ڈاکٹر کی ڈائری۔ زندگی اور رشتے ناتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کی رہ گزر جتنی طویل ہوتی ہے، تجربات، حالات واقعات، کی تعداد بھی اسی حساب سے ہوتی ہے۔

بہت کم لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو طویل عمر پائیں اور معمول کی رفتار سے زندگی کو گزار لیں، ورنہ عام طور پر لوگوں کی زندگی تغیر سے بھرپور ہوتی ہے، مدوجزر کے درمیان، یہ تغیر پرسکون اور خوشگوار حیرتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی تکلیفوں، ذہنی الجھنوں اور جذباتی صدموں سے بھرپور ہوتے ہیں۔

جیون کی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے لاتعداد لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، ان میں سے کچھ خون، اور جذبات کے رشتے ہوتے ہیں، کچھ تعلق دار، کچھ جان پہچان والے، کچھ دوست اور کچھ اچھے دوست۔

خون کے رشتوں اور زوجین کے درمیان محبت اور اعتماد قائم رکھنا انسان کی ضرورت بھی ہوتا ہے اور مجبوری بھی، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان رشتوں کے بندھن سے خود کو آزاد کروانا چاہتے ہوں۔

جبکہ دوستی کا معاملہ بہت مختلف ہوتا ہے، دوستی کا مطلب خلوص کا بے غرض تعلق ہے، جہاں کہ دونوں فریق ذہنی مطابقت اور میچورٹی کے اس لیول پر ہوں کہ بغیر ججمنٹل ہوئے، ایک دوسرے کی ہر طرح کی بات سن کر سمجھ سکیں اور اگر تسلیم نہ کرنا چاہیں تو برداشت ضرور کر سکیں، دکھ اور سکھ کے ایسے ساتھی جو چہرہ دیکھ کر ذہن پڑھ سکیں اور آنکھیں دیکھ کر درد اور خوشی کو جان لیں، اور حقیقت یہ ہے کہ دوستی کے رشتوں میں انتہائی محدود تعداد میں لوگ اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں کہ جو واقعی دوستی کے معیار کو قائم کر سکیں۔ اور یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جو ہر تکلیف اور بحران میں ہم قدم، ہم زبان ہوتے ہیں۔

بچپن، نوجوانی، جوانی، اسکول، کالج، یونیورسٹی، ملازمت یہ سب زندگی کے مختلف ادوار ہیں، اور ان سب ادوار میں ملنے والے دوست، کچھ عرصے تک ہر وقت کا ساتھ، پھر زندگی کی نوعیت کے بدل جانے پر وہی ساتھ ہفتوں مہینوں بعد کی بات چیت اور سالوں بعد کی ملاقات میں بدل جاتا ہے، جہاں عام طور پر دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی زندگی کی روز مرہ تکلیفوں، پریشانیوں بحرانوں اور سب سے بڑھ کر جذباتی صدمات کی اطلاع بھی دنوں اور کبھی مہینوں بعد ہوتی ہے۔ لیکن سالوں پرانے تعلقات کو دوستی کے نام پر قائم رکھا جاتا ہے۔

عام طور پر زندگی کی تین چار دہائیاں گزار لینے والے لوگ ذہنی طور پر اتنے پختہ ہو جاتے ہیں کہ رشتوں اور تعلقات دوستیوں اور وابستگیوں کی افادیت کو سمجھ سکیں اور اہمیت کو جان سکیں۔

اور سب سے بڑھ کر تعلقات کے برزخ میں اپنی اہمیت کو سمجھ سکیں، کہ اس طلسماتی دنیا میں آپ کے تعلقات لمحاتی حسن کی طرح ہیں، اگر آپ دوسرے فریق کی بظاہر ناپسندیدہ بات کو محض ایک لمحہ سمجھ کر زندگی کا صفحہ پلٹ کر اس پیراگراف سے آگے نکل جائیں تو یہ آپ کی جذباتی اور ذہنی پختگی ہے۔

اور اگر آپ اپنے نظریہ کے مطابق ہونے والی ناپسندیدہ بات کو زندگی کا حاصل یا لاحاصل جیسا مسئلہ سمجھ کر اس باب کو بند کرنا چاہو تو بھی یہ آپ کی ذہنی ناپختگی کی انتہائی سطح ہے، کہ آپ اس بات کا ادراک بھی نہیں کر سکتے کہ زندگی کا یہ باب بند ہونے پر وہ جو مہینوں بعد ہونے والی گپ شپ یا سالوں بعد ہونے والی ملاقات تھی وہ فریقین کے لئے کوئی جذباتی صدمہ نہیں بلکہ ایک مبہم یاد کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو گی۔

ذہنی پختگی اور سمجھداری کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ناپسندیدگی کے کچھ لمحوں کو گزار کر، کبھی کبھی کے تعلق کو سنبھال لیا جائے ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ اس طرح کی رواجی دوستی جیسے کئی تعلق دونوں فریقین کی زندگی میں موجود ہوتے ہیں۔ اور اکثر تو خاموش ناراضگی اور زندگی سے کسی کے نکل جانے کا خیال بھی مہینوں بعد آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *