بڑھتے ہوئے وزن کو قابو کرنے کا ایک طریقہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان کا آدھا مہینہ بخیر و خوبی گزر چکا ہے۔ کھانے پینے کی عادات کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں لیکن یہ تبدیلی ہمیشہ کی طرح عارضی ہی ثابت ہوگی۔ تین وقت باقاعدگی سے کھانا اور بے وقت کی بھوک کو بہلانے کے لیے نام نہاد ہلکے پھلکے اسنیکس کے نام پر ضرورت سے زائد کیلوریز کا استعمال ہماری روزمرہ عادات کا حصہ ہوں گے اور نتیجہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روز افزوں وزن۔ ۔ ۔ جی ہاں وزن میں اضافہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اکثر لوگوں کو درپیش ہے بالخصوص خواتین۔

بڑھتے ہوئے وزن کو قابو کرنے کے لئے اکثر خواتین مختلف قسم کے طریقے آزماتی رہتی ہیں۔ وزن میں کمی کے لئے ایک طریقہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ بھی ہے۔ (میرا خیال ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے لئے جزوی روزہ کی اصطلاح مناسب ہے ) کیونکہ جہاں ایک طرف روزے میں دیگر پابندیوں کے ساتھ کھانے پینے پر مکمل پابندی عائد ہوتی ہے وہیں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں کوئی پابندی نہیں سوائے اس کے کہ ایسی چیزیں لی جاسکتی ہیں جن میں کلوریز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جیسا کہ سبز چائے، بغیر دودھ کے کافی یا قہوہ وغیرہ بعض لوگ لیموں پانی کے استعمال کو بھی جزوی روزے کے دوران بے ضرر تصور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جیسن فنگ کی کتاب ”آ کمپلیٹ گائیڈ ٹو انٹرمٹنٹ فاسٹنگ“ اس حوالے سے نہایت اہم کتاب ہے جس میں جزوی روزے سے متعلق تمام اہم معلومات درج ہیں۔

وزن میں کمی کے لئے ابتدائی طور پر 16 گھنٹے کا کا جزوی روزہ مناسب تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی 24 گھنٹوں کے دوران آپ 8 گھنٹے ایسے منتخب کر لیں جن میں آپ کھا پی سکتے ہیں لیکن بہتر نتائج کے لئے ضروری ہے کہ آپ جو کچھ بھی کھائیں اس میں اگر نشاستہ دار غذائیں کم مقدار میں جبکہ لحمیات اور چکنائی مناسب مقدار میں لیں تو بہتر ہے۔ وزن میں کمی کے لئے خواتین کے لیے 1200 کیلوریز اور مرد حضرات کے لئے 1800 کیلوریز عام طور پر تجویز کی جاتی ہیں۔ اپنے کھانے میں موجود مختلف فوڈ گروپس کی مقدار کو جانچنے کے لئے ایپلیکیشن بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں مثلاً سام سنگ کی ایپلیکیشن
My fitnesspal
بہت اچھی ایپلیکیشن ہے۔

ابتدائی طور پر 16 گھنٹے کا روزہ شاید مشکل محسوس ہو لیکن اگر رمضان کے فوری بعد جزوی روزے کی عادت اپنا لی جائے تو مشکل نہیں۔ روزہ رکھنے کے لئے مناسب گھنٹوں کا انتخاب کیا جائے جیسا کہ اگر شام 6 یا 7 بجے سے روزے کی ابتدا کی جائے تو اگلے دن صبح دس یا گیارہ بجے آپ روزہ کھول سکتے ہیں اور شام 6 یا 7 بجے تک دوبارہ روزہ رکھ لیں۔ جب 16 گھنٹے کا روزہ آسان لگنے لگے تو وقت بڑھاتے جائیں گے تو بہتر نتائج حاصل ہوتے رہیں گے۔

یاد رہے جزوی روزے کے دوران آپ زیرو کیلوریز پر مشتمل مائع جات لے سکتے ہیں۔ جزوی روزے کے حوالے سے مفید معلومات کے لئے ڈاکٹر جیسن فنگ کے یوٹیوب چینل پر مفید ویڈیوز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک پر موجود خواتین اور مردوں کے ایسے گروپ کو بھی جوائن کیا جاسکتا ہے جہاں ا س حوالے سے لوگوں کے بیش بہا تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کی وزن میں کمی کے بعد تبدیلی کے عمل کو بھی دیکھا جا سکتا ہے
(transformation process)

اس حوالے سے میرا ڈاتی تجربہ یہ ہے کہ آپ ابتدائی طور پر 8 سے 10 کلو وزن آرام سے کم کرلیتے ہیں لیکن مزید بہتر نتائج کے حصول کے لئے جزوی روزے کے اوقات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ورزش بھی بہت ضروری ہے۔ جو خواتین و حضرات وزن کم کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ان کے لئے میرا مشورہ ہے کہ عید کے بعد جزوی روزہ کو آزما کر دیکھیں لیکن اس حوالے سے انٹرنیٹ پر موجود مزید معلومات سے استفادہ ضرور کریں۔ یہ بلاگ محض ایک توجہ دلاؤ نوٹس ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply