ہود بھائی، سائنس اور روحانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"kaleem\"

محترم وجاہت مسعود اور ’’ہم سب‘‘ کی ہمت کی داد دینا ہوگی کہ پروفیسر ہود بھائی کی ایک ایسی تحریر کو سائنس و ٹیکنالوجی کے صفحات پر شائع کیا ہے جس کا نہ تو سائنس سے تعلق ہے نہ ٹیکنالوجی سے، کئی بار پڑھنے کے باوجود مجھے اس تحریر کا سر پیر نظر نہیں آیا سوائے اس کے کہ محترم پروفیسر روحانیت یا روحانی علوم یا سائنس کے علاوہ کسی بھی علم سے شدید قسم کا عناد رکھتے ہیں۔ بجائے خود یہ ایک علم دشمن رویہ ہے اور ایک تحقیق کار کے لئے یہ رویہ زہر قاتل ہے۔ نہ تو مجھے معلوم ہے اور نہ ہی پروفیسر ہود بھائی کے مذہبی عقیدے سے میر ا کچھ لینا دینا، لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ ضرور کہوں گا کہ پروفیسر صاحب اگر قرآن یا جدید دنیا میں روحانیت پر ہونے والی تحقیق پر ایک نظر دوڑا لیتے تو ان کو یہ لکھنے کی زحمت نہ کرنا پڑتی۔ جعلی عاملوں، دھوکے باز پیروں یا بابوں سے مجھے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی میں ان کی وکالت کا مجرم ہوں لیکن روحانیت، ماورائی علوم یا جنات، ایک ایسی واضح حقیقت ہے جیسے کہ دن میں چمکتا سورج، جس کو نظر نہیں آتا وہ اپنا علاج کرائے۔ ہاں! اگر کسی کو سائنسدان بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو مجھے بتائے کہ خون سے کشید کیا گیا گندگی کاایک قطرہ ایک ایسی دنیا میں جہاں نہ روشنی ہے نہ ہوا کا گذر کیسے پرورش پا کر ایک ننھی جان کا روپ دھارتا ہے؟

ایک ایسا سیال مادہ جو انسان اپنے آنکھوں سے دیکھنا نہ چاہے اس میں ایسی انرجی کہاں سے آتی ہے کہ نو ماہ تک ایک جان کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے؟
وہ نظام کس نے بنایا ہے کہ نو ماہ بعد یہ ننھا انسان ماں کے پیٹ سے باہر آنے پر مجبور ہے؟\"human-embryo\"
اس ننھے انسان میں کون ایسی بجلی بھرتا ہے کہ کڑیل جوان بن جاتا ہے؟
دنیا بھر میں دستیاب بہترین خوراک اور ورزش کے باوجود وہ کون سی طاقت ہے جو اس کڑیل جوانی کی بہار کو بڑھاپے کی خزاں میں ڈھال دیتی ہے؟
کڑیل جوان جب ایک بوڑھا انسان بن جا تا ہے تو پانی، خوراک اور آکسیجن وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود مر کیوں جاتا ہے؟

سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان کی زندگی کے لئے خوراک، پانی اورہوا لازمی ہیں، ہسپتال کے ایک وارڈ میں پچاس افراد موجود ہیں جن میں سے کچھ مریضو ں کے تیماردار ہیں، یہ سب ہوا میں موجود آکسیجن سے سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں، لیکن صرف ایک انسان ایسا کیوں ہے جسے ڈاکٹر آکسیجن لگانے پر مجبور ہے؟اور پھر آکسیجن لگانے کے باوجود وہ انسان مر کیوں جاتا ہے؟

یقیناً ان سب سوالوں کے جواب ایک ہی سمت میں اشارہ کرتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ یہاں سائنس کے پر جلتے ہیں، اس لئے کوئی سائنسدان آج تک ان سوالوں کے جواب تلاش نہیں کر سکا کیونکہ وہ ایک ماورا ء ہستی کو، ایک لامحدود طاقت کو، اپنے انتہائی محدود ذہن کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اور محدود ذہن کا بھی صرف چند فیصد حصہ، جسے صرف آئن سٹائن جیسا نابغہ روزگار شخص ہی استعمال کر سکا، ہر کوئی اتنا بھی نہیں کر سکتا۔

\"evolution-2\"

ایک اور سوال کا جواب مجھے سائنس سے چاہیے، سائنسدانوں کا ایک گروہ زمین پر انسان کی آمد کا اندازہ !جی ہاں، صرف اندازہ !اور وہ بھی بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے دس لاکھ سال پہلے بتاتے ہیں، بعض سائنسدانوں کی رائے ہے کہ زمین پر انسان کا ظہور دس ہزار سال سے پچاس ہزار سال پہلے ہوا، یعنی پروفیسر ہود بھائی کی سائنس خود اپنے وجود تک کا یقینی جواب دینے سے قاصر ہے، چلیں ان میں سے کوئی ایک جواب درست مان کر ذرا یہ بتا دیں کہ کیا اتنی مدت میں زمین پر انسان کی آبادی صرف چھ ارب تک ہی پہنچ پائی ہے؟ اب یہ مت کہیے گا کہ جہالت کے سبب بیماریوں یا قدرتی آفات کے سبب بڑے پیمانے پر اموات سے یہ ممکن ہے، کیونکہ اسی زمین پر موجود اہرام مصرآپ کا منہ چڑائیں گے کہ چند سو منزلہ عمارتیں بنانے والا سائنس دان ہمارے معماروں کے علم اور طاقت کا اندازہ تو لگا نہیں سکا لیکن انہیں جہالت کی گالی دینے میں بڑا فراغ دل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے بہت سے اسرار ایسے ہیں کہ بے انتہا ترقی کے باوجود سائنس جن کا سراغ نہیں پاسکی۔

اب رکیے صاحب !ایسا بھی نہیں کہ ان سوالوں کے جواب موجود نہیں ہیں، ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ ان سوالوں کے بہت واضح جواب موجود ہیں اور ہم ان پر یقین بھی رکھتے ہیں ایسے ہی جیسے ہوا کو دیکھتے نہیں لیکن اس کے وجود سے انکار کر ہی نہیں سکتے اور ان سب سوالوں کے جواب ہمیں روحانیت یا ماوارائی علو م سے ہی ملتے ہیں (پھر واضح کر رہا ہوں کہ جعلی عاملوں یا دھوکے باز پیروں، فقیروں کی بات نہیں ہورہی)۔ آج بھی ایسے روحانی سائنسدان موجود ہیں جو آپ کو یہ باتیں سمجھا سکتے ہیں اگر آپ سمجھنا چاہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے دو سوسال پہلے کا بچہ ایک موبائل فون کو جادو یا ماورائی چیز سمجھ کا آسانی سے اسے دیوانے کی بڑ قرارد ے دیتا لیکن آج ایک چار سال کا بچہ سمارٹ فون استعمال کرنے میں اسی سال کے بوڑھے سے زیادہ مہارت رکھتا ہے۔

انسانی شعور کی ترقی نے عقل انسانی کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ سینکڑوں یا ہزاروں سال پہلے ناممکن سمجھی جانے والی چیزوں کو بھی آسانی سے بیان کر سکتا ہے۔ انبیاء کے معجزات کو آج تک انسانی عقل سے ماورا ء سمجھا جاتا تھا اور بہت سے لوگ آج بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ دورمیں بھی ایک ایسے روحانی سائنسدان موجود ہیں، دنیا بھر میں جن کی روحانی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ خواجہ شمس الدین عظیمی، سیرت النبی ﷺ پر جنہوں نے بہت گراں قدر کتاب ’’محمد الرسول االلہ ﷺ‘‘ تحریر کی ہے۔ سیر ت کی اس کتاب کی دوسری جلد رسول االلہ ﷺ کے معجزات کی سائنسی توجیہات پر مشتمل ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو شق القمر بھی قائل نہیں کر سکتا، سوا یسی حالت میں مجھ خاکسار کی معذرت لیکن چلتے چلتے بیسویں صدی کے ایک بہت بڑے سائنسی سکینڈل کی مختصر روداد سن لیجئے:۔

\"piltdown-skul-e\"

1912میں انگلینڈ کے برٹش میوزیم میں ایک انسانی کھوپڑی نمائش کے لئے پیش کی گئی جس کے نیچے لکھا تھا PIT DOWN MAN۔ اس تختی پر یہ بھی لکھا تھا کہ یہ انسان سے ملتی جلتی مخلوق کی کھوپڑی ہے جو پانچ لاکھ سال قبل زندہ تھااور یہ مخلوق ہی موجودہ انسان کی جدِ امجد تھی۔ پورے چالیس سال اس کھوپڑی پر بحث ہوتی رہی، کانفرنسز منعقد کئی گئیں اور اس پر کتابیں بھی لکھی گئیں۔ لیکن جب ریڈیو کاربن طریقہ ایجاد ہوا تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ کھوپڑی دراصل ایک انسان کی تھی جبکہ جبڑا ایک بندر کا۔ یہ انسانی کھوپڑی ڈیڑھ سو سال پرانی تھی جبکہ بندر کے جبڑے کی عمر صرف چالیس سال تھی۔ تو جناب! کیا فرماتے ہیں ہود بھائی بیچ اس مسئلے کے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

5 thoughts on “ہود بھائی، سائنس اور روحانیت

  • 08/11/2016 at 6:00 pm
    Permalink

    Apki tehreer par kar bohat apsos hoa

  • 08/11/2016 at 6:37 pm
    Permalink

    It is a very good column with rational reply to Dr Hoodbhoy. Congratulations Kaleem sahab

  • 09/11/2016 at 6:12 pm
    Permalink

    شاید آپ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ علم پر سب کا حق ہے جو اس کی طلب چاہے۔۔ اگر کو ئی سوچتا ہے تو آپ کسی کو سوچ کو کیوں محدود کرتے ہیں اس کی رائے پر اپنے عقیدے کی روشنی میں قدغن کیوں لگاتے ہیں اسے جو قدرت نے دماغ اور پھر سمجھ بوجھ دی وہ اس کو کسی بھی تناظر میں استعمال کرسکتا ہے ۔ اگر جنات ، کالا جادو یا سفلی عملیات پر بات کرنا اور اسے سائنسی اعتبار سے پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے تو کم از اکم اس کیء توریف تو بنتی ہے دنیا بھر کی مثالیں دیں ڈالی آپ نے مذہبی حوالے دئے مگر علم کس کی میراث اور اور اس میراث کو کون کیسے کب استعمال کرتا ہے اس پر بھی وضاحت ہو جاتی تو بہتر تھا تاکہ آئندہ بے میراث لوگ ایسی جرات نا کریں اور سوچنے یا بات کرنے کی ہمت نا رکھیں

  • 10/11/2016 at 9:09 am
    Permalink

    درست کہا کسی نے ,کہ خطرہ جہالت سے نہیں بلکہ انسے ہے جو کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے

Comments are closed.