درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظ ہجر سے نکلا یہ لفظ خود اپنی تعریف اور وضاحت کر دیتا ہے۔ اپنی مٹی اپنے گھر بار اور اپنے مقام کو چھوڑ کر کہیں اور جا بسنا ہجرت ہے اور یہ زیادہ تر بحالت مجبوری کی جاتی ہے۔ ہجرت کی تاریخ زمانہ قدیم سے جا ملتی ہے۔ وجوہات کئی ہیں۔ پرانے زمانے میں قحط سالی، جنگ، سیلاب قدرتی آفات یا طاقت کے زور پر بے دخل کر دیئے جانے کے اسباب ہوتے تھے۔

آج ان بنیادی وجوہات میں کچھ اور اضافہ ہوا ہے۔ جنگ، قحط کے علاوہ خانہ جنگی، بہتر مواقع، بے روزگاری، سیاسی اختلافات یا مذہبی منافرت۔ اقلیتی فرقے سے امتیازی سلوک وغیرہ۔

ہجرت اکثر ہمیشہ ایک بہتر جگہ پر کی جاتی ہے۔ وہ ملک جہاں بہت کچھ اچھا اور بہتر ہو۔ پاکستان سے کبھی کوئی صومالیہ ہجرت نہیں کرے گا۔ یا انڈیا سے کوئی افغانستان بہتر مستقبل کی تلاش میں نہیں جائے گا۔ ہجرت انفرادی بھی ہوتی ہے اور اجتماعی بھی۔

سوچیئے ذرا اگر آج امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یوروپی ممالک اپنے اپنے ملکوں سے ویزا کی نرمی کر دیں تو شاید پاکستان کی تین چوتھائی آبادی ترک وطن کر دے۔ بس حکمران اور شوگر ملوں والے رہ جایں۔ وہ بھی پھر کس پر حکومت کریں گے اور کس کو چینی بیچیں گے۔

اجتماعی ہجرت اکثر ان ملکوں سے ہوتی ہے جو جنگ یا خانہ جنگی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ۔ یہ اجتماعی ہجرت پاس کے پڑوسی ملکوں تک جاتی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور بھارت سے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں نے  نئی سرزمین کی جانب ہجرت کی۔ ایران میں انقلاب آیا تو ایران کے ہزاروں نہیں لاکھوں شہری نئی حکومت کے کشت و خون سے خائف ہو کر دنیا بھر میں پھیل گئے۔ افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو افغانیوں نے پاکستان اور ایران میں پناہ لی۔ پھر میانمار کے روہینگیا بنگلہ دیش پہنچے اور اس سے پہلے بنگلہ دیشی بھارت ہجرت کرتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔ اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ہم نے افغان باشندوں کو تو آنے دیا لیکن بہاریوں پر دروازے بند کر دیئے حالانکہ وہ پاکستانی تھے بلکہ شاید ہم سے زیادہ پاکستانی تھے۔ بہاری اب بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک شام کے باشندوں کی اجتماعی ہجرت خبروں کی سرخیاں بنتی رہیں۔ دردناک کہانیاں اور دل دوز تصاویر ہم سب نے دیکھیں۔ یہ لوگ یوروپ کے کسی ملک میں جانا چاہتے تھے ۔ کورونا کی آفت نے ہم سب کی نظروں سے اس المیہ کو اوجھل سا کردیا ہے۔ لیکن یہ ایک انتہائی درجے کا انسانی المیہ ہے۔ اس بحث کو ہم چھوڑ دیتے ہیں کہ آخر شام میں ہوا کیا؟ امریکہ کا اس میں کیا کردار ہے؟ روس کس کی بشت پناہی کر رہا ہے؟ ایران کیوں اس میں کودا؟ ترکی کو کیا مسلئہ ہے؟ داعش کا قبضہ کہاں کہاں ہے؟ شام ایک اجڑا دیار ہے وہاں جنگ بھی ہے اور خانہ جنگی بھی۔ اور اس دوہری مصیبت میں گرفتار محفوظ مقام کی تلاش میں سرگرداں بچارے عوام ۔

جیسے ہی شامیوں نے محفوظ مقام کی تلاش میں نقل مکانی شروع کی آس پاس کے مالدارعرب ملکوں کے سربراہوں نے دروازوں کی کنڈیاں بند کرلیں اور پہرے دار بڑھا دیئے۔ دنیا میں اس وقت پانچ ملین سے زیادہ شامی مہاجرین دوسرے ملکوں میں ہیں۔ سب سے زیادہ ترکی میں ہیں۔ اس کے بعد لبنان، اردن اور جرمنی میں۔ جرمنی کی اینجیلا مرکل نے دبے الفاظ میں کہا بھی کہ ان شامیوں کی مدد ان کے ہمسائے ممالک کو کرنی چاہیئے۔ ان کے پاس دولت بھی ہے اور زمین بھی۔ وہ ہم مذہب بھی ہیں اور ہم زبان بھی۔ لیکن مالدار عرب آنکھیں کان بند کیئے رہے۔ ان کو رحم تو کیا شرم بھی نہ آئی۔

سن 2016 میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین ایک ڈیل کے تحت ترک صدر نے ان مہاجرین کو یورپی یونین میں داخل ہونے سے روکے رکھنے کا عہد کیا تھا۔ اس ڈیل کے عوض یورپی یونین نے ترکی کو مالی معاونت فراہم کرنے کی حامی بھی بھری تھی۔ اردگان کی کوشش ہے کہ اس ڈیل پر کچھ نئی شرائط منوا لی جائیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ یورپی یونین ترک فورسز کی طرف سے شامی علاقے ادلب میں جاری فوجی کارروائی کی حمایت کرے۔ یعنی کچھ دو کچھ لو۔

 یونانی حکومت سمندری راستے سے آنے والے ان مہاجرین کی یلغار سے پہلے ہی پریشان ہے۔ ترکی سے بھی یونان داخل ہونے کی غیرقانونی کوشش کرنے والے 40 ہزار سے زائد مہاجرین کو واپس دھکیل دیا گیا ہے۔ یونانی سکیورٹی اور سرحدی گارڈز نے ان تارکین وطن افراد کے خلاف تیز دھار والا پانی اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا ہے۔ ہزاروں مہاجرین اس وقت ترکی اور یونان کی سرحد پر موجود ہیں، جو یورپی یونین میں شامل ممالک کی سرحدوں میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ یونانی سرحد پر یونانیوں نے شامیوں کے ساتھ نازیوں والا سلوک کیا۔ اردگان نے یونانی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان مہاجرین کو یورپی یونین کے امیر ممالک میں داخلے کی اجازت دے۔ لکین فی الحال یہ مہاجرین کیمپوں میں مقیم ایک مشکل زندگی گذار رہے ہیں۔

دنیا اب ایک اور خوفناک ترین منظر دیکھنے کو تیار ہو جائے۔ اگر کورونا کی وبا ان کیمپوں میں پھوٹتی ہے تو اموات کی گنتی مشکل ہو جائے گی۔ ترکی نے دھمکی بھی دی کہ وہ ان مہاجرین کے کیمپوں کے گیٹ کھول کر انہیں یوروپ کی طرف دھکیل دے گا۔ اور شدید مالی بحران کی وجہ سے وہ ایسا کر بھی دے۔ ترکی کی سیاحت انڈسٹری کورونا سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اور ترکی کے لیئے ان مہاجیرین کو سنبھالنا اب مشکل تر ہو رہا ہے۔

اس شدید وبائی خوف اور غیر یقینی حالات میں بھی لوگ جانوں پر کھیل کر ٹوٹی پھوٹی کشتیوں، ربربوٹس پر کسی بھی طرح یوروپ پہنچنے کے آرزو مند ہیں۔ یہ ایک شدید نوعیت کا انسانی المیہ ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ میڈیا بھی اس انسانی مسلئے کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا۔ ان مہاجرین کی منزل یوروپ کا کوئی خوشحال ملک ہے۔ جو فلاحی ریاست ہو، جہاں مضبوط معیشت ہو، معاشرہ کھلے ذہن کا ہو۔ ہم خود چاہے جتنے بھی تنگ نظر ہوں، ہجرت کے لئے  ہمیں روشن خیال معاشرہ چاہیئے۔

یوروپ ایک لمبے عرصے تک کھلے اور درد مند دل کے ساتھ مہاجرین کو اپناتا رہا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ان کے شہریوں کے دل تنگ ہو رہے ہیں اور ذہن کشمکش میں ہیں۔

ناروے میں یہ ذمہ داری وزارت انصاف کی ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیز کو سامنے رکھتے ہوئے امیگریشن کے قوانین بنائے۔ گورنمنٹ بدلنے سے قوانین میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔ دائیں بازو کی موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ غیر ملکیوں کی آمد پر کنٹرل سخت تر کیا جائے۔ پناہ کے لیئے آنے والوں کے کیسیز جلد از جلد نمٹا کر جن کو واقعی پناہ کی ضرورت ہے انہیں رکھا جائے باقیوں کو فوری طور پر روانہ کر دیا جائے۔ ناروے نے 2015 سے 2017 تک 8000 شامی پناہ گزینوں کو ملک میں جگہ دی۔ لیکن اب سخت تر قوانین کی وجہ سے ان میں کمی آئی ہے۔ غیر ملکیوں کے معاملات سے متعلقہ محکمہ یو ڈی آئی کے مطابق 2020 میں 500 شامی مہاجرین آئے ہیں اور پناہ کی درخواست دی ہے۔ شامیوں کی یہ تعداد دوسرے تمام ممالک سے آنے والوں سے زیادہ ہے۔ انسانی ہمدردی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ لیکن اب یہ ہمدردی اتنی نہیں۔ لوگ دوسرے زاویوں سے بھی سوچ رہے ہیں اور اپنی مخالفت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

 میں نے اخبارات اور سوشل میڈیا کو قریب سےفولو کیا۔ مختلف فورمز پر بحث دیکھی۔ اور بغور دیکھنے سے یہ علم ہوا کہ اب ان شامی مہاجرین کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور کس طرح سوچتے ہیں۔ دو بڑے گروپ ہیں جن کی الگ الگ آرا ہیں۔

شامی مہاجرین۔

گروپ 1۔ مسلمان تنگ نظر، تنگ ذہن، پر تشدد اور دہشت گرد ہیں۔ انہیں ملک میں آنے نہ دیا جائے۔

گروپ 2۔ کسی کو مذہب کی بنیاد پر آنے سے روکنا نسل پرستی کی ایک شکل ہے۔ ہمارا آیئن اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ایسا امتیازی سلوک کریں۔ ۔

ان غیر قانونی مہاجرین کا کیا کیا جائے جو سرحد تک آ پہنچے ہیں؟

 گروپ 1۔ انہیں واپس بھیجا جائے۔ سرحدیں ہرگز نہ کھولی جایں۔ پولیس انہیں واپس دھکیلے۔ ۔ ان میں داعش کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔

 گروپ 2۔ زیادہ تر مہاجرین غیر قانونی طور پر ہی آتے ہیں۔ اب وہ بے چارے یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیئے۔

غیر قانونی مہاجرین کے پیدا پونے والے بچوں کا کیا جائے؟کیا نہیں قانونی طور پر ملک کی شہریت دے دی جائے؟٫

گروپ 1۔ نہیں۔ غیر قانونی والدین کے بچے بھی غیر قانونی سمجھے جائیں۔

گروپ 2۔ ملک کا آئین کہتا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ملک شہریت رکھتا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

گروپ 1۔ ان غیر قانونی مہاجرین کا فلاحی سہولتوں پر کوئی حق نہیں۔ جب وہ ہمارے شہری ہی نہیں ہیں تو نظام سے استفادہ کیسے کر سکتے ہیں؟

گروپ 2۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سہولتیں دینی چاہیں ۔

غیر قانونی آنے والے مہاجرین کو کام کرنے کا اجات نامہ دینا چاہئے؟

گروپ 1۔ ہر گز نہیں۔ غیر قانونی لوگوں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت کیوں دی جائے؟

گروپ 2 ۔ ورک پرمٹ دیا جانا چاہیئے تاکہ وہ اپنی روزی کما سکیں اور ملک کی معشیت پر بوجھ نہ بنیں ۔ اس طرح وہ ریاست کو ٹیکس بھی ادا کریں گے جو مفید ہے۔

کیا غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو تعلیم کا حق دیا جانا چاہیئے؟

اس پر دونوں گروپس کی رائے ایک ہی تھی۔

ہاں۔ تعلیم ہر بچے کا پیدایئشی حق ہے۔

کیا ہمیں اپنی سرحدیں مزید محفوظ کرنی چاہیئں؟

گروپ 1۔ بالکل ۔ سختی بڑھا دینی چاہئے۔

گروپ 2۔ ہاں۔ جرائم پیشہ افراد کو روکنے کے لیئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ لیکن مہاجرین کے ساتھ مجرموں والا سلوک نہیں ہونا چایئے۔

غیر قانونی مہاجرین میں اگر کوئی سنجیدہ نوعیت کا جرم کرے تو کیا اسے ڈی پورٹ کر دینا چاہیئے؟

گروپ 1۔ غیر قانونی لوگوں کو تو یہاں ہونا ہی نہیں چاہیئے۔ جرم کرنے پر تو فی الفور ڈی پورٹ کیا جائے۔

گروپ 2۔ کیس کی تفتیش ہو۔ ملزم کو صفائی کا پورا موقع ملے۔ جرم ثابت ہونے پر سزا بھی ملے۔ اگر ڈی پورٹ کرنے میں اس کی جان کو خطرہ نہیں تو کر دینا چاہیئے۔ ۔

آپ کے سامنے دونوں قسم کی سوچیں ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پہلے گروپ کی آوازیں بلند تر ہوتی جا رہی ہیں اور دوسرے گروپ کی آواز اب دبی دبی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کا بھی یہی خیال ہے کہ ان شامی مہاجرین کو پناہ دینا ان کے امیر مالدار عرب ہمسائے ملکوں کا فرض ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ اتنی مشکلات اور مصیبتوں کا مقابلہ کر کے یوروپ ہی آنا چاہتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *