کورونا کا۔ ۔ ۔ بو کاٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جھوٹ بولے کورونا کاٹے۔ ”کاٹتا کیسے ہے“ یہ تو کسی ”بز“ اخفش سے پوچھیے باقی ہمیں سب پتہ ہے، کورونا کس نے، کیسے اور کیوں پھیلایا۔ ہمیں اس کے علاج، ویکسین کے تماشوں، دواساز کمپنیوں اور ہسپتال کے دھندوں کے علاوہ یہ بھی پتہ ہے کہ کورونا سے اب تک نہ کوئی بیمار ہوا نہ مرا۔ ہم ڈیتھ سرٹیفکیٹ تبھی دیں گے جب کسی کو وائرس کے ہاتھوں خود مرتے دیکھیں گے۔ ویسے بھی وائرس کے ہاتھ نہیں، صرف دانت ہوتے ہیں۔ شیطانی میڈیا کی ویڈیوز ثابت کرتی ہیں کہ کورونا تمام مذاہب عالم کے خلاف ایک سازش ہے اور وہ سازش ہی کیا جس میں امریکہ شریک نہ ہو۔

یہ امریکہ ہی ہے جس نے ایران میں وبا کی افواہ پھیلائی تھی مگر ایران نے بھی لاک ڈاؤن کر کے اسے غلط ثابت کر دیا۔ اسی سازش کے کردار، مغرب میں عیسائیوں کو کلیسا اور اسرائیل میں یہودیوں کو کنیسہ میں عبادت کرنے سے روک رہے ہیں۔ جبکہ بھارتی مسلمان خود تو بیمار ہوتے نہیں، مگر نہتے ہندوؤں پر ”کورونا تھوک“ کی غلیلوں سے حملے کر رہے ہیں تاکہ جو گائے کا پیشاب نہیں پیتا ہو، وہ بیمار ہوجائے ورنہ مندر میں تو وائرس نہیں لگتا جب تک پنڈت بل گیٹس نہ چاہیں۔

ادھر پاکستانی لبرلز کبھی زائرین کو بدنام کرتے ہیں تو کبھی تبلیغیوں کو، تاکہ فرقہ واریت کو ہوا دیں اور لوگوں کو مسجد جانے سے روک سکیں حالانکہ مسجد میں تو وائرس نہیں لگتا جب تک مولوی بل گیٹس نہ چاہیں۔ ساتھ ساتھ، پاکستان کے تمام ڈاکٹر بھی اسی سازش کے تحت عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا کے لاکھوں مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی، کمیونسٹ، ہر قسم کے ڈاکٹر اس جھوٹ میں شامل ہیں۔ کچھ پاکستانی ڈاکٹر تو یہاں تک کہ رہے ہیں کہ ان کے پاس اس کا علاج ہے، مگر حکومت ان کی سن نہیں رہی۔

بھئی جب بیماری نقلی، موت نقلی تو دوا بھی نقلی ہوگی نا۔ ہم بے چارے بیماری کو جھٹلائیں یا علاج کو۔ ہند و پاک کے لوگ تو بس اپنے شریف حکمرانوں کی برکت سے محفوظ ہیں مگر بڑے ہی ناشکرے ہیں، بس راشن کی رٹ لگا رکھی ہیں۔ جب لاک اپ اور لاک ڈاؤن سے حکومتیں خود ڈاؤن ہوں تو راشن کہاں سے دیں، ویسے بھی رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہے نا۔ شکر کریں کہ عوام کو ٹرمپ اور خان نے بچا لیا ورنہ دشمن تو لاک ڈاؤن کامیاب کروا کے ہی چھوڑتا۔

غضب خدا کا، جسے دیکھو چین اور امریکہ کے اشاروں پہ جھوٹ بول رہا ہے۔ خود ہمارے دوست اور رشتے دار اس سازش میں شریک ہوچکے ہیں، کوئی بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے تو کوئی مرنے کا۔ مگر ہمیں پتہ ہے کورونا سے کوئی نہیں مرتا کیوں کہ اب تک کسی نے ہمارے سامنے آکر گواہی جو نہیں دی کہ وہ کورونا سے مرا ہے۔ کورونا کیا ہے، سمجھ لیں ایک انار ہے اور سو بیمار، بلکہ بیماری خود انار کی وجہ سے ہی ہے، اسی نے ہر طرف انارکی پھیلا رکھی ہے۔

گورے جان چکے ہیں کہ سیاستدان کورونا کا ڈرامہ کر کے ان کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں، اسی لیے جھوٹا میڈیا ان لوگوں کی سچی خبروں سے بھرا پڑا ہے جو امریکہ میں مسلح احتجاج کر رہے ہیں اور برطانیہ میں ”5 جی“ ٹاور کو آگ لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ لوگ جانتے ہیں نا کہ مارنے کے لیے وائرس نہیں، بندوق چاہیے۔ ویسے بھی مارنے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے، وائرس اور ٹرمپ اس کی بہترین مثال ہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں اگر قدامت پسند، نسل پرست، متشدد اور متعصب عناصر بھی شامل ہیں تو کیا ہوا، یہ نہ دیکھو کون کہ رہا ہے، دیکھو کیا کہ رہا ہے اور وہ بھی گوری چمڑی والا۔

سچ پوچھیں تو یہ وائرس ہے ہی جھوٹا۔ اتنا جھوٹا کہ اسے تو اپریل کی گرمی میں مر جانا چاہیے مگر جسم کی گرمی میں بھی نہیں مرتا۔ روشنی سے مر سکتا ہے مگر بازاروں میں دن دہاڑے حملے کرتا ہے۔ چمگادڑ کھانے سے لگنا چاہیے مگر بغیر کچھ کھائے ہی لگ جاتا ہے اور تو اور گائے کی گندگی سے مرنے والا صابن کی صفائی سے ہی مر جاتا ہے۔ جھوٹ دیکھیے کہ دنیا میں اتنے لوگ مر گئے مگر روس میں کوئی نہیں مرا۔ بھئی جب ہم کہ رہے ہیں نہیں مرا، تو نہیں مرا۔ کورونا تو وہ غنڈہ ہے جو کئی رضیاؤں کو پھنسا چکا ہے۔ ہمیں چونکہ سب پتہ ہے، اس لیے ہم بیماری پہنچنے سے پہلے ہی اس کی دوا بنا چکے تھے بلکہ ملیریا کی دوائیں تو ذخیرہ بھی کر چکے تھے۔ دوا تو خیر مودی کے پاس بھی ہے مگر ٹرمپ کو کون پلائے، ٹرمپ تو اسے تیزاب اور ٹارچ سے ہی مار دیتا مگر ڈاکٹروں نے بچا لیا۔

چینیوں کا خیال تھا کہ یہ سب کمیونسٹوں کے خلاف امریکی سپاہیوں کی سازش ہے سو جواباً انھوں نے بھی دنیا کی معیشت پہ قبضے کے لیے یہی وائرس امریکہ میں پھیلا دیا۔ چینیوں کے پاس تو خیر اس کا علاج بھی ہے جبھی انھوں نے اس وائرس پہ قابو پا لیا۔ جرمنی نے بھی چین پہ نقصان کا دعوی کیا ہے، مطلب یہ کہ جرمن ڈاکٹر بھی چین سے ملے ہوئے ہیں۔ اللہ جانے اب ”جرمن طاقت“ والی دواؤں کا کیا ہوگا۔ امریکی عوام کا خیال ہے کہ امریکی اور چینی سائنسدان کورونا کے بہانے گوروں کو گھروں میں قید رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہاں لاک ڈاؤن کی اتنی مخالفت ہو رہی ہے کیونکہ چینی ایجنٹ، ڈیموکریٹس، پارلر بند کروا کے ری پبلکنز کو انہی کی زلفوں میں الجھا رہے ہیں تاکہ ان کا عظیم ری پبلکن صدر الیکشن ہار جائے۔ کیسی پیچیدہ سازش ہے مگر امریکی عوام مجرموں کو کبھی نہیں بخشتے۔ احتساب ہوگا، ضرور ہوگا۔

یہ تو طے ہے کہ یہ جھوٹا وائرس صرف گندی چیزیں کھانے اور استنجا نہ کرنے والوں کو لگتا ہے، اسی لیے چین میں یہ وبا پھوٹی۔ اور جو ہمیں ڈرا رہے ہیں، ان کا مقصد ہماری قوت مدافعت کم کر کے ہمیں بیمار کرنا اور گھروں میں بند کر کے عبادت سے محروم کرنا ہے۔ لیکن ہم جھوٹے، دھوکے باز، رشوت خور اور بے ایمان تو ہو سکتے ہیں، مگر اتنے برے بھی نہیں کہ اپنے ایمان کا سودا کرلیں

راز کی بات بتائیں۔ یہ سب بکواس ہے، اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکہ، یورپ، ایران، چین سب ہمارے خلاف آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اس سازش کا اصل ہدف تو ہم دیسی لوگ ہیں۔ باقی سب تو اس دیہاتی کی طرح ہیں جس کا رومال میلے میں کھو گیا تو وہ کہنے لگا کہ میلے کا مقصد ہی اس کا رومال چرانا تھا۔ آخر گورے کیا جانیں رومال اور رومالی، یقین نہ آئے تو ان کے پاجامے ہی دیکھ لیجیے۔ سوچتے ہیں، کیوں نہ ہم جھوٹے مریضوں سے کورونا کی طرح چمٹ کر اس وبا کا جھوٹ کھول دیں۔

ویسے بھی یہ چمگادڑ کھانے والوں کو لگتی ہے، گدھے کی بریانی اور چوہے کے سموسے کھانے والوں کو نہیں۔ یہ کہنا کہ ”یہ فطری وبا ہے، انسانی غفلت ہے یا سازش، جو بھی ہے، جو لوگ جان سے گئے، ان کا احترام کرو“ ، تو بھائی، ہم اسے وبا مانیں تب نا۔ ہمیں تو پتہ ہے، ایک دن اس وبا سے مرنے والے خود آکر دنیا کو بتا دیں گے کہ وہ تو زندہ ہیں اور ان کے گھر والے جھوٹ بول رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *