گل بوزا اور باقی چھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


“How many are you, then,” said I,
“If they two are in heaven?”
Quick was the little Maid ‘s reply,
“O Master! we are seven.”
“But they are dead; those two are dead!
Their spirits are in heaven! “
‘Twas throwing words away; for still
The little Maid would have her will,
And said, “Nay, we are seven!”
——-We Are Seven (BY WILLIAM WORDSWORTH)

دائمی سکون۔ ۔ ۔ گل بوزا کو احساس تھا کہ اگر یہ سکون کہیں ہے تو وہ صرف اس کے پاس ہے، اس علاقے میں کہیں نہیں۔ حاجی صاحب کے پاس بھی نہیں، جن کا گھر اچانک ساتھ گھروں کے درمیان آج گم ہوگیا تھا۔ اسے والد صاحب کی بات یاد آئی جو کہا کرتے تھے، جن کے دماغ کمزور ہوتے ہیں، وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ دبلے پتلے اور پستہ قد گل بوزا کو کبھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کوئی پر اسرار انجانی طاقت کیسے اس دماغ کے ساتھ کھیلتی ہے۔

کمزور دماغ، وہ اس خیال سے بار بار خوش ہوتا رہا اور اسے حاجی صاحب یاد آتے رہے، جن کا گھر اچانک سات گھروں کے درمیان سے غائب تھا۔ یہ علاقہ کوئی زیادہ زرخیز نہیں تھا جب اس کے آبا و اجداد یہاں آئے تھے۔ گل بوزا کو صرف والد کا چہرہ یاد تھا۔ چھوٹا سا قد، ادھر ادھر پہاڑیوں میں گھومنے کے بعد، دنیا بھر کی خبروں کی پٹاری ساتھ لے کر آتے۔ پہلی بار انہوں نے ہی اجنبیوں کی بڑی سی گاڑی کو دیکھا تھا، جوزعفران کی کاشت لگانے آئے تھے۔

گل بوزا نے پوچھا۔ اس سے کیا ہوگا۔ زعفران کی کھیتی ہوگی۔ پھر اس سے کیا ہوگا۔ والد نے کہا۔ اس سے کچھ لوگ کم ہوجائیں گے۔ گل بوزا کو یاد ہے، اس کے بعد اس کے والد رکے نہیں، دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ اس علاقہ میں اس کی برادری کے کئی خاندان آباد تھے۔ پھر یہ خاندان یہاں سے چلے گئے۔ گل بوزا کے علاوہ حاجی صاحب کا خاندان رہ گیا۔ گل بوزا اپنی انگلیوں پر حساب کرتا رہتا۔ ایک دو تین چار۔ ۔ ۔ گل بوزا کو یقین تھا کہ اسے سات تک کی ہی گنتیاں آتی ہیں۔

گنتے گنتے وہ تاریخ کی سیر کو ہولیتا۔ کبھی اس علاقے میں شاہ بلوط کے درخت تھے۔ تازہ ہواؤں کا رقص تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں خوشگوار، تازہ ہواؤں کے ساتھ کئی چہرے تھے، جن کے نقوش بھی اب باقی نہیں تھے۔ گل بوزا کو یاد ہے، جب اس اطراف سے جانے والے آخری خاندان نے اپنا بوریہ بستر باندھا تھا۔ ان میں ایک نوجوان تھا۔ گل بوزا نے اس سے پوچھا۔

’ اب کب آؤگے۔‘
’کبھی نہیں۔‘
’یہ جگہ تمہاری تاریخ کا حصہ ہے۔‘

’ہسٹری از اے بنک۔‘ نوجوان سنجیدگی سے بولا۔ ایک لا یعنی عمل۔ ایک دن ہم اس تاریخ کے بلیک ہول میں دفن ہوجائیں گے۔ ’

ہو ہو۔ ۔ ۔ گل بوزا زور سے ہنسا۔ اس نے حاجی جی سے اس کا مطلب پوچھا تو وہ پہلے ہنسے اور پھر سنجیدہ ہوگئے۔ زعفران چٹانوں کی جڑیں کمزور کررہا ہے۔ گل بوزا نے معصومیت سے پوچھا۔ زعفران کا چٹانوں سے کیا لینا۔ زعفران تو آپ ایک گملے میں بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ گل بوزا کو یاد ہے، حاجی صاحب کا چہرہ سخت ہوگیا تھا۔ انہوں نے بغیر گل بوزا کی طرف دیکھے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ اب زعفران کہیں کسی علاقے میں کاشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان پر سیاہ بادلوں کا سایہ ہے۔ یہ کہیں بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

حقیقتاً اس فلسفے کو گل بوزا اس وقت تک سمجھ نہیں پایا، جب تک نگاہوں سے حاجی صاحب کا مکان گم نہیں ہوا تھا۔ ہمیشہ کی طرح تازہ ہوا کھانے وہ گھر سے نکلا تو ٹھہر گیا۔ ۔ ۔ لگتا ہے جنات حاجی صاحب کا مکان اٹھاکر چلتے بنے۔ وہ باقی چھ مکان کے قریب آیا۔ کچھ لوگ دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ اس نے اشارے سے دریافت کیا۔

’ یہاں حاجی صاحب کا مکان تھا۔‘
’یہاں کسی کا مکان نہیں تھا۔‘
’نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کل تک۔ ۔ ۔‘
’کل تک بھی یہاں کوئی نہیں تھا۔ بلکہ کوئی تھا ہی نہیں۔‘
’یہاں ایک بکری بندھی ہوتی تھی۔‘
ان میں سے ایک نے زور سے ٹھہاکہ لگایا۔ یہ بھی جھوٹ ہے۔ ہم نے یہاں کوئی بکری نہیں دیکھی۔

گل بوزا کو یقین تھا، وہ لوگ سچ بول رہے ہیں۔ ایسی کوئی تاریخ تھی ہی نہیں۔ اسے نوجوان کا جملہ یاد آیا۔ ہسٹری از اے ہنک۔ گل بوزا کو یقین تھا کہ تاریخ کی شکل ضرور کسی راکشس سے ملتی ہوگی جو بڑا سا منہہ کھول کر زندہ لوگوں کو نگل لیتا ہے۔ اس بار اس نے پھر گنتی گنی۔ ۔ ۔ ایک دو تین چار۔ ۔ ۔ پانچ چھ سات۔ ۔ ۔ پھر اچانک خیالوں میں اس نے راکشس کا چہرا دیکھا اور احساس ہوا کہ راکشس بھی اس کی طرف دیکھ رہا ہے اور دبے قدموں سے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔

گل بوزا خوف زدہ ہوکر تیزی سے بھاگا لیکن تب تک تیز بارش شروع ہوچکی تھی۔ بارش سے بچنے کے لیے گل بوزا گھر آیا۔ اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو پلنگ پر لیٹی تھی۔ اس کے دونوں بیٹوں نے اس کی طرف دیکھا اور زور سے ہنسے۔ گل بوزا کے پاس بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانی برساتی تھی جوجگہ جگہ سے زندگی کی طرح ادھڑ گئی تھی۔ برساتی پہن کر گل بوزا باہر آیا اور ہمیشہ کی طرح چلتا ہوا پہلے اپنے دفتر آیا۔ اس دفتر میں اس کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی۔

کسی نے بھی اس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ وہ ادھر ادھر طواف کرتا رہا۔ ریٹائر ہونے کے بعد بھی گل بوزا ہر روز دفتر کے چکر ضرور لگاتا تھا۔ جب گل بوزا نے دیکھا کہ کوئی بھی اس سے بات نہیں کررہا تو وہ باہر نکل آیا۔ وہ دوبارہ حاجی صاحب کے گھر کی طرف چلا۔ ۔ ۔ اسے یقین نہیں تھا کہ راتوں رات کوئی مکان اس طرح بھی غائب ہوسکتا ہے کہ اس کی جڑیں تک محفوظ نہ ہوں۔ کوئی ایسی نشانی نہیں کہ کہا جائے، کبھی یہاں کوئی مکان بھی ہوا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ہسٹری از اے بنک۔ گل بوزا مسکرایا۔

گل بوزا کے جوتے پانی سے تر تھے۔ اسے شدت سے احساس تھا کہ جوتے کی سلائی کئی جگہ سے کھل گئی ہے۔ ایک خالی جگہ زمین پر جھک کر اس نے جوتے اتارے اور ہاتھ میں لے لئے۔ اس نے پلٹ کر حاجی جی کے مکان کودوبارہ دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے انگلیوں سے گننے کی کوشش کی، جیساکہ اس کی عادت رہی تھی۔ ایک دو تین چار پانچ چھ سات۔ دائیں طرف تین اور بائیں طرف تین۔ درمیان میں حاجی صاحب کا گھر۔ ایک حاجی صاحب۔ ایک ان کی بیوی۔ ایک گل بوزا۔ ایک اس کی بیوی۔ ایک اس کی چھوٹی بیٹی الوزہ۔ اور اس کے دو لڑکے۔ کل ملاکر سات۔ ابھی دو دن پہلے ہی حاجی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ سلام علیکم کے بعد حاجی صاحب نے مسکراکر گل بوزا کو دیکھا تھا۔

’ موسم سرد اور خشک ہے۔ سورج نے اپنا ڈیرا اٹھالیا۔ بارش ہوگی، برفباری کا بھی امکان ہے۔‘
’ سورج نے ڈیرا کیوں اٹھالیا؟‘
’ آسمان کو دیکھو۔ دھندلا پڑ گیا ہے۔ بارش کی پیشین گوئی ہے۔ بارش ہوگی تو زعفران کھلیں گے۔‘

گل بوزا کو یاد ہے جب اس کے آبا واجداد نے اس پہاڑی علاقہ میں قدم رکھا تھا، اس وقت تک یہاں زعفران کی کھیتی نہیں ہوتی تھی۔ گزشتہ نصف صدی میں یہ علاقہ بہت حد تک تبدیل ہوا تھا۔ اس دن یہ تبدیلی اس نے حاجی صاحب کے چہرے پر دیکھی تھی۔

’ پھر کیا ارادہ ہے؟ ، گل بوزا نے معصومیت سے پوچھا۔
’ زعفران کھلیں گے۔ خوشبو پھیلے گی اور زمین کم ہوجائے گی۔‘

گل بوزا زور سے ہنسا۔ ہاتھ میں جوتے پکڑے وہ دیر تک حاجی صاحب کے جملوں میں کھویا رہا۔ پھر آگے بڑھ گیا۔

نشیب میں اتر کر راستہ بلندی کی طرف گیا تھا۔ اب یہ راستہ گل بوزا کو پریشان کرنے لگا تھا۔ پہاڑ کی چوٹیاں دور تک چلی گئی تھیں۔ کچھ لمبے چٹانی تختے پہاڑ کے ساتھ اس طرح ٹکے ہوئے تھے کہ مثلث جیسے منہ والا غار بن گیا تھا۔ غار کی لمبائی تین سے چار میٹر کی ہوگی۔ اور غار کا رخ ایسا تھا کہ اندر سورج کی روشنی نہیں آتی تھی۔ گھر سے یہاں تک فاصلہ مشکل سے دو کیلو میٹر ہوگا۔ گل بوزا کو یہ جگہ پسند تھی۔ وہ اکثر بلندیاں طئے کرکے خود کو غار کے اندر چھپا لیتا۔

چٹانی تختے سے سر کو لگاکر آنکھیں بند کرلیتا اور کافی دیر تک اسی کیفیت میں رہتا۔ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ غار، اندھیرے اور چٹانی تختے سے اس کا گہرا رشتہ ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمو دار ہوجاتی کہ آیا یہ چٹانی تختے اچانک ایک دوسرے سے جدا ہوگئے تو کیا ہوگا۔ مثال کے لئے قدرتی آفات، تیز بارش، آندھی طوفان میں چٹانی علاقوں میں ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ گل بوزا کے لئے اندازہ لگانا یا تصور کی وادیوں سے کھیلنا بھی اس کا محبوب مشغلہ تھا۔

مثال کے لئے وہ سوچتا کہ چودہ بڑے چٹانی تختے سے مل کر یہ غار پیدا ہوا ہے تو پہلے کون سا تختہ جدا ہوگا۔ دوسرے تختے کی باری کب آئے گی۔ کتنی دیر میں تیسرا تختہ چوتھے تختے سے ٹکرائے گا۔ اور یہ چودہ تختے مل کر کتنی آواز پیدا کریں گے۔ اور ان کی گونج کہاں تک جائے گی اور ان تختوں کے اندر دبنے اور ختم ہونے میں اسے کتنا وقت لگے گا؟

بلندی کی طرف چڑھتے ہوئے گل بوزا کچھ دیر کے لئے ٹھہر گیا۔ سامنے ایک درخت کی شاخ پر مینا بیٹھی تھی۔ مینا کے پیر اور پنجے مضبوط ہوتے ہیں۔ گل بوزا کو پتہ تھا کہ مینا انسانی آواز کی نقل اتارتی ہے۔ گل بوزا کو یقین تھا، یہیں آس پاس مینا کا گھونسلہ بھی ہوگا۔ اس نے بہت دنوں بعد مینا کو دیکھا تھا۔ اور یہ خیال بھی آیا تھا کہ مینا کی نسلیں اب معدو م ہوتی جارہی ہیں۔ غار کے اندر پہنچ کر اسے خیال آیا کہ مینا کو دیکھنے کے لئے وہ اچانک رک کیوں گیا تھا۔ تاریکی میں ایک چہرہ نمودار ہوا پھر یہ چہرہ انوزا میں تبدیل ہوگیا۔ ایک دن انوزا اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس غار تک آئی تھی۔

گل بوزا۔ چلو۔ ۔ ۔
لیکن کہاں۔ ۔ ۔
چلو نا۔ گل بوزا۔ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں۔

غار سے باہر آکر، انوزا کے ساتھ تیز چلتا ہوا وہ ان باہر کے لوگوں سے ملا۔ کل ملاکر چار لوگ تھے۔ ان میں ایک عورت تھی۔ عورت نے سرخ رنگ کی ساڑی پہن رکھی تھی۔ یہ چاروں بڑی سی گاڑی میں آئے تھے۔ ان میں سے ایک علاقے کا مہنت تھا۔ اس کی پیشانی پر لال ٹیکا لگا تھا۔

پہلا سوال عورت نے کیا۔ یہ تمہارا مکان ہے۔
’ہاں۔‘
کاغذات ہیں؟
’کیسے کاغذات۔ ۔ ۔ ؟‘
’جو بتا سکیں کہ یہ تمہارا مکان ہے۔‘
گل بوزا حیران ہوا۔ کیا ایسابھی کوئی کاغذ ہوتا ہے۔ ؟

ایک دوسرے افسر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ انہیں کچھ نہیں پتہ۔ یہ گھونسلہ بناتے ہیں۔ انڈے دیتے ہیں اور ایک دن مر جاتے ہیں۔

عورت کا لہجہ سخت تھا۔ پرندوں کے لئے کچھ دن اپنے گھونسلے میں رہنا کافی ہوتا ہے۔ گل بوزانے انوزا کی طرف دیکھا۔ گاڑی کے جانے کے بعد گل بوزا، انوزا کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ زمین کے پاس ایک بکسہ پڑا تھا۔ بکسے میں بہت سے کاغذات تھے۔ وہ دیر تک انوزا کے ساتھ ان کاغذات کو پلٹتا رہا۔ مگر آخر آخر تک اس کو سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ عورت اس سے آخر کیسے کاغذات طلب کررہی تھی۔ گل بوزا نے کاغذات کے ڈھیر سے ایک کا غذ نکالا۔

اس پر ایک مرغے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ وہ مسکرا یا۔ انوزا کے لئے یہ تصویر اس نے خود بنائی تھی۔ ایک دوسرے کاغذ پر کچھ آڑی ترچھی لکیریں تھیں۔ یہ لکیریں انوزا نے بنائی تھیں۔ کاغذات کے درمیان ایک چھوٹا سا چاقو تھا۔ ابھی کچھ ماہ قبل اس نے اس چاقو کو باہر نکالا تھا۔ چاقو کی دھار کند ہوچکی تھی۔ آنکھوں کے آگے کچھ پرچھائیاں لہرائیں۔ غار یاد آیا۔ لمبے چٹانی تختے یاد آگئے۔ اس دن بھی بارش ہوئی تھی۔ غار کے پاس سے ایک تختہ لڑھک کر انوزا کے جسم پر گرا تھا۔

انوزا کے کپڑے چاک تھے۔ قیاس لگایا گیا کہ تختہ خود نہیں گرا بلکہ جان بوجھ کر انوزا کے جسم پر رکھا گیا تاکہ یہ خیال آئے کہ تختہ کے اچانک گرنے سے انوزا کی موت ہوگئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی نے بتایا، ایک بڑے افسر کی گاڑی ادھر سے گزری تھی۔ پاس میں ایک دریا تھا۔ دریا کا پانی ان دنوں سوکھ چکا تھا۔ اس دن گل بوزا نے غار کی جگہ دریا کو پسند کیا۔ وہ دیر تک ایک چھوٹی سی چٹان پر چڑھ کر دریا کو دیکھتا رہا۔ اسے یقین تھا، ایک دن دریا کا پانی سوکھ جاتا ہے۔

ایک دن انوزا چلی جاتی ہے۔ ہسٹری از اے بنک۔ ۔ ۔ ایک دن اس کے دونوں آوارہ بیٹے بھی گم ہوجائیں گے۔ وہ دیر تک انگلیوں پر حساب لگاتا رہا۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، اب گل بوزا گم تھا۔ وہ بکھرے ہوئے کاغذات میں سما گیا تھا۔ انوزا کی آڑی ترچھی لکیروں والے کاغذ پر اس کی دونوں آنکھیں تھیں۔ ایک کاغذ میں اس کا دھڑ تھا۔ ایک ردی میں اس کے پاؤں پڑے تھے۔ وہ الگ الگ کاغذات میں جسم کے مختلف حصوں کو الگ الگ دیکھ کر خوش ہوتا رہا۔

گل بوزا خیالوں سے باہر نکلا۔ دوبارہ جوتے پہنے۔ کچھ دیر تک بلا وجہ آسمان کو دیکھتا رہا۔ بلا وجہ کچھ بھی کرنا اسے پسند تھا۔ کیو نکہ اسے یقین تھا کہ یہ زندگی اب بلا وجہ کی زندگی ہوگئی ہے۔ انوزا کے جانے کے بعد وہ ویسے بھی گم سم رہنے لگا تھا۔ اور اب حاجی صاحب چلے گئے۔ لیکن کیا واقعی میں حاجی صاحب تھے؟ یا اس کا وہم تھا۔ گل بوزا کو احساس تھا، وہ بوڑھا ہوگیا ہے۔ تاریخیں آپس میں گڈ مڈ ہورہی ہیں۔ زندگی کے واقعات بھی آپس میں خلط ملط ہورہے ہیں۔ اور ایسے موقعوں پر اس کی نگاہوں میں بہت سے رنگ آتے جاتے ہیں۔ کبھی زعفرانی رنگ ابھرتا ہے۔ کبھی سیاہ۔ سیاہ رنگ تمام رنگوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ ۔ ۔ مگر حاجی صاحب کا مکان؟

بڑے بیٹے نے پھٹکارا۔ ’ایسا کوئی مکان کبھی نہیں تھا۔‘
’ مگر تم اس مکان میں اکثر جاتے تھے۔ بڑی بی تم کو مٹھائیاں کھلاتی تھیں۔‘
’ یہ تمہارا وہم ہے۔‘
’ وہم کیسا۔ بارش ہونے سے پہلے تک میں نے اس مکان کو دیکھا تھا۔‘
’ کوئی مکان ہو تب تو دیکھوگے۔‘
’ اچھا۔ ۔ ۔ تو یہاں کوئی حاجی صاحب نہیں تھے۔ مکان بھی نہیں تھا۔ وہم۔ ۔ ۔‘
گل بوزا نے دونوں بیٹوں کو غور سے دیکھا۔
چھوٹے نے کہا۔ اب اپنی خیر مناؤ
بڑے نے بتایا، بڑے افسر دوبارہ آئے تھے۔
’مجھے کیوں نہیں بتایا؟‘
چھوٹے نے ہنس کر کہا، ’تمہیں بتاکر کیا ہوتا۔‘
’گھر کی تصویر لے رہے تھے۔‘ بڑے نے کہا۔
’تصویر کیوں لی؟‘
بڑے کو غصہ آگیا۔ بولا، ’تصویر کی چھوڑو، پینشن لائے۔‘
’نہیں۔‘
’جب تک زندہ ہو ایک کام تو بہتر طریقے سے کرلیا کرو۔‘

اوہ، گل بوزا کو اپنے دماغ پر افسوس ہوا۔ سیاہ، پیلے، نیلے رنگوں میں کتنا کچھ بدل جاتا ہے۔ کچھ رنگ اڑ گئے۔ کچھ رنگ رہ گئے ہیں۔ اسے پینشن کے لئے جانا چاہیے۔ نشیب سے اتر کر ایک راستہ اس دفتر کی طرف گیا تھا، جہاں اس نے زندگی کے کئی برس گزارے تھے، لیکن اب حافظے سے یہ سارے اڑ چکے تھے۔ بارش پھر تیز ہوگئی تھی۔

..

پینشن آفس پہنچنے تک وہ تھک چکا تھا۔ کرسی پر بیٹھے سرکاری افسر نے گل بوزا کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ بلکہ گل بوزا کے آدھے ادھورے جملوں کی تکرار سن کر زور سے ہنسا۔

’کون ہو بھئی، نظر کیوں نہیں آتے۔‘
میں گل بوزا۔ ۔ ۔
’بھوت ہو کیا، دکھا ئی کیوں نہیں دیتے؟‘
’میں تو سامنے ہوں۔ ۔ ۔‘
’سامنے ہوتو نظر کیوں نہیں آتے۔‘
’میں تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ہوں۔ اور زندہ ہوں۔‘
۔ آہ، ہم میں سے کون یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ وہ زندہ ہے۔

گل بوزا کو ملنے والا یہ آخری جواب تھا۔ وہ مایوس نہیں ہوا۔ اس کے بعد اس نے افسر سے کچھ پوچھا بھی نہیں۔ افسر بھی آرام سے میز پر پھیلے کاغذوں کے درمیان جھک گیا۔ گل بوزا نے وہاں سے چلتے ہوئے ٹھہر کر کاغذوں کی طرف دیکھا۔ پریشانی یہ تھی کہ اتنے سارے کاغذات کے درمیان وہ کہیں نہیں تھا۔ وہ اپنی پنشن لینے آیا تھا۔ افسر نے بغیر اس کی طرف دیکھے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

بیکار کی بحث مت کرو۔ تم مر چکے ہو۔
۔ لیکن میں تو آپ کے سامنے۔ ؟

۔ اس سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ تم زندہ ہو، افسر نے ذرا توقف کے بعد کہا۔ ۔ ۔ تم کاغذات میں بھی مردہ تسلیم کیے جا چکے ہو۔ اس لئے اپنا اور میرا وقت مت برباد کرو۔ اب تم مردہ ہو اور آزاد۔ عیش کرو۔

اس وقت گل بوزا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ باہر نکلا تو دو ایک جاننے والوں نے آواز دی۔ نہ وہ رکا، نہ جواب دیا۔ اب اسے بارش اور بھیگنے کا بھی احساس نہیں تھا۔ وہ خوش تھا کہ سنگ دل زندگی سے اس کا پیچھا چھوٹ چکا ہے۔ اس کے دو لڑکے تھے، دونوں آوارہ۔ اب ان لڑکوں کی مرضی، زندگی میں جو چاہے کریں۔ وہ ان کی طرف سے آزاد ہو چکا تھا۔ راستے میں ایک قبرستان ملا۔ گل بوزا کچھ دیر وہاں کھڑا رہا۔ دیر تک قبریں گنتا رہا۔

ایک نئی قبر کو دیکھ کر مسکرایا۔ ٹھیک اسی وقت ایک کتا اس کے پیچھے لگ گیا۔ وہ کتے کے بھوکنے کی آواز سن کر بھاگا نہیں، اپنی جگہ کھڑا رہا۔ بے وجہ مسکراتا رہا۔ کتا چلا گیا تو گل بوزا اپنے گھر کے راستے ہو لیا۔ اس درمیان اس نے سر میں شدید درد کا احساس کیا۔ زعفران کی خوشبو سے اکثر اس کے سر میں درد ہوجاتا تھا۔ آنکھوں کے آگے نیلی پرچھائیوں کا رقص تھا۔ ۔ ۔ کبھی نور۔ ۔ ۔ کبھی تاریکی۔ ۔ ۔ کبھی کوئی اور رنگ خلط ملط ہو جاتا۔ گل بوزا ہنسا۔ ۔ ۔ یہ مرنے کے بعد کی کیفیت ہے۔ رنگ اسے ہوا کے دوش پر لئے جا رہے ہیں۔ ۔ ۔ ممکن ہے مرنے کے بعد انسان رنگوں کے درمیان ہوتا ہو۔ ۔ ۔ اب وہ گھر کے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔ دونوں آوارہ بیٹے راستہ روک کر کھڑے تھے۔ ۔ ۔

ایک نے ہنس کر کہا۔ ۔ ۔ بہت خوش ہو۔ لگتا ہے، جیب بھر گئی۔ ۔ ۔
دوسرے بیٹے نے قہقہہ لگایا۔ ۔ ۔ پھر بوڑھے میاں کی جیب کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔

گل بوزا کو غصہ نہیں آیا۔ وہ زور سے ہنسا اور دونوں بیٹوں کو حیرت کی وادیوں میں چھوڑ کر کر اندر آ گیا۔ گل بوزا کو احساس تھا کہ وہ کسی روح کی طرح بیٹوں کے جسم کو پار کر اندر آیا ہو۔ اب وہ کچھ بھی کرنے کے لئے آزاد ہے۔ برآمدے میں پلنگ پر اس کی بیوی سو رہی تھی۔ کچھ دیر وہ بیوی کے پاس جھکا، کھڑا رہا۔ اسے یقین تھا، بیوی نے زندگی میں بہت دکھ اٹھائے ہیں مگر بیوی بھی جلد اس کے پاس آ جائے گی۔ کچھ دیر وہ سوچتا رہا پھر یہاں سے ہو کر اپنے کمرے میں آ گیا۔

کمرے میں وہی پرانا ٹین کا بکسہ تھا۔ اس بکسے میں بہت کچھ تھا۔ کچھ اخبار کے تراشے تھے۔ دو ایک کتابیں تھیں۔ آفس کے کاغذات تھے۔ اس بکسے سے اسے بہت لگاؤ تھا۔ لیکن مرنے کے بعد اس بکسے کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی۔ گل بوزا نے بکسہ کھولا۔ کاغذات نکالے۔ بوسیدہ، پیلے کاغذات۔ بکسے سے نکال نکال کر ان کاغذات کو جمع کرتا گیا۔ جیب سے نکال کر آرام سے ایک بیڑی سلگائی اور کاغذات کے ڈھیر کو آگ کے حوالے کر دیا۔ کاغذات کے جلنے تک اس کے دونوں بیٹے اندر آ چکے تھے۔ کاغذ ات سلگ رہے تھے۔

ایک نے حیرت سے پوچھا۔ ۔ ۔ گل بوزا کہاں ہے؟
دوسرے کو بھی حیرت تھی۔ ابھی تو بڈھا اندر آیا تھا۔ اتنی جلد کہاں چلا گیا۔ پہلے نے گل بوزا کو آواز دی۔ اطمینان کا اظہار کیا۔ چلو، آج اس نے خود ہی ردی جلا دی۔ ورنہ یہ کام بھی ہمیں کرنا پڑتا۔دوسرے نے شک کا اظہار کیا۔ غور سے دیکھو۔ ردی ابھی پوری طرح جلی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اوربوڑھا بھی غائب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *