کالا دپٹہ سرخ شلوار


خیر برتھ ڈے پر محلے کے سب بچے آئے تھے۔ خوب ہلا گلا ہوا تھا۔ گھر بھی خوب سجا تھا، بڑا سا کیک کٹا۔ میوزک بجا، تالیاں، مبارکباد، بہت سارے تحفے۔ بڑا مزہ آیا تھا۔

ابو نے اپنے کام کو بڑھا لیا تھا۔ وہ کہتے تھے میں بہت سارے پیسے کمانا چاہتا ہوں تا کہ اپنے بچوں کی ساری خواہشیں پوری کر سکوں۔ انہیں کئی بار دوسرے شہر بھی جانا پڑتا تھا اور کئی بار وہ وہیں رہ جاتے تھے مگر دوسرے دن لازمی آ جاتے تھے۔

وہ ایک ایسا ہی دن تھا۔ ابو کہیں گئے ہوئے تھے۔ خالد چچا بھی گھر میں نہیں تھے۔ بھائی ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف تھا اور میرا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ آئس کریم کھاؤں۔ آئس کریم ہماری نکڑ کی دکان سے مل جاتی تھی۔ میں اور بھائی کئی بار وہاں سے کھانے پینے کی چیزیں لاتے تھے۔ کبھی کبھی میں اکیلی بھی لے آتی تھی۔ کہیں دور تو جانا نہیں ہوتا تھا۔ امی کچن میں تھیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ آئس کریم لانے جا رہی ہوں۔ باہر نکلی تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میرے گالوں سے ٹکرائی۔

آج میں نے نہانے کے بعد اپنا فیورٹ سوٹ پہنا تھا۔ آسمان پر بادل تھے۔ مجھے ایسا موسم بہت اچھا لگتا تھا۔ امی تو پکوڑے بنا رہی تھیں لیکن میرا دل آئس کریم کھانے کے لئے مچل رہا تھا۔ لیکن جب دکاندار نے بتایا کہ آئس کریم نہیں ہے تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ وہ اتنی بڑی دکان تو تھی نہیں۔ کئی بار وہاں سے مطلوبہ چیزیں نہیں ملتی تھیں۔ میں دل مسوس کر رہ گئی اور مردہ قدموں سے واپسی کی راہ لی۔ تب مجھے ایک آواز سنائی دی۔

”کیا ہوا گڑیا؟ کیوں پریشان ہو؟“

میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ انکل عمران کی آواز تھی۔ وہ اسی محلے میں رہتے تھے۔ ان کا ہمارے گھر بھی آنا جانا تھا۔ ابو اور امی ان کی بڑی تعریفیں کیا کرتے تھے۔

”بہت اچھا لڑکا ہے۔ کبھی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کی، ہمیشہ سر جھکا کر بات کرتا ہے۔“ امی کہتیں۔
”خوش الحان بھی ہے اور نمازی بھی۔ روز میں اسے مسجد میں ملتا ہوں۔“ ابو کہتے۔

”ٹھیک کہتے ہیں آپ، ورنہ آج کل کے نوجوان تو انٹر نیٹ، فلموں، گانوں اور نہ جانے کیسی کیسی خرافات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔“

تو وہ انکل عمران تھے۔ ان کے چہرے پر بڑی شفقت بھری پریشانی تھی۔
”مجھے بتاؤ بٹیا؟“
”کچھ نہیں انکل! اتنا دل چاہ رہا تھا، آئس کریم کھانے کو اور آج ہی اس کے پاس آئس کریم نہیں ہے۔“

”اوہو! بس اتنی سی بات۔ یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ اس دکان میں نہیں ہے تو کیا ہوا۔ ساتھ والی دکان میں تو ہے۔ میں ابھی تو خرید کر گھر دے آیا ہوں۔“ انکل نے پیار سے کہا۔

”اچھا! ساتھ والی دکان میں ہے۔“ میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
”ہاں، بالکل ہے۔“ انکل نے سر ہلایا۔
”لیکن میں وہاں کبھی نہیں گئی۔ میری امی نے مجھے بس اس دکان تک آنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔“

”بچوں کو اکیلے دور تو بالکل نہیں جانا چاہیے۔ ٹھیک ہی تو کہتی ہیں خالہ جان۔ آج کل زمانہ بہت خراب ہے۔ بچوں کو اغوا کرنے والے بھی پھرتے ہیں۔ لیکن وہ دکان دور تھوڑی ہے، یہاں ساتھ ہی ہے۔“ انکل عمران نے سر ہلایا۔

”مجھے تو نہیں پتا کہاں ہے؟“
”میں ساتھ چلتا ہوں، ویسے بھی بچوں کو اکیلے نہیں جانا چاہیے۔“
ایک دم جیسے میرے منہ میں آئس کریم کا ذائقہ گھل گیا۔ میں نے کچھ نہ سوچا اور چل پڑی۔

”میرے ساتھ کوئی ڈر نہیں۔ میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں۔ کوئی اغوا کرنے والا نظر آیا تو اسے مزہ چکھا دوں گا فکر مت کرو۔“ انکل عمران نے کہا۔

میں ان کا ہاتھ پکڑے چلتی گئی، دکان نظر نہیں آ رہی تھی۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔
”انکل! دکان کہاں ہے؟“

”بس بیٹا پہنچ گئے، یہاں ساتھ ہی ہے۔“ انکل عمران کے اس جملے کے ساتھ ہی ان کی میرے ہاتھ پر گرفت مضبوط ہو گئی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ڈر حد سے بڑھنے لگا لیکن تب تک ہم ایک ویران سی سڑک تک آ پہنچے تھے۔ یہاں ایک زیر تعمیر مکان تھا۔ میں نے ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا مگر انکل عمران کی گرفت سے خود کو نہ چھڑا سکی۔ میں نے چیخنا چاہا تو بھاری ہاتھ میرے منہ پر جم گیا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ میں پھنس چکی تھی۔ کیسے ایک انسان اچانک شیطان بن جاتا ہے۔

وہ انسان نہیں تھا۔ بھیڑیا تھا، نہیں بھیڑیا اتنا خوفناک نہیں ہوتا، کوئی اور درندہ تھا۔ ایک ایسا درندہ جس کے بارے میں نہ میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا نہ کسی سے اس کے بارے میں سنا تھا۔ جسم تو جسم ہے میری تو روح تک درد سے کراہ رہی تھی۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی انتہائی مکرو ہ شکل والا دیو میری ہڈیاں چبا رہا ہے۔ درد بڑھتے بڑھتے ناقابل برداشت ہوا۔ ایسا لگا جیسے گردن ٹوٹ رہی ہے پھر اچانک مجھے سکون کا احساس ہوا۔ میں ایک دم ہلکی پھلکی سی ہو گئی۔ دیوار کے ساتھ ایک نیم برہنہ جسم لٹکا تھا۔ جس کے گلے میں دپٹے کا پھندہ تھا۔ وہ بھیانک عفریت ابھی وہیں تھا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا تو میں ایک بار پھر سہم گئی۔

وہ مجھے جہاں پھینک کر گیا تھا، وہاں بہت بد بو تھی۔ میری آنکھیں کھلی تھیں اور بہت بڑی بڑی لگ رہی تھیں۔ دپٹہ گلے میں تھا۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ میرے چاروں طرف اندھیرا تھا۔ بہت اندھیرا تھا۔ مجھے امی ابو اور بھائی بہت یاد آ رہے تھے۔ کتنا اچھا ہوتا میں اس وقت اپنے گھر میں آئس کریم کھا رہی ہوتی۔ لیکن میں یہاں تھی، کچرے کے ڈھیر پر۔ گندی مکھیاں میرے چہرے پر بیٹھنے لگیں۔ مجھے ان سے بہت گھن آ رہی تھی۔ پھر بہت گندے کیڑے میرے جسم پر رینگنے لگے۔ اف میرے ابو کو بلاؤ۔ وہ مجھے ایک سیکنڈ یہاں نہیں رہنے دیں گے۔

میں نے بڑا انتظار کیا۔ کوئی نہیں آ رہا تھا۔ پھر سورج نکل آیا۔ تیز ہوا چلنے لگی۔ کچرے کے اس ڈھیر کے ساتھ ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ تیز ہوا کے زور سے میرے جسم کے قریب پڑی سرخ شلوار اڑ کر دیوار سے اٹک گئی۔ اچانک میں نے کسی کی تیز آواز سنی۔

”ارے! وہ دیکھو! سرخ شلوار۔“
کوئی دیوار کے قریب آیا تھا۔ پھر اس نے چیخ کر کہا۔
”وہ یہاں ہے۔ اس کے گلے میں کالا دپٹہ بھی ہے۔“
اس کے ساتھ ہی دو تین نوجوان دیوار سے کودے۔ ایک دو نے ناک پر رومال رکھے ہوئے تھے۔
”اوہ مائی گاڈ! درندے نے کیا حال کر دیا۔“
”آؤ بھائی! لاش لے جائیں۔ وہ کتنے پریشان ہیں۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو گئے ہیں۔“

جب وہ محلے کے نوجوان مجھے گھر لے کر گئے مجھے وہاں اپنے ابو اور امی ملے ہی نہیں۔ میں نے تو اپنے ابو کو کبھی ایک آنسو بھی بہاتے نہیں دیکھا تھا اور وہ شخص تو دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ اس کے آنسو ہی نہیں تھمتے تھے۔ زور زور چلا رہا تھا۔ ”میری زینب۔ میری زینب۔“ اور میری ماں۔ جو ہمیشہ بولتی رہتی تھی چپ کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ عورت تو پتھر کے بت کی طرح ساکت تھی نہ پلکیں جھپکتی تھی نہ کسی کی طرف دیکھتی تھی۔ اس کے قریب عورتیں بین کر رہی تھیں اور اس کی آنکھوں میں ایک آنسو نہ آتا تھا۔ شاید وہ کوئی اور لوگ تھے میرے امی ابو مر چکے تھے۔ تب احساس ہوا، میں بھی تو مر چکی تھی لیکن میں مرنا نہیں چاہتی تھی اور اس دن تو بالکل بھی نہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2