کہ ان کی میڈیا مینجمنٹ سے جڑے معاملات جو داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی ان کو بہتر انداز میں چلایا جاسکے۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات کے طور پر فواد چوہدری اور ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان کام کرچکی ہیں اور دونوں جاحانہ حکمت عملی کے تحت اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب جو ٹیم منتخب کی گئی ہے وہ جارحانہ سے زیادہ ٹھراؤ کی بنیاد پر کام کرے گی۔ لگتا ہے کہ حکومت کو اس وقت میڈیا میں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے کوئی بڑی جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایک اعتدال پسندی کی حکمت عملی کے تحت ملک کے سیاسی ماحول کو زیادہ تلخ نہ کیا جائے اور میڈیا کے ساتھ بھی جاری محاذ آرائی کو کم کیا جائے۔ اس لیے اگر یہ ٹیم باہمی اہم اہنگی کی مدد سے کوئی موثر حکمت عملی بنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے سمیت حکومت اور میڈیا کے درمیان تعلقات سمیت دیگر فریقین میں اعتماد سازی موثر انداز میں بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ حکومت کی بڑی کامیابی ہوسکتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ہر وزیر، مشیر، معاون کار اور رکن اسمبلی سمیت پارٹی کے بہت سے راہنما میڈیا میں خود کو نمایاں کرنے کے لیے بلاوجہ کا اشتعال، ٹکراو، الزام تراشیاں، ریٹنگ کی سیاست کا شکار ہونا اور سیاسی مخالفین کے خلاف ناشائستہ انداز کو اختیار کرکے خود حکومت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومتی اکابرین کا اپنے شعبوں سے ہٹ کر ہر موضوع پر بات کرنا اور بے ترتیب یا بے ڈھنگ انداز کو اختیار کرنے کی پالیسی نے بھی بلاوجہ محاذ آرائی کی سیاست کو جنم دیا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ حزب اختلاف کی جارحانہ سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی حکومت کو جوابی حکمت عملی تیار کرنا ہوتی ہے اور اسے پیش کرنا ان کا فطری حق بھی ہے۔ لیکن عملاً اگر یہ ہی جوابی جنگ جذباتیت کی بجائے سیاسی حکمت، تدبر اور فہم و فراست سے لڑی جائے تو اس کے نتائج حکومت سمیت خود رائے عامہ پر بھی اس کا مثبت اثر پڑسکتا ہے۔

وزیر اعظم کی نئی میڈیا ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج اپنی ٹیم کی ازسر نو تشکیل یا حکمت عملی کو نئے اندازمیں تبدیل کرنا بھی ہے۔ کیونکہ سابقہ پالیسی نے ثابت کیا ہے کہ میڈیا کے محاذ کو بہتر انداز میں نہیں نمٹا گیا اور ایک ردعمل کی پالیسی سے ٹکراؤ کی فضا قائم ہوئی ہے۔ اس لیے وفاقی سطح پر نئی میڈیا ٹیم کو صوبائی سطح پربالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنی میڈیا ٹیم میں بہت کچھ بدلنا ہوگا۔ فوج ظفر موج کی صورت میں ترجمانوں کی بجائے مخصوص اور میڈیا کے محاذ پر کام کا تجربہ رکھنے والوں سمیت پارٹی میں اچھی شہرت کے لوگوں کو سامنے لایا جائے جو حکومتی امور کے ساتھ ساتھ پارٹی کی ترجمانی کو بھی موثر انداز میں چلاسکیں۔ اسی طرح حکومتی اور پارٹی کی سطح پر موجود میڈیا ٹیم کے درمیان میں بھی جو خلیج ہے وہ بھی ختم ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم کا یہ گلہ کافی حد تک بجا ہے کہ میڈیا کے محاذ پر حکومتی اقدامات، کارکردگی اور نمایاں پہلوؤں کو جو کافی موثر ہیں مثبت انداز میں اجاگر نہیں کیا جاتا۔ اس کی بڑی وجہ میڈیا ٹیم میں حد سے زیادہ افراد یا مختلف کمیٹیوں یا متبادل کمیٹیوں کی تشکیل سے اصل ٹیم کو خراب کرنا بھی ہے۔ کیونکہ وفاقی یا صوبائی سطح پر جو بھی ٹیم میڈیا کے محاذ پر بنائی جائے اسے جب تک وزیر اطلاعات یا معاون خصوصی کے تابع نہیں کیا جائے گاتو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم خود ان معاملات کی براہ راست نگرانی کریں لیکن اصل کام وذرات اطلاعات کا ہی ہونا چاہیے تاکہ چینج آف کمانڈ خود بہتر طور پر فیصلہ کرسکیں۔ یہ حکمت عملی کہ کچھ لوگ براہ راست وزیر اعظم کے تابع ہوں اور وہ وزیر اطلاعات کو جوابدہ نہ ہوں درست حکمت عملی نہیں ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں اس تاثر کا پیدا ہونا کہ وہ میڈیا میں حکومتی امور پر حد سے بڑھتی ہوئی تنقید سے میڈیا پر بلاوجہ تنقید کرتے ہیں درست حکمت عملی نہیں۔ میڈیا کے ساتھ حکومتی امور میں ٹکراؤ فطری مگرجذباتی یا ٹکراؤ کی حکمت عملی درست نہیں۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ میڈیا بھی اپنا کردار اسی صور ت میں موثر کرسکے گا جب خود حکومت کی اپنی حکمرانی یا گورننس کی کارکردگی بھی موثر ہوگی، بغیر کارکردگی کے میڈیا ٹیم بھی کچھ نہ کرسکے گی۔

یہ حکومتی میڈیا کی ٹیم کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ساتھ ریاست کے بیانیہ کو بھی داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مثبت انداز میں پیش کرے۔ پاکستان کے عالمی اور علاقائی ممالک سے تعلقات سمیت ایک پرامن اور محفوظ یا ذمہ دار پاکستان کا بیانیہ دنیا میں پیش کرنا ہماری سیاسی ضرورت ہے۔ بھارت، افغانستان، ایران، چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ہماری میڈیا حکمت عملی موثر ہونی چاہیے۔ اس میں یقینی طور پر وزیر اعظم کے ترجمان جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جن کی سیکورٹی سمیت دیگر عالمی معاملات پرکافی گہری نظرہے وہ حکومت اور ریاست کے اداروں میں ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت کی نئی میڈیا ٹیم پرانی ٹیم سے کتنی مختلف ہے اور روایتی انداز کے مقابلے میں کس حد تک نیا پن دکھاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *