نقل مکانی کرنے والے پرندے اور ہم
نقل مکانی کرنے والے پرندوں کاعالمی دن ہرسال مئی کے دوسرے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے لوگوں کی نقل وحمل معمول کی طرح نہیں ہیں۔ یوں اس دن کوروایتی طریقوں سے منانا ممکن نہیں۔ ہوسکتا ہے سرگرم کارکن ڈیجٹل ذرائع سے اس کی تشہیرکررہے ہوں۔
اس بارپرندے ان کے گرم مسکنوں میں تھے تب دنیا کولاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ شاید اس بار پرندوں کوکچھ سکون نصیب ہوا ہوگا۔ اس طرح امید کرتے ہیں جب 2021 میں پرندے دوبارہ یہاں پہنچیں توحالات اور بھی بہتر ہوں۔
کہیں جانے اورسفرکرنے کے حوالے سے انسانوں کے اہتمامات دیکھیں تووہ کیا نہیں کرتے۔ سواری سے لے کر کھانا کھانے تک، رابطہ کاری سے جان کی حفاظت تک ایک مکمل بندوبست نظر آتا ہے۔ لیکن پرندوں کی زندگیاں دیکھیں۔ ایسا گمان گزرتا ہے کہ یہ کسی ڈھابے پر رکے ہیں کھانا کھا رہے ہیں کہ کوئی بندوق والا آکر ان کو مارکر ان کی باڈی بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
شاید فرق یہ ہے کہ کوئی آکر ان بندوق والوں سے یہ نہیں پوچھتا ہے کہ تم نے میرے رشتہ دار، دوست اور بھائی کو مارا ہے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ تو اگلی بار بندوق والا بندوق اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لے گا کہ ان کو خون کا بدلہ اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو وہ شاید بندوق اٹھانے کا ارادہ ترک کرے۔
کہتے ہیں کبھی یہاں 600 سے زیادہ اقسام کے پرندے آتے تھے۔ شکار یا دیگرمداخلتوں کی وجہ سے اقسام بتدریج کم ہوتی رہی ہیں۔ یا پرندوں نے اپنا رخ بدل دیا ہوگا اب وہ کہیں اور جگہ جانے لگے ہیں۔
ہمارے یہاں کی نسبت مغربی ملکوں میں اس حوالے سے آگاہی ایک بہتر درجہ پر ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ بہتر ہے۔ سنا ہے کہ وہاں بہت سارے گروپ، ادارے اورفاونڈیشنز ہیں جو پرندوں کی بقا کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر اس بات کوقانون کی عمل درآمد کے تناظر میں دیکھیں تووہ قانون کا اطلاق ہم سے زیادہ بہتر کرتے ہیں۔
ہمارے یہاں جو اچھے لوگ تھے وہ ان کی زندگی کو دیکھ کر شاعری بھی کرتے تھے جیسے کونج پر شاعری۔ بہرحال انسان کسی نہ کسی شکل میں پرندوں سے متاثررہا ہے۔ انسان نے ان کی سفرکرنے کے انداز کو دیکھ کر جہازوں کے ڈیزائن بھی اس طرح بنائے۔
یہ پرندے قدرت کی قوانین کے تحت سردی کے مسکنوں میں اس وقت تک رہتے ہیں جب تک موسم قابل برداشت ہے۔ جہاں ان کے کے لئے خوراک ڈھونڈنا مشکل ہوگیا تویہ اس کو اپنے لئے فطرت کا فیصلہ سمجھ کرکہ پھرایک لمبی اڑان کی تیاری شروع کرتے ہیں۔ اس دوران وہ اپنی خوراک میں تبدیلی لاتے ہیں تاکہ ان کے جسم میں چرپی کی مقدار زیادہ رہے۔
وہ جانتے ہیں کہ ان کی سفر کے اداب کیا ہیں۔ اور وہ کس طرح پروازکریں تاکہ سفر ان کو تھکا نہ دے۔ وہ انگریزی کے لیٹر ”وی“ کی مانند اپنی صف بندیاں کرتے ہیں۔ پرہلانے سے ان کے پیچھے کی ہوا نیچے چلی جاتی ہے لیکن ان کے سائیڈ کی ہوا ان کے سفر کو موافق بنا دیتی ہے۔ اڑان کی مظہر یوں ہے کہ اس کا بوجھ ٹیم لیڈر یا اڈان کی کیپٹن کے کاندوں پر ہوتا ہے۔ لیکن اس کھیل میں یہ بھی اصول موجود ہے کہ کیپٹن وقفے وقفے سے بدلتا رہے۔ اس طرح وہ ہزاروں میل کی مسافت تھکے بغیر کرتے ہیں۔
یہ راستے کا تعین سورج کی روشنی، چاند کی روشنی ستاروں کی موجودگی، زمین کی مقناطیسی خاصیت، دریاوں کے پانی سے، پہاڑوں اور زمین کی بوباس کو سونگھ کرکرتے ہیں۔ اپنے جسم میں قدرتی کلاک کی وجہ سے یہ وقت کا تعین کرتے ہیں۔
کہاں اور کتنی دیر کے لیے قیام کرنا ہے یہ تمام فیصلے یوں لیتے ہیں جیسے ایک خودکار آلہ فطرت نے پہلے سے نصب کررکھاہو۔ ان پرندوں کی یہاں آمد اپنے مخصوص راستوں سے ہوتی ہوئی، اگست، اکتوبر سے مختلف مسکنوں میں پہنچنا شروع ہوتے ہیں، اور جب ان کے سردی کے گھروں میں موسم بدلنے لگتا ہے تویہ فروری کے مہینے سے واپس جانا شروع کرتے ہیں۔ اور اپریل کے آخر تک یہ تقریباً تمام واپس چلے جاتے ہیں۔
کافی پرندے مختلف عوامل کی وجہ سے آج انٹرنیشنل یونین فار کنسرویشن اف نیچرنامی ادارہ کی سرخ فہرست پرہیں۔ اس کا مطلب ہے کی ان کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
کبھی پرندوں کی تعداد زیادہ تھی یا لوگ شکار کم کھلیتے تھے یا ان دنوں میں ان کا شاید کاروبار نہں ہوتا تھا کہ پرندوں کی تعداد بھی اتنی جلدی کم نہیں ہو جاتی تھی لیکن اب کہتے ہیں کہ ان کی تعداد ہرسال کم ہوتی جارہی ہے۔
کچھ اشارے ہیں پاکستان میں بھی ان پرندوں کی تحفظ کے حوالے سے لوگ حساس ہوتے جارہے ہیں۔ اس فرق کو کچھ لوگ فوٹوگرافرز کی تعداد بڑھنے کے حوالے سے لے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ہمارے سرکاری عہدہ داروں کو یہ سوچھنا چاہیے کہ کچھ مراعات کی خاطران کے شکار کی اجازت کسی کو بھی نہ دیں۔ تاکہ ان کی خوبصورتی اور ان کی آوازیں ہمارے کانوں میں یوں ہی رس گھولتی رہیں تاکہ ہم ان کو لے کر نیا ادب تخلیق کرتے رہیں اور دوستی کی نئی مثالیں قائم کریں۔ بہت بڑے دعوے نہ کریں لیکن ہم اتنا عہد تو کرسکتے ہیں کہ یہ مہمان پرندے ہمارے دسترخوان کی زینت نہیں بنیں گے۔


