اکیسویں صدی کے اکیس سبق – آزاد پرندہ (قسط 3)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب آپ اس قسم کی اشرافیہ کے نیچے زندگی گزاریں گے تو صحت اور آلودگی جیسے بے کار مسائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے دیگر بے معنی بحرانوں کو اہمیت دی جائے گی، کیونکہ اگر قوم کو بیرونی حملہ آوروں اور شیطانی بغاوت کا سامنا ہے تو رش سے بھرے ہوئے ہسپتالوں اور آلودہ دریاؤں کے بارے میں سوچنے کے لیے کس کے پاس وقت ہوگا؟ ایک بد عنوان اشرافیہ اپنے اقتدار کو بحرانوں کا نا ختم ہونے والے سلسلہ کی بدولت لامحدود مدت کے لیے طول دے سکتی ہے۔

اگرچہ عملی طور پر اشرافیہ کا یہ ماڈل باقی نظریات کے برعکس کسی کے لیے بھی پسندیدگی کا باعث نہیں ہے۔ دیگر نظریات پورے فخر کے ساتھ اپنی بصیرت کا اظہار کرتے ہیں مگر ان سب کے برعکس حکمران اشرافیہ کو اپنی فلاسفی پر فخر نہیں ہو تا ہے بلکہ وہ عوام کو دھوکا دینے کے لیے دیگر نظریات کا سہار ا لیتے ہیں۔ جیسا کہ روس جمہوری ہونے کا ڈرامہ رچاتا ہے اور اس کی قیادت امرا شاہی کی بجائے قومی روسی اقدار اور عیسائیت کے ساتھ اپنا الحاق ظاہر کرتی ہے۔

فرانس اور برطانیہ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ممکنہ طور پر روس کی امداد پر چلتے ہیں اور پیوٹن کے لیے تعریفی کلمات کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن یہ ووٹر حضرات بھی روسی طرز حکومت والے ملکوں (جن میں جنگل کا قانون اور حیران کن حد تک عدم مساوات کا دور دورہ ہے ) میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ چند اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مساوات نام کی چیز نہیں ہے۔ دولت کا 87 فیصد کل آبادی کے 10 فیصد افراد کے ہاتھ میں ہے۔ فرنٹ نیشنل کے کتنے محنت کش افراد اختیارات کی اس قسم کی تقسیم فرانس میں کرنا چاہیں گے؟

انسان اپنے پاؤں کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ دنیا بھر کے سفر کے دوران میں ان گنت لوگوں سے ملا ہوں جو امریکہ، جرمنی، کینیڈا یا آسٹریلیا جانا چاہتے ہیں۔ ایسے چند ایک افراد سے میری ملاقات بھی ہوئی ہے جو جاپان یا چین جانا چاہتے ہیں، لیکن میں ابھی تک ایک بھی ایسے شخص سے نہیں ملا ہوں جو روس جانے کا خواب دیکھتا ہو۔

جہاں تک ’عالم اسلام‘ کی بات ہے تو یہ خاص طور پر ان لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو اس کی گود میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ شام اور عراق کے کچھ لوگوں، حتی کہ جرمنی اور برطانیہ کے نوجوانوں کو بھی اپیل کر سکتا ہے۔ لیکن یونان اور جنوبی افریقہ (اس سلسلے میں کینیڈا اور جنوبی کوریا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ) پریشانیوں کے حل کے طور پر کسی عالمی خلافت کا وجود میں آنا انتہائی مشکل ہے۔ اس معاملے میں بھی لوگ اپنے پیروں سے ووٹ دیتے ہیں۔

جرمنی کے ایسے ہر مسلم نوجوان کے مقابلے میں جس نے مسلم تھیوکریسی میں رہنے کے لیے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا ہو، غالباً مشرق وسطیٰ کے ایک سو نوجوان اس کی مخالف سمت میں سفر کرنا چاہیں گے تاکہ وہ لبرل جرمنی میں ایک نئی زندگی شروع کر سکیں۔

اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ موجودہ بحران اپنے پیش روؤں کی نسبت کم خطرناک ہے۔ پچھلے سالوں کے واقعات سے مایوسی کا نشانہ بننے والے کسی بھی لبرل کو صرف اتنا ہی اندازہ کرنا چاہیے کہ 1918، 1938 یا 1968 میں کس طرح بد تر چیزیں نظر آرہی تھیں۔ کہانی کے اختتام پر ایک انسانیت پسند شخص اس لبرل سٹوری کو ترک نہیں کرے گا، کیونکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی متبادل نظام نہیں ہے۔ لوگ ناراضگی میں سسٹم کو لات مار سکتے ہیں لیکن کوئی اور جگہ نہ ہونے کی بنا پر آخر کار واپس آجائیں گے۔

شاید عالمی سطح پر کہانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ہار مان جائیں گے اور قوم پرستی اور مذہبی داستانوں میں پناہ حاصل کریں۔ بیسویں صدی میں قوم پرست تحریکیں ایک انتہائی اہم سیاسی کھلاڑی تھیں۔ اس کی حقیقت یہ تھی کہ ان کے ہاں دنیا کے مستقبل کے لیے مربوط منشور کا فقدان تھا۔ اس لیے ان کے پاس عالمی سطح کی آزاد ریاستوں کی تقسیم کی حمایت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس طرح انڈونیشی قوم پرستوں نے ڈچ تسلط کے خلاف جنگ لڑی اور ویتنام کے قوم پرستوں نے آزاد ویتنام کی خواہش ظاہر کی۔

لیکن مجموعی طور پر انسانیت کے لیے کوئی انڈونیشی یا ویتنامی کہانی موجود نہیں ہے۔ جب یہ وضاحت کرنے کا وقت آگیا کہ انڈونیشیا، ویتنام اور دیگر تمام آزاد اقوام کو کس طرح ایک دوسرے سے تعلق رکھنا چاہیے اور انسانوں کو ایٹمی جنگ کے خطرے جیسے عالمی مسائل سے کس طرح نپٹنا چاہیے تو قوم پرست ہمیشہ لبرل یا کمیونسٹ نظریات کی طرف راغب ہوئے۔

لیکن اگر اب لبرل ازم اور کمیونزم دونوں کو بدنام کیا گیا ہے تو کیا انسانوں کو کسی ایک عالمی کہانی کا نظریہ ترک کرنا چاہیے؟ بہرحال! سوال تو یہ بھی ہے کیا ساری عالمی کہانیاں (حتی کہ کمیونزم بھی) مغربی سامراج کی پیداوار نہیں تھیں؟ ویتنامی دیہاتیوں کو جرمن اور مانچسٹر کے صنعت کار کے منصوبہ پر کیوں اعتماد کرنا چاہیے؟ ممکن ہے کہ ہر ملک کو اپنی قدیم روایات کے تحت متعین کردہ ایک مختلف محاسب راہ اپنانی چاہیے؟ شاید مغربی باشندوں کو بھی دنیا کو چلا نے کی کوشش کرنے سے باز آنا چاہیے اور تبدیلی کے اپنے ملک کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے؟

پوری دنیا میں یہی ہورہا ہے، کیونکہ لبرل ازم کے ٹوٹنے سے جو خلا باقی رہ گیا ہے وہ کچھ مقامی سنہرے ماضی سے جڑی پرانی خیالی سوچوں سے عارضی طور پر پر کردیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’امریکیوں کو دوبارہ عظیم بنائیں‘ کے عہد کے ساتھ امریکی علیحدگی اختیار کی ہے۔ گویا 1980 کی دہائی یا 1950 کی دہائی کی ریاست ایک ایسا کامل معاشرہ تھا جسے امریکیوں کو اکیسویں صدی میں کسی نہ کسی طرح دوبارہ تعمیر کرنا چاہیے۔ بریگزٹائر برطانیہ کو ایک خود مختار طاقت بنانے کا خواب دیکھتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ وہ ملکہ وکٹوریا کے عہد میں ایسے جی رہے ہیں، جیسا کہ گویا گلوبل وارمنگ کے عہد کے لیے ’شاندار تنہائی‘ ایک قابل عمل پالیسی ہے۔

چینی اشرافیہ نے مغربی ممالک سے درآمد شدہ مشکوک مارکسی نظریہ کے متبادل کے طور پر اپنی آبائی سامراجی اور کنفیوشین وراثت کو دوبارہ کھوج لیا ہے۔ روس میں پوتن کا سرکاری نقطہ نظر ایک آمریت کی عمار ت کھڑی کرنا نہیں ہے، بلکہ پرانی سارسٹ سلطنت کو زندہ کرنا ہے۔ بالشویک انقلاب کے ایک صدی بعد پوتن نے روسی قوم پرستی اور آرتھوڈوکس پرہیز گاری کے ذریعہ ایک خود مختار حکومت کے قیام کا وعدہ کیا ہے، جو بالٹک سے قفقار تک اپنی طاقت پھیلا رہا ہے۔

اسی طرز کے ماضی کے خواب جو قومیت پرستی اور مذہبی روایات میں گوندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ انڈیا، پولینڈ اور ترکی جیسے ملکوں میں حکومتوں کو استحکام بخشتے ہیں۔ ایسے خواب و خیال کی دنیا مشرق وسطی کے علاوہ کسی اور جگہ اس شدت سے نہیں ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں کے اسلام پسند پیغمبر محمد کے دور کی 1400 سال پرانی مدینہ کی ریاست کی ہوبہو نقل قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بنیاد پرست یہودی تو اسلام پسندوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں، وہ 2500 سال پیچھے جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی حکومتی اتحاد کے ممبر ارکان کھلے عام جدید اسرائیل کی حدود کو بائبل کے اسرائیل کی حدود سے ملانے، بائبل کے قانون کو بحال کرنے، حتی کہ یروشلم میں مسجد اقصی کی جگہ پر قدیم بیت المقدس کی تعمیر نو کی باتیں کرتے ہیں۔

لبرل اشرافیہ ان پیشرفتوں کو خوف کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ انسانیت تباہی سے بچنے کے لیے وقت کے ساتھ آزادی پسند راستے کی طرف لوٹ آئے گی۔ ستمبر 2016 میں اقوام متحدہ سے اپنی آخری تقریر میں صدر باراک اوباما نے اپنے سننے والوں کو متنبہ کیا کہ وہ انتہائی تقسیم شدہ دنیا کی طرف مت لوٹیں اور دنیا کو قوم، قبیلے، نسل اور مذہب کے اندر نہ بانٹیں۔ اس کی بجائے کھلی منڈیوں اور احتساب کی حکمرانی کے اصول، جمہوریت اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری سے اس صدی میں انسانی ترقی کی ایک مضبوط بنیاد بحال کریں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےیوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments