اکیسویں صدی کے اکیس سبق – آزاد پرندہ (قسط 3)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اوبامہ نے بالکل درست کہا ہے کہ لبرل سٹوری کے اندر بے شمار خامیوں کے باوجود اس کے پاس کسی بھی متبادل سے کہیں زیادہ بہتر ریکارڈ موجود ہے۔ بیشتر انسانوں نے اس سے زیادہ امن یا خوشحالی کا لطف کبھی نہیں لیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار متعدی بیماریوں نے بڑھاپے کی نسبت کم لوگوں کو ہلاک کیا ہے، موٹاپے کے مقابلے میں قحط کی وجہ سے اموات بہت کم ہوئی ہیں اور تشدد نے حادثات کی نسبت کم لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

لیکن لبرل ازم کے پاس ہمارے سامنے موجود سب سے بڑے مسائل (ماحولیاتی تباہی اور ٹیکنالوجی سے ہونے والی بربادی) کے واضح جوابات نہیں ہیں۔ لبرل ازم نے روایتی طور پر مشکل تنازعات کو حل کرنے کے لیے معاشی نمو پر انحصار کیا۔ لبرل ازم نے پرولتاری سے بورژوائی کی، ملحدوں کے ساتھ اہل ایمان کی، تارکین وطن کے ساتھ مقامی باشندوں کی اور یورپی لوگوں کے ساتھ ایشیائی لوگوں کی مفاہمت کروائی اور وعدہ کیا ہے کہ سب کو ایک دوسرے سے زیادہ فائدہ ملے گا۔ لبرل سٹوری اور فری مارکیٹ کیپٹل ازم کی منطق لوگوں کو بڑی بڑی توقعات رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے حصے میں ہر نسل (چاہے وہ ہوسٹن، شنگھائی، استنبول اور ساؤ پالو ہو) اپنے سے پہلے والی نسل کی نسبت بہتر تعلیم، صحت کی اعلیٰ سہولیات اور زیادہ آمدنی سے مستفید ہورہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں ہم دنیا کے لیے ایک تازہ ترین کہانی تخلیق کرنے کا کام چھوڑ چکے ہیں۔ جس طرح صنعتی انقلاب کی اتھل پتھل نے بیسویں صدی کے نئے نظریات کو جنم دیا تھا، اسی طرح بائیو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت آنے والے انقلابات کے لیے بھی نئے منشور کی ضرورت ہے۔ کیا لبرل ازم خود کو ایک بار پھر سے اسی طرح بحال کر سکتا ہے جیسے اس نے 1930 اور 1960 کے بحرانوں کے بعد کیا تھا؟ یہ حقیقت ہے کہ تب وہ پرکشش طور پر ابھر کر سامنے آیا تھا۔

کیا روایتی مذاہب اور قوم پرستی ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں جن کے جواب لبرل ازم نہیں دے پاتا ہے؟ یا شاید اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کو اپنی جگہ رہنے دیں اور ایک بالکل نئی کہانی تیار کریں جو نہ صرف پرانے دیوتاؤں اور اقوام کو پیچھے چھوڑ دے بلکہ آزادی اور مساوات کی بنیادی جدید اقدار سے بھی بالاتر ہو۔

فی الحال، انسانیت ان سوالات پر کسی اتفاق رائے کو حاصل کرنے سے دور ہے۔ پرانی کہانیوں پر اعتماد کھو جانے کے بعد لو گ ابھی تک شک اور غصے کے عالم میں ہیں۔ تو پھر اب کیا ہوگا؟ پہلا قدم عذاب کی پیشین گوئیوں کو کم کرنا اور خوف و ہراس پھیلانے کے عمل کو پیچھے چھوڑ کر مثبت حیرانی کی طرف سفر کرنا ہے۔ کیونکہ حیرانی بظاہر ایک چھوٹا سا عنصر ہے، لیکن یہ انسان میں سوچنے اور تدبر کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ غور و فکر اور تنقید ی سوچ یقیناً انسانیت کو بند گلی میں لے جانے کی بجائے روشنی کے ایک نئے جہاں سے روشناس کرائے گی۔

مندرجہ ذیل ابواب ہمارے بارے میں کچھ پریشان کن نئے امکانات واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سے ہمیں راہنمائی ملے گی کہ ہم آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن انسانیت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ حل تلاش کرنے سے پہلے ٹیکنالوجی سے منسلک تمام تر چیلنجوں پر قابو پانا ضروری ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی میں انقلابات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں اور یہ بات ابھی قابل بحث ہے کہ وہ کس قدر لبرل ازم کے موجودہ بحرانوں کے ذمہ دار ہیں۔

برمنگھم، استنبول، سینٹ پیٹرز برگ اور ممبئی کے زیادہ تر لوگ مصنوعی ذہانت کے عروج اور ان کی زندگیوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے بار ے میں بہت کم واقف ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ تکنیکی انقلاب آئندہ چند دہائیوں میں زور پکڑیں گے اور انسانیت کے لیے اس کا سامنا کرنا ابھی تک کی تمام مشکل ترین آزمائشوں سے بڑا چیلنج ہے۔ کوئی بھی کہانی جو انسانیت کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسے خود کو ان درپیش چیلنجوں سے نپٹنے کی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی۔ اگر لبرل ازم، نیشنل ازم، اسلام یا کوئی بھی نیا مسلک سال 2050 کی دنیا کی تشکیل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے نہ صرف مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، الگورتھم، بائیو انجینیئرنگ کو احسن انداز میں جاننے کی ضرورت ہوگی بلکہ انہیں ایک نئے معنی خیز بیانیہ میں شامل کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔

ٹیکنالوجی کے اس چیلنج کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے شاید یہ بہتر ہوگا کہ جاب مارکیٹ سے شروعات کیا جائے۔ 2015 کے بعد سے میں دنیا بھر میں سرکاری عہدیداروں، کاروباری افراد، سماجی کارکنوں اور اسکولوں کے بچوں سے انسانی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر چکا ہوں۔ وہ جب بھی مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا الگورتھم اور بائیو انجینیئرنگ کے بارے میں گفتگو سے بیزار ہوجاتے ہیں، تو میں ان کی توجہ واپس حاصل کرنے کے لیے ایک جادوئی لفظ استعمال کر تا ہوں :نوکریاں۔

۔ ۔ ٹیکنالوجی کا انقلاب جلد ہی اربوں انسانوں کو ملازمت کی منڈی سے باہر نکال سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے بے کار افراد کا بہت بڑا طبقہ پیدا ہوگا۔ یہ امر معاشرتی اور سیاسی ہنگامہ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن فی الحال کسی بھی نظریہ کے پاس اس مسئلہ سے نپٹنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ شاید فی الحال ٹیکنالوجی اور نظریہ کی بات محض خیالی لگے، لیکن بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا حقیقی امکان کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔

نوٹ:
تحریر میں موجود اصطلاحات کی مختصر وضاحت

فینکس : ایک روایتی پرندہ، ققنس جس کے بارے میں روایت ہے کہ عرب کے ریگستان سے ابھرا، پانچ چھ سو سال زندہ رہنے کے بعد خود کو بھسم کرلیا اور پھر اسی آگ میں سے جوان ہو کر نکلا تاکہ نئے سرے پانچ چھ سو سال کا دور پورا کرے۔ ( 2 ) کوئی عجیب، انوکھا انسان یا شے

آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننڈ:یہ آسٹریا ہنگری کے تخت کا وارث تھا۔ سراجیو (علاقے کا نام) میں اس کا قتل پہلی جنگ عظیم کی سب سے فوری وجہ سمجھا جاتا ہے

سامراجیت: محکوم ممالک پر اقتدار حاصل کرنے اور اپنی علمداری، اثر و نفوذ کو بڑھانے کی پالیسی

چے گویرا: یہ کیوبا کے انقلاب میں ایک ممتاز کمیونسٹ شخصیت تھی۔ 1967 میں پھانسی پانے کے بعد یہ دنیا بھر میں بائیں بازو کی تحریکوں میں سامراج مخالف ہیرو مانا گیا

گلک: وہ سرکاری ایجنسی جو سوویت نیٹ ورک میں جبری مزدوری کیمپوں کی انچارج تھی۔

کنفیوشس: ایک چینی فلاسفر جس نے ذاتی اور سرکاری اخلاقیات، معاشرتی تعلقات کی درستگی، انصاف، احسان اور اخلاص پر زور دیا۔

بالشویک انقلاب:جب بالشویک پارٹی کے رہنما ولادیمیر لینن کی سربراہی میں بائیں بازو کے انقلابیوں نے بغیر خون بہائے ڈوما کی عارضی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ بالشویکوں اور ان کے اتحادیوں نے پیٹرو گراڈ میں سرکاری عمارتوں اور دیگر اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کرلیا اور جلد ہی لینن نے اس کے سربراہ کی حیثیت سے ایک نئی حکومت تشکیل دی۔

اس سیریز کے دیگر حصےیوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments