عمران خان ایک خوب صورت دھوکا


عمران ایک خوب صورت دھوکے کا نام ہے، ایمانداری اور دیانتداری کے لبادے میں چھپے ہوئے ایک حسین دھوکے کا نام۔

مجھے آج بھی 30 اکتوبر 2011 کا وہ خوب صورت دن یاد ہے جب پی ٹی آئی نے مینار پاکستان میں اپنا عظیم الشان جلسہ کیا تھا، مینار پاکستان کے میدان کو بھر کر سب سیاسی پنڈتوں کو حیران و سر گشتہ کر دیا تھا۔ لوگوں کا ایک جم غفیر تھا، جو کہ خان کے ساتھ جھوم رہا تھا اور پی ٹی آئی کے ترانوں کے ساتھ محو رقص تھا، لوگوں کے چہروں اور ان کی بدن بولی سے مسرت پھوٹ رہی تھی۔ جتنے لوگ اندر تھے اس سے کہیں زیادہ میدان سے باہر کھڑے تھے، بے نظیر بھٹو جب جلا وطنی کے بعد واپس آئیں تھی تو تب اس آسمان نے اتنے لوگ ایک جگہ اکٹھے دیکھے تھے یا آج دیکھ رہا تھا۔

یہ پی ٹی آئی کی اٹھان تھی اور کیا شاندار اٹھان تھی، ان لوگوں کو خان نے سیاست میں دلچسپی لینے پر اور اپنے ساتھ باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا جنہوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا اور جو بظاہر سیاستدانوں سے مایوس و بر گشتہ تھے۔ اس جلسے کے بعد پی ٹی آئی کے انداز و اطوار بدل گئے، خان نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ بھی ٹاک شوز میں اکیلا بیٹھا کرے گا، لوگ پارٹی میں آنے کے لئے پر تولنے لگے، سیاست کے مشاق کھلاڑی پی ٹی آئی میں آنے کے بہانے تراشنے لگے۔

2013 کا الیکشن آ پہنچا، سب کو امید تھی کہ پی ٹی آئی میدان مار لے گی۔ کئی لوگ پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لئے باہر نکلے، لوگوں نے صبح صبح قطاروں میں لگ کے ووٹ ڈالے، ہر کوئی ایک نئی سحر کے انتظار میں تھا اور ایک نئے سورج کے نکلنے کی آس میں صاف چلی شفاف چلی کے ترانوں پر جھوم رہا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگار، صحافی، دانشور سب اس بات پر متفق تھے کہ پی ٹی آئی اسی سے نوے سیٹیں جیت لے گئی لیکن جب نتیجہ آیا تھا تو ہر کوئی ششدر تھا کہ پی ٹی آئی صرف پینتیس سیٹیں ہی لے سکی۔

پھر عمران خان نے پہلے نتائج کو قبول کیا اور پھر کچھ دنوں بعد شاید کسی کے اشارہ ابرو پر دھاندلی کا شور مچا دیا اور چار حلقوں کے کھولنے کا مطالبہ کر دیا، اور پھر جو کچھ ایک سو چھبیس دن ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، ان دنوں میں کنٹینر پر کھڑے عمران خان نے اتنے سبز باغ دکھائے کہ یوں لگتا تھا کہ اگر یہ مرد آہن برسر اقتدار آگیا تو سب تکلیفوں، محرومیوں کا مداوا ہو جائے گا، ایک عظیم انقلاب برپا ہو جائے گا، پاکستان کی ہیئت و صورت بدل جائے گی، لوگ یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے، سبز پاسپورٹ دنیا میں عزت و حشمت کا استعارہ بن جائے گا، ایک بالکل نیا نکور پاکستان وجود میں آجائے گا۔

قصہ مختصر پھر دو ہزار اٹھارہ آیا عمران خان نے ہر اس بندے کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہا جو کہ بقول اس کے پرانے پاکستان کی بدقسمتی اور تباہی کا ذمہ دار تھا، ہر اس آدمی کو سر آنکھوں پر بٹھایا جو کہ اس کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کے لئے کار آمد ہو سکتا تھا، ہر وہ طریقہ آزمایا جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اور کسی بھی اخلاقیات کی کتاب میں غیر مہذب اور غیر اخلاقی شمار ہوتا۔

پھر وہ اس مسند اقتدار پر پہنچ گیا جس کے لئے اس نے ہر سمجھوتہ کیا تھا اور پھر یہاں پر حضرت علی کا قول یاد آتا ہے کہ اقتدار آدمی کو بدلتا نہیں بے نقاب کر دیتا ہے، اور عمران خان ایسا بے نقاب ہوا کہ بالکل ہی عریاں ہو گیا، وہی چہرے، کوئی پرویز مشرف کا لشکری تو کوئی آصف زرداری کا جیالا، کوئی نواز شریف کا عسکری تو کوئی ایم کیو ایم کا سپاہی، یعنی بھان متی نے کنبہ جوڑا کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ اصل پی ٹی آئی کارکنان جنہوں نے ماریں کھائی تھیں، جنہوں نے خان کے ساتھ سرد و گرم سہے تھے وہ دور بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے، وہ اپنی ہی پارٹی میں اجنبی ہو گئے تھے اور دور کونے میں بیٹھے اپنے خوابوں کے جنازے پر آنسو بہا رہے تھے۔

ہر وہ نوجوان جس نے خواب دیکھنے شروع کر دیے تھے، جن کی آنکھوں میں ایک بازیگر نے حسین خواب ستاروں کی صورت سجا دیے تھے، اس نے یہ خواب ایک جھٹکے میں ان کی آنکھوں سے نوچ کر پھینک دیے، عمران خان اپنے ہی بنائے ہوئے اور بتائے ہوئے اصولوں سے رو گردانی کرتے رہے اور اپنے ہی کہے ہوئے اقوال کو نگلتے رہے، عمران خان نے ہر وہ کام کیا جن پر وہ کنٹینر پر سوار ہوکر تبرے بھیجتے تھے، ہر وہ عمل کیا جس کو وہ مطعون ٹھہراتے تھے۔

پہلے بھی حکمران کرپٹ تھے، لیکن عمران خان کا جرم ان سے سوا ہے، اس نے ان مایوس لوگوں سے جنہوں نے زندگی میں پہلی بار آنکھوں میں سپنے سجائے تھے، جنہوں نے پہلی بار خوابوں کی قندیلیں روشن کی تھیں، جنہوں نے پہلی بار صبح روشن کی آمد کی امید کے دیے جلائے تھے، جنہوں نے پہلی بار آس کے جگنو دیکھے تھے اور جنہوں نے پہلی بار اس ملک کی سیاست میں پر جوش عملی حصہ لیا تھا، ان سے ان کے خواب، ان کے جگنو چھین لیے ہیں۔ اب شاید وہ کبھی کسی پر اعتبار نہ کریں، اور شاید اب ایک بار پھر وہ سب اس ملک کی سیاست سے مایوس ہو کر بے نیاز ہو جائیں گے۔ پچھلے حکمران بدعنوان تھے لیکن یہ تو بد عنوان بھی ہیں اور نا اہل بھی یعنی یک نہ شد دو شد۔ ان خوش فہم نادانوں کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔

افتخار عارف یاد آتے ہیں۔
دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں۔
ابھی کچھ دن لگیں گے۔
جہان رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے۔
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر۔
بنتے بنتے رہ گیا ہے۔
وہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے۔

Facebook Comments HS