اتحاد، ایمان، تنظیم میں ہی چھٹکارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کو اتحاد، ایمان اور تنظیم کا جو فلسفہ آج سے تقریباً 73 سال قبل دیا آج اس قوم کو اس فلسفہ پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ فلسفہ 73 سال پرانا نہیں بلکہ یہ تو 1400 سو سال قبل ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کی صورت میں ہمارا ورثہ ہے۔ آج کورونا وائرس نامی وبا نے پوری دنیا اور ہمارے ملک کو پریشانی میں مبتلا کردیا ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ ہر ذی شعور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس وبا سے بچاؤ کے لئے کیا کرنا چاہیے اور کیسے اس سے بچا جائے۔

آج ہمیں بین الاقوامی اور قومی سطح پر جو بھی احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہے۔ ان کا خلاصہ ان تین لفظوں میں ہی ہے۔ کہیں 20 نکاتی ایس او پیز ہیں تو کہیں اس سے کم یا زیادہ نکاتی ایس او پیز۔ کیوں نہ آج ہی ہم ان تین نکاتی ایس او پیز پر عمل کریں جو آج سے 1400 سال قبل ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کی صورت میں اس امت کو دی گئیں اور 73 سال قبل مرد مجاہد قائداعظم محمد علی جناح نے اس قوم کو دیں۔

تین نکاتی فلسفہ میں سب سے اہم ایمان ہے۔ بطور مسلمان ایمان کی تشریح کے مطابق ہر مشکل وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔ اس سے چھٹکارا بھی اللہ کی طرف سے ہے لیکن اس کی تشریح کچھ عناصر یوں کرتے ہیں کہ اس وبا سے بچنے اور ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں جس کے نصیب میں ہوگی وہ اس سے متاثر ہوجائے گا۔ باقی بچ جائیں گے۔ درحقیقت اس فلسفہ سے اتفاق کم ہی لوگ کرتے ہیں۔ کیوں کہ دین اسلام میں ایسی صورتحال کی رہنمائی موجود ہے۔

احادیث موجود ہیں جن کے مفہوم کے مطابق کسی بھی وبا کی صورت میں احتیاط فرض ہے۔ اگر کسی جگہ پر وبا کے ہونے کے ثبوت ملیں تو وہاں جانے سے منع کیا گیا ہے اور جو وبا کا شکار ہیں جس وبا کے شکار لوگوں کے علاقے میں انہیں وہاں سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔ وبا کے شکار افراد سے ملنے جلنے میں احتیاط برتنے کے احکامات دین میں موجود ہیں پھر آج کیوں ان احتیاطی تدابیر کو کچھ عناصر دین اسلام کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔

اتحاد کا اہم پہلو مقصد وحدت ہے۔ آج ہمارا مقصد وحدت یا اولین ترجیح وطن عزیز کو کورونا جیسی وبا سے بچانا اور نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے۔ اگر ہم اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں اور موجودہ وبا کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل کا شکار لوگوں کو اپنا خیال کریں اور ان کی مدد ہر صاحب حیثیت شخص کرے تو کیا مشکل ہے کہ تمام دیہاڑی دار اور روزانہ کمانے والے کسی پریشانی کا شکار رہیں ان کی روزگار کا نعم البدل تو شاید حکومتی مدد میں بھی نہ ہو لیکن ان کی اس قدر مدد تو کی جاسکتی ہے کہ مجبوراً اجتماعی خودکشی نہ کرلیں۔

یہی فلسفہ ہمارے دین اسلام کا ہے اور ہمارے قائد کا بھی کہ کسی بھی مشکل کا سامنا مل کر کیا جائے صرف حکومت پر نہ چھوڑ دیا جائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 22 کروڑ کے اس ترقی پذیر ملک میں دیہاڑی داروں اور غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن انہیں 22 کروڑ میں ایسے مخیر حضرات بھی ہیں جو اس مشکل وقت میں اگر فلسفہ دین اور فلسفہ قائد پر عمل پیرا ہوجائیں تو کوئی مشکل نہیں رہے گی۔

ایسا بالکل نہیں کہ ہمارے مخیر حضرات امداد میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اکثریت ایسا کر رہی ہے لیکن پھر بھی ملک کے تمام مخیر حضرات اور متوسط طبقہ کے لوگ اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں تو بہت کم امکانات ہیں کہ ہم میڈیا پر ایسا دیکھیں کہ فلاں علاقے میں اتنے افراد اتنے دنوں سے بھوک و افلاس کا شکار ہیں۔

قطع نظر کسی بھی قوم، زبان، سیاسی ہم آہنگی کے آئین اور قوانین کا احترام اور ان کا نفاذ میں مکمل تعاون کرنے کا درس ہمیں ہمارا مذہب دیتا ہے اور یہ ایک قومی فریضہ بھی ہے۔ تنظیم یا نظم و ضبط کے معاملے ہمیں یہی درس 1400 سال قبل اور 73 سال قبل دیا گیا۔ بدقسمتی سے ہم وطن عزیز معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک اس پر سو فیصد عمل کرنے یا عمل کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ ملک میں حفظ ماتقدم کے طور لگائی گئی پابندیوں پر عملدرآمد دیکھنے میں کہیں تو کم ملتا ہے اور اکثر تو ملتا ہی نہیں۔

آج ڈبلیو ایچ او، محکمہ صحت کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں نظم و ضبط لائیں۔ اپنی روزمرہ زندگی کو نظم و ضبط کے ساتھ گزاریں زیادہ اجتماعات سے اجتناب کریں۔ اجتماعات کا ذکر کرتے ہی ذہن میں پنجگانہ باجماعت نماز، رمضان المبارک میں تراویح کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ تراویح کی برکات کا انتظار کو ہر مسلمان پورا سال کرتا ہے لیکن امسال وبا نے ہمارے وطن عزیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ علما کرام نے احادیث کی روشنی میں اتفاق کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر فاصلہ رکھ کر تراویح کی عبادت کا اہتمام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

اس پر عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے لیکن کچھ جگہوں پر لوگ عمل پیرا ہونے سے قاصر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ آج تاجر حضرات مارکیٹیں کھولنے کی بات کررہے ہیں اور ان کی بات مان بھی لی جائے اور وہ حکومت کی جانب سے دیے نظم و ضبط پر عمل پیرا ہوکر اپنا معاش جاری رکھ سکتے ہیں۔ آج ہماری بقا نظم و ضبط میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح ہر شعبہ زندگی جس میں موجودہ وبا کی وجہ سے خلل آیا ہے۔ ان تمام شعبہ جات میں اگر نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ کیا جائے تو چیزیں آہستہ آہستہ اپنی جگہ پر آنا شروع ہو جائیں گی۔

آج ہماری بقا اتحاد، ایمان اور تنظیم کے ستونوں کا سہارا لینے میں ہی ہے۔ ہم نے شاید ان تین ستونوں کو شاید تقریروں، تحریروں میں ہی دیکھا ہے۔ آج وقت ہے۔ ان پر عمل پیرا ہوکر اس کا ثمر لینے کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply