اکیسویں صدی کے اکیس سبق – آزاد پرندہ (قسط 3)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آزاد پرندہ

ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ لبرل سٹوری کو اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے۔ انیسویں صدی کے آخری حصے میں جب سے اس کہانی کو عالمی اثرورسوخ حاصل ہوا ہے، اس کہانی کو بحران کا سامنا ہے۔ گلوبلائزیشن اور لبرل ازم کے پہلے دور کا خاتمہ (جب شاہی طاقت کی سیاست نے عالمی ترقی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی) پہلی جنگ عظیم کی خون ریزی کے ساتھ ہوا۔ آنے والے دنوں میں ’آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننڈ‘ کے قتل نے یہ حقیقت عیاں کردی کہ بڑی طاقتیں لبرل ازم کی بجائے امپیریل ازم پر یقین رکھتی ہیں۔

اس لیے انہوں نے آزاد او ر پرامن تجارت کے ذریعے پوری دنیا کو متحد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ بلکہ وہ دنیا کے ایک بڑے حصے کو ظالمانہ طریقے سے طاقت کا استعمال کر کے فتح کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم لبرل ازم نے فرانز فرڈیننڈ تحریک کو زندگی بخشی اور اس ظالمانہ بھنور کے اندر سے پہلے کی نسبت طاقتور ہو کر باہر نکلی اور دنیا کو نوید سنائی کہ یہ جنگ تمام جنگوں کا خاتمہ کردے گی۔ مبینہ طور پر اس بے مثال قتل و غارت نے انسان کو سامراجیت کی خوفناک قیمت کا سبق سکھایا اور اب دنیا مکمل طور پر آزادی اور امن کی بنیاد پر ایک نئی دنیا تخلیق کرنے کے لیے تیار کیا۔

پھر ہٹلر کی تحریک کا آغاز ہوا اور 1930 سے 1940 کی ابتدائی دہائی تک اس کے خلاف مزاحمت کا سوچنا بھی مشکل تھا۔ چے گویرا تحریک سے 1950 سے 1970 کے درمیان ایک بار پھر ایسا لگا کہ لبرل ازم اپنی آخری اسٹیج پر ہے اور دنیا کا مستقبل اب کمیونزم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لیکن آخر کار کمیونزم کو شکست ہوئی اور سپر مارکیٹ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ’گلاگ‘ سے زیادہ طاقتور ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ لبرل سٹوری نے اپنے آپ کو مخالفین کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور متحرک فریق ثابت کیا۔ اپنے بہترین آئیڈیاز اور پریکٹس کی بدولت یہ سامراجیت، فاشزم اور کمیونزم پر فتح پا گئی۔ لبرل کہانی نے کمیونزم سے خاص طور پر سیکھا کہ وہ آزادی کے ساتھ ہمدردی کے دائرہ کار کو وسیع کرے اور برابری کی قدر و قیمت کو بھی ملحوظ خاطر رکھے۔

ابتدا میں لبرل سٹوری نے یورپ کی مڈل کلاس کے مردوں کی آزادی اور حقوق کا بہت خیال رکھا اور یوں لگتا تھا کہ اسے محنت کش طبقے کی عورتیں، اقلیتیں اور غیر مغربی لوگوں کی حالت زار نظر ہی نہیں آتی ہے۔ 1918 جب فاتح برطانیہ اور فرانس بڑے پرجوش انداز میں آزادی کی بات کر رہے تھے تو اس وقت وہ دور دراز ممالک میں بسنے والی اپنی رعایا کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہے تھے۔ مثال کے طور پر جب انڈیا نے خود ارادیت مانگی تو 1919 میں انہیں اس کا جواب امرتسر میں قتل عام سے دیا گیا۔ اس بھیانک واردات میں برطانوی آرمی نے سینکڑوں نہتے مظاہرین کو قتل کردیا۔

حتی کہ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر مغربی لبرلز کو بڑی مشکل صورتحال کا سامنا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی فرض کی ہوئی عالمگیر اقدار کو غیر مغربی اقوام پر لا گو کر رہے تھے۔ اس لیے 1945 میں جب ڈچ لوگوں نے پانچ سالہ ظالمانہ نازی قبضے سے جان چھڑائی تو انہوں نے اپنی فوج بنائی اور اسے اپنی سابقہ کالونی ’انڈونیشیا‘ کو حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ جبکہ خود 1940 میں ڈچ قوم نے چار دن کی لڑائی کے بعد اپنی آزادی ترک کردی تھی۔ لیکن وہ خود انڈونیشیا کی آزادی سلب کرنے کے لیے تلخ اور شدید تھکا دینے والے چار سالوں تک لڑا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کی قومی آزادی کی تحریکوں کی امیدیں خود ساختہ آزادی کے داعی مغرب کی بجائے کمیونسٹ ماسکو اور بیجنگ سے وابستہ تھیں۔

تاہم بتدریج لبرل سٹوری نے اپنی حدود کو وسیع کیا اور کم از کم تھیوری کی حد تک ہی سہی، ہر شخص کے حقوق اور آزادی کو بلا تخصیص اہمیت دی گئی۔ جونہی آزادی کا دائرہ کار بڑھا تو لبرل سٹوری کمیونسٹ انداز میں فلاحی پروگراموں کی اہمیت سے روشناس ہوئی، کیونکہ آزادی کی تب تک کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک اس میں سماجی تحفظ کے احساس کو گہر ا نہ کیا جائے۔ سماجی، جمہوری اور فلاح و بہبود ی ریاستیں جمہوریت اور انسانی حقوق کی علم بردار بن کر اپنی عوام کو تعلیم اور صحت کی فراہمی یقینی بناتی ہیں، حتی کہ ضرورت سے زیادہ کیپٹلسٹ امریکہ کو بھی یہ احساس ہوگیا ہے کہ آزادی کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ فاقہ زدہ بچوں کے پاس کوئی آزادی نہیں ہوتی ہے۔

1990 کے آغاز سے سیاستدانوں اور مفکرین نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ ماضی سے جڑے بڑے بڑے سیاسی اور معاشی مسائل حل ہوگئے ہیں۔ تجدید شدہ لبرل سٹوری کے منشور میں موجود جمہوریت، انسانی حقوق، فری مارکیٹ اور حکومتی فلاح و بہبود کی خدمات ہی انسانیت کے مستقبل ہے۔ یہ منشور ساری دنیا کے مستقبل کے طور پر جانا گیا، جس نے تمام تر رکاوٹوں پر قابو پا لیا۔ اس نے قومی سرحدوں کو ختم کردیا اور انسان کو ایک مکمل آزاد معاشرے میں بدل دیا۔

لیکن تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ فرانز فرڈیننڈ تحریک، ہٹلر تحریک، چے گویرا تحریک کے بعد آج ہم ٹرمپ تحریک کے دور میں موجود ہیں۔ تاہم اس وقت لبرل ازم کو اپنے جیسے نظریاتی مخالف (سامراجیت، فاشزم یا کمیونزم ) کا سامنا نہیں ہے۔ ٹرمپ تحریک عدمیت سے بھی بہت آگے کی چیز ہے۔

جبکہ بیسیوں صدی کی تمام تحریکیں مکمل نسل انسانی کے لیے کسی نہ کسی طرز کے منشور (جس میں عالمی غلبہ، انقلاب یا آزادی کا منشور شامل ہے ) کی حامل تھیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایسے کسی بھی نظریے کا فقدان ہے۔ ان تمام تر نظریات کے بالکل برعکس اس کا پیغام یہ ہے کہ یہ امریکہ کا کام نہیں ہے کہ وہ عالمی بصیرت کو واضح کرے اور اس کی ترویج کرتا پھرے۔ بالکل اسی طرح سے برطانیہ کے بریگزٹ کے پاس اس منتشر بادشاہت کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

یورپ اور دنیا کا مستقبل ان کی سوچ سے بہت دور کی باتیں ہیں۔ جن لوگوں نے ٹرمپ اور بریگزٹ کو ووٹ کیا ان میں سے اکثر لوگ لبرل منشور کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے ہیں، بلکہ ان کا اس کہانی کے عالمگیر نقطہ نظر سے اعتماد متزلزل ہے۔ یہ سب لوگ ابھی بھی جمہوریت، آزاد مارکیٹ، انسانی حقوق اور سماجی ذمہ داری پر یقین رکھتے ہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ ان تمام اچھے خیالات کو بارڈر پر روکا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ یارک شائر اور کینٹو کے میں آزادی اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے یہ بہترین حکمت عملی ہوگی کہ بارڈر پر دیوار بنا دی جائے اور غیر ملکیوں کے لیے امیگریشن پر پابندی کی پالیسی کو اپنایا جائے۔

ابھرتی ہوئی چینی سپر پاور کا بھی یہی طریقہ کار ہے۔ وہ اپنی مقامی حکومت کو آزاد کرنے کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، مگر باقی دنیا کے لیے اس نے آزاد خیال نقطہ نظر اپنایا ہوا ہے۔ درحقیقت جب آزاد تجارت اور بین الاقوامی تعاون کی بات آتی ہے تو ’زی جن ینگ‘ باراک اوباما کا جانشین نظر آتا ہے، کیونکہ تب چین مارکسزم اور لینن ازم کو پس پشت ڈال کر بین الاقوامی لبرل آرڈر کے ساتھ کھڑا ہونے میں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے۔

دوبارہ طاقتور ہونے والا ملک روس اپنے آپ کو گلوبل لبرل آرڈر کا طاقتور حریف سمجھتا ہے اگرچہ اس نے اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ سے منظم کرلیا ہے۔ مگر نظریاتی طور پر اس کا دیوالیہ ہوچکا ہے۔ ولادیمر پیوٹن روس اور دنیا بھر میں دائیں بازو کی تحریکوں میں کافی مقبول ہے، لیکن اس کے پاس کوئی عالمی منصوبہ نہیں ہے جس سے یہ بے روزگار ہسپانوی، ناراض برازیلی یا کیمبرج کے پر امید طلبا کو متاثر کر سکے۔

روس آزاد جمہوریت کے متبادل نظام پیش کرتا ہے، لیکن یہ نظام ایک مربوط سیاسی نظریہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی مشق ہے۔ بہت سارے لوگ مل کر ملک کی زیادہ تر دولت اور طاقت پر اجارہ داری قائم کرلیتے ہیں اور پھر میڈیا سے اپنی سرگرمیاں چھپانے کی غرض سے اسے کنٹرول کرتے ہیں اور اپنے اقتدار کو مضبوط بناتے ہیں۔ جمہوریت ابراہم لنکن کے اصولوں پر قائم ہے کہ ’آپ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بیوقوف بنا سکتے ہیں مگر آپ سبھی لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بیوقوف نہیں بنا سکتے ہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر حکومت بدعنوان ہے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ناکام ہوگئی ہے تو شہریوں کی اکثریت کو اس حقیقت کا ادراک ہوجائے گا اور وہ حکومت کو بدل دیں گے۔ لیکن وہ حکومت جو میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے وہ ابراہم لنکن کی فلاسفی کے برعکس کام کرتی ہے، کیونکہ اس طر ح عوام تک سچ نہیں پہنچ سکے گا اور اس طرح میڈیا پر اجارہ داری سے حکمران اشرافیہ بڑی چالاکی سے اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دے گی اور عوام کی نظریں بیرونی خطرات (حقیقی یا فرضی) کی طرف لگا دے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےیوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments