مائیں بننے والی حاملہ عورتوں پہ کرونا کی وبا کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علینا میری بہت ہی عزیز بھانجی ہے۔ تازہ گلاب کی مانند خوبصورت اور شاداب۔ بائیس سال کی عمر میں شادی کے بعد وہ امریکہ سے کینیڈا اپنے سسرال چلی گئی، جہاں سے کلینکل سائیکالوجی میں ایم اے کے بعد آج کل اپنی زندگی کے اہم مگر پیچیدہ ترین تجربے سے گزر رہی ہے۔ اس کے وجود میں ایک ننھی کلی چٹک رہی ہے یعنی وہ ماں بننے والی ہے۔ خبر مسرت سے بھر پور سہی مگر کرونا وبا نے جہاں عام لوگوں کو ان دیکھے خوف سے آشنا کیا وہاں علینا جیسی پہلی مرتبہ ماں بننے والی لڑکیوں پہ مزید خوف اور پریشانی طاری ہے۔ میں نے اس سلسلے میں علینا سے اس کے نئے تجربہ اور کرونا وبا کے خدشات اور محسوسات سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ اس کے جوابات کی تخلیص کچھ یوں ہے۔

”اپنے پہلے بچے کی ماں بننا ویسے ہی بہت سے ان کہے، نامعلوم اور بے یقینی حالات اور انگزائٹی کا باعث ہوتا ہے۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ جسم میں ہی نہیں مزاج، سوچ اور ہر بات میں۔ حاملیت کے دور سے متعلق جتنی بھی کتابیں پڑھ لو اور یو ٹیوب پہ کتنی ہی ویڈیوز دیکھ لو آپ پھر بھی آنے والے وقت سے پوری طرح نپٹنے کے لیے تیار نہیں ہو پاتے۔ کجا یہ کہ دنیا میں پھیلی ہوئی کرونا کی وبا کا خوف۔

میں نے تیرہ فروری سے جسمانی دوری اور دوسری احتیاطی ہدایات پہ عمل شروع کیا تھا۔ پہلے میرا پروگرام تھا کہ اپنے میکے (ڈیٹرایٹ مشی گن) جاؤں گی اور ایک ہفتہ گزاروں گی۔ ہیپی شاور (Happy Shower) کا پروگرام بھی تھا مگر اس وبا کی وجہ سے اپنے منصوبوں کو کینسل کرنا پڑا۔ مجھے ہیپی شاور کا دکھ نہیں کہ اب آن لائن شاپنگ نے کام آسان کر دیے ہیں لیکن اہم تو اپنے خاندان کو دیکھنا تھا۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے مجھے میرے بچپن سے دیکھا تھا۔

وہ میری انتہائی خوشی کا وقت ہوتا۔ اب ہر خوشی پہ خوف اور انگزائٹی کی مہر لگ گئی ہے۔ ایک غیر متوقع مشکل اور ذہنی دباؤ کہ اب میں خود اپنے اپوائنٹمنٹ کے لیے نہیں جا سکتی۔ کیونکہ حاملہ عورتوں میں انفیکشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اب مڈوائف کے پاس محض بہت ضرورت پہ ہی جاتی ہوں۔ جب الٹرا ساؤنڈ کے لیے جاتی ہوں تو میرے شوہر کو باہر ہی میرا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس انگزائٹی کے باوجود میں پرامید ہوں اور میرا انداز فکر رجائی ہے۔ جلد ہی وقت آئے گا کہ میں اپنے چاہنے والوں کو دیکھوں گی اور اپنے بچے کے ہمراہ ان کے درمیان ہوں گی ”۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علینا اور اس جیسی حاملہ خواتین پہ اور لوگوں کے مقابلہ میں اس وبا کا زیادہ اثر ہوا ہے۔ ان کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہیں۔ چونکہ یہ وائرس اور اس کی قسمیں نئی ہیں اور ان کے متعلق دنیا ابھی جاننے کے مراحل میں ہے لہٰذا بہت سے سالوں کے جوابات حتمی نہیں بلکہ سوالیہ نشانات ہیں۔ ذیل میں ایسے کچھ سوالات اور ان کے ممکنہ جوابات ہیں۔ جن کو میں نے بطور مائیکرو بیالوجسٹ (میرا اس مضمون کو کالج کی سطح پہ پڑھانے کا بارہ تیرہ سال کا تجربہ ہے ) رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔

1: کیا زمانہ حمل میں کرونا کے انفیکشن سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے؟

ج: ابھی اس سلسلے کی سائنسی رپورٹ اور معلومات محدود ہیں اور یہ حتمی نہیں کہ کووڈ 19 سے سنگینی کا احتمال اس سے ملتے جلتے مثلاً سارس اور دوسرے انفیکشن مثلاً انفلوئنزا سے زیادہ ہے۔ اس زمانے میں عورت کا بدن تبدیلیوں (مدافعتی اور فعلیاتی) سے گزر رہا ہوتا ہے۔ حاملہ عورتوں میں بالخصوص تیسرے ٹرائمسٹر میں تنفسی انفیکشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اس کی شہادت نہیں ملی ہے کہ یہ اسقاط ہونے یا دوسرے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ہر صورت میں مروجہ حفاظتی اقدامات مثلاً سماجی دوری، ہجوم سے پرہیز، ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے وغیرہ کو مستقل جاری رکھنا ضروری ہے۔

2۔ اگر مجھ میں سفر کے بعد کسی کرونا کے مریض سے رابطہ کے نتیجہ میں بخار اور کھانسی جیسی علامات پیدا ہوگئی ہوں تو کیا کروں؟

ج: سب سے پہلے اپنے ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے ان کو فون کرکے علامات اور دوسری تفصیل سے آگاہ کریں۔ تاکہ مسخ کی صورت میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکیں۔ وہ آپ کے ٹیسٹنگ اور تجزیے سے بیماری کا تعین کرے گا۔ اور یہ بھی کہ کس طرح مرض کو مینیج کیا جا سکے۔

3: کیا میرے بیماری سے میرے ہونے والے بچے کو مرض منتقل ہو سکتا ہے؟

ج: نئی کچھ رپورٹس کے مطابق کچھ نومولود میں یہ ٹسٹ مثبت آیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کی یہ وائرس بچہ دانی سے ہی منتقل ہوا ہو۔ سب سے اہم راستہ تنفسی ہے جس کا ذریعہ بیمار کی کھانسی اور چھینک کے ذرات ہیں۔ تاہم دو مختلف اسٹڈیز میں وائرس سے متاثر حاملہ عورتوں کے بچوں میں وائرس نہیں پائے گئے۔ ایک اسٹڈی میں بچے میں مدافعتی اینٹی باڈیز پائے گئے ہیں۔

4: کیا کرونا وائرس سے متاثر مائیں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہیں؟

ج: ابھی تک ماں کے دودھ میں وائرس کی شہادت نہیں ملی ہے۔ گو یہ تجربہ کم ماؤں پہ ہوا ہے تاہم نرسنگ کے دوران ماں کی چھینک سے وائرس بچے کے اندر منتقل ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ دودھ پلانے سے پہلے ماسک اور ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لیا جائے۔ زیادہ محفوظ بات یہ ہو سکتی ہے کہ دودھ کو پمپ کرکے پلایا جائے۔

ان تمام خدشات کے علاوہ پہلی بار ماں بننے والی لڑکیوں میں پیدائش کے لمحات سے خوف کے سبب با اعتماد فرد کی موجودگی کی خوشی قدرتی ہے لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر محض ایک doula یا مددگار انسان ہی کی اجازت ہے۔ جس کی وجہ سے حاملہ عورتوں میں انگزائٹی اور اسٹریس بلکہ بے بسی کے احساسات نمایاں ہیں۔ لیکن اس کا جواب علینا کے ان الفاظ میں مضمر ہے کہ اس انگزائٹی کے باوجود میں پرامید ہوں اور میرا انداز فکر رجائی ہے۔ ماں بننے سے بہتر تحفہ بھلا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اور وقت کا تو ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ وہ ضرور بدلے گا۔

https://www.whattoexpect.com/news/family/pregnancy-newborns-coronavirus-cdc-q-and-a

https://www.whattoexpect.com/news/pregnancy/coronavirus-during-pregnancy/
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *