آج ہمارا دن ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دل میں کوئی چٹکی بھرتا ہے، کیا واقعی تمہارا دن ہے؟ تمہارا کیا کمال؟ یہ سہرا تو کسی اور کے سر سجتا ہے جس نے تمہیں اس سنگھاسن پہ لا بٹھایا۔

احسان اس ننھی پری کا جو پچیس برس قبل بنا کسی چاہت، خواہش اور تگ و دو کے ہمارے بطن میں آ ٹھہری۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم گردن تانے، انبساط کے عالم میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا دن ہے!

انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اپنے منہ سے یہ اقرار کر لیں کہ اپنے بچپن اور نوجوانی میں ہمیں بچے قطعی اچھے نہیں لگتے تھے، اور سچ پوچھیے تو کچھ کچھ آج بھی ایسا ہی ہے۔

بچوں سے چڑ کیسے ہوئی، واضح طور پہ تو یاد نہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہے کہ اس ناپسندیدگی کی وجہ بچوں کی وہ عادت تھی جو بلاوجہ رونے اور ضد کرنے پہ ماں باپ کو زچ کر ڈالتی۔ دیکھنے میں آتا کہ ماں زانو پہ ڈال کے تھپکے چلی جاتی ہے، بچے کا رونا تھمتا ہی نہیں۔ باپ کندھے سے لگا کے جھلا جھلا کے تھک کے بیزار ہو چلا ہے لیکن بچے کی چیخیں کم ہی نہیں ہوتیں۔ ہمارے لئے آج بھی جہاز کے طویل سفر کے دوران کسی چھوٹے بچے کے پہلو میں بیٹھنا کسی سزا سے کم نہیں۔ ماؤں کی اسی آزمائش کو دیکھتے ہوئے فیض صاحب نے کیا اچھا لکھا:

ان دکھی ماؤں کے نام

رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور

نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں

دکھ بتاتے نہیں

منتوں زاریوں سے بہلتے نہیں

ایسی خاتون کا ماں ہونا اس کے بچوں کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔ بس داد دیجیے کہ ان معصوموں نے یہ امتحان ہنستے کھیلتے پاس کر لیا۔

شادی جب ہوئی تو یقین مانیے ہمیں ماں بننے کی نہ تو چاہ تھی اور نہ ہی سوچا تھا۔ ابھی تو بچپن سے تھامی ہوئی کتابوں سے کچھ فرصت ہوئی تھی، ابھی تو اپنی ماں سے لاڈ اٹھوانے باقی تھے، لیکن ہمیں سانس لینے کی مہلت ہی نہیں ملی۔ چھ برس ہوسٹل میں رہنے کے بعد گھر واپسی ہوئی اور پھر ایک دوسرا سفر شروع ہوا۔

حمل شروع ہوا تو نہ طبعیت متلانے پہ شور کیا، نہ قے کا زور ہونے پہ واہی تباہی بکی۔ نہ کمر میں درد اٹھنے پہ غلغلہ کہ بستر چاہیے نہ ضعف قلب کا حملہ ہونے کی شکایت پہ طبیب گھر پہ بلائے جانے کی فرمائش۔ اپنے آپ کو بہادر ظاہر کر کے پہلے سے بھی زیادہ کدکڑے بھرتے اور اس پہ بھی چین نہ آیا تو منگلا کینٹ کے پاس گلزار کی جنم بھومی دینہ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری کر ڈالی۔

 چوبیس گھنٹے کی آن کال ڈیوٹی کرتے، تین منزلہ عمارت کی سیڑھیاں متعدد بار پھلانگتے اور دن رات مریضوں میں بسر کرتے۔ وہ مریضہ آج بھی یاد ہے جس کو دیکھتے ہوئے طبعیت متلانے پہ حمام کو دوڑے۔ جب قے کرنے کے بعد الٹے پاؤں واپس آئے اور معائنے کا آغاز وہیں سے کیا جہاں منقطع ہوا تھا تو اس نے بڑی حیرت اور پریشانی سے کہا تھا، ڈاکٹر صاب تسی وی؟ (ڈاکٹر صاحب، آپ بھی )۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا، بروٹس، یو ٹو! ویسے اس مریضہ کی معصوم حیرت پر ڈومیلی (سوہاوہ) کے ایک قبرستانی پیر صاحب کی مریدنی کا قصہ سنانا چاہیے تھا لیکن سب باتیں لکھنے کی تھوڑی ہوتی ہیں۔۔۔

ہم بھی الہڑ اور معصوم تھے، زمانے کی عیاریوں سے نا آشنا۔ یہ تو گائنی کی کھٹنائیوں سے گزرنے کے بعد علم ہوا کہ ہمیں اتنا مرد مار بننے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟ کچھ تو نوبیاہتا دلہن کے ناز وانداز سے کام لیا ہوتا/ حسرت ان غنچوں پہ ہے…..

ہفتہ واری چھٹی ہوتی تو بستر پہ اینٹھنے کی بجائے پنڈی روانہ ہوجاتے جہاں بازاروں میں گھنٹوں گھومتے۔ آنے والے مہمان کی خاطر داری کے لوازمات خریدے جاتے، گدا، تکیہ، پرام، جھولا، کھانے کی کرسی، کارٹون والی شرٹس، ننھی منی بوٹیز اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ نہ معلوم یہ آنے والی کی چاہ تھی یا ہماری اپنی ناتمام خواہشات!

ہمیں تصاویر بنانے کا جنون تھا سو اولین لمحوں کی عکس بندی کے لئے اولمپس کیمرہ خریدا گیا۔ نئے مہمان کی ہر ادا کا دن اور وقت قلمبند کرنے کے لئے بےبی بک کا بھی اہتمام کر لیا گیا۔ سب تیاریاں مکمل تھیں، ہم سر پہ کفن باندھے تیار کھڑے تھے زندگی کی تمثیل میں ایک اور کردار نباہنے کے لئے۔

پہلا سبق جو ننھی پری کو سکھایا گیا وہ وہی تھا جس سے ہمیں چڑ تھی یعنی بلاوجہ رونے کی عادت سے پرہیز۔ ہم اسے نہلاتے، دھلاتے، گرم سردی کے مطابق کپڑے پہناتے، پیٹ پوجا کرواتے، بول براز کے معاملات دیکھتے اور پھر بےبی کاٹ میں لٹا دیتے۔ لیجیے جناب اس کے بعد ہمارا نادر شاہی حکم نافذ ہو جاتا۔

حکم کی پہلی شق یہ تھی کہ بچی کو بلاوجہ رونے کی صورت میں اٹھا کے گلے نہیں لگایا جائے گا چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ روئے۔ دوسری شق یہ کہ بچی کو گود لینے، جھلانے، اچھالنے اور کندھے سے لگا کے ٹہلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ کاٹ میں لیٹی ہوئی بچی کے ساتھ جتنا چاہے، لاڈ و پیار دکھائیے۔

اب عالم یہ ہوتا کہ بچی جونہی ہلکی سی آواز نکالتی، سب ارد گرد والوں کی جان پہ بن جاتی۔ کوئی ساتھ والے کمرے سے دوڑا آتا، کوئی پاس سے ہاتھ بڑھاتا، کوئی اٹھانے کو جھکتا لیکن ہماری تیوری دیکھ کے سب جہاں ہوتے، وہیں رک جاتے۔

ہمارا موقف تھا کہ بالک ہٹ سے کون واقف نہیں! بچے رونے کے ہتھیار کو اپنی بات منوانے کے لئے استعمال کیا کرتے ہیں سو ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ اگر راج ہٹ پہ اختیار نہیں، تریا ہٹ اماں نے نہیں سکھائی تو ہم کم ازکم بالک ہٹ سے نبٹنے پہ ہی اپنے جوہر دکھائیں۔

اماں کی بڑبڑاہٹ پورے گھر میں گونجتی

 ” نہ جانے یہ کون سے جدید طریقے ہیں بچہ پالنے کے، بھلا پوچھو، کیا ہم نے اسے اسی طرز پہ پالا تھا؟”

باقی کے چاہنے والے بھی میدان میں اتر آتے لیکن ہمارا انکار اقرار میں نہ بدلتا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ بچی نے جلد ہی جان لیا کہ اماں تھوڑی خر دماغ ہیں سو اسے ہی نبھاؤ کا ہنر سیکھنا پڑے گا، خواہ مخواہ ہلکان ہونے کا فائدہ!

سو ہوا کیا کہ برس ایسے بیتے جن میں ایسا کوئی لمحہ یاد نہیں جب ہماری صاحبزادی بنا کسی تکلیف کے بلاوجہ روئی ہو، ایسا کوئی دن ہماری یادداشت میں نہیں جس کی رات آنکھوں میں کٹی ہو۔

آج ربع صدی گزرنے کے بعد ہم مڑ کے دیکھتے ہیں، ایک مسکراہٹ لبوں پہ آ رکتی ہے، ایک آنسو نوک مژگاں پہ چمکنے لگتا ہے۔ نوک سی چبھ گئی ہے چھالے میں۔۔۔ ہمیں تو بن مانگے کی اس دولت نے جس لمس سے روشناس کروا دیا، اس پہ گزشتہ پچیس برسوں سے ہم نازاں ہیں۔

اس لمحے کی یاد میں تو ہر دن ہمارا دن ہے، صرف دس مئی ہی کیوں؟

Happy Mothers’ Day

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *