نظام بدلیے نہیں، اس پر عمل کیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہمیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے“

یہ فقرہ فیشن کی حد تک زبان زد عام ہو گیا ہے۔ اگر ہم عصری عالمی سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو جہاں ہمیں یورپ، امریکہ اور کئی ایشیائی ممالک میں جمہوریت (پارلیمانی، صدارتی، وحدانی یا کوئی اور) ایک کامیاب نظام حکومت کے طور پر نظر آتا ہے، جبکہ یہی جمہوری نظام دیگر کئی ممالک میں ناکام ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے، وہیں دوسری جانب کئی ممالک میں آمریتیں ( کمیونسٹ یا سوشلسٹ حکومتیں، بادشاہتیں، فوجی حکومتیں ) بھی کماحقہ اپنے عوام کی ضرورتیں پوری کر رہی ہیں، مگر کئی دوسرے ممالک ان آمریتوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

وطن عزیز میں وقتاً فوقتاً جمہوری پنیریاں بھی لگتی رہیں اور براہ راست مارشل لاء سے لے کر بنیادی، حقیقی جمہوریتوں، یا نفاذ مصطفیٰ کے لبادے اوڑھے انتظامات حتیٰ کہ چیف ایگزیکٹو افسر جیسے کارپوریٹ کلچر والے عہدے کے تڑکے کے ساتھ پردہ نشینی کے ساتھ آمرانہ انصرام بھی آزمایا جاتا رہا۔ مگر افسوس کہ آج تک ہمیں وہ نسخہ کیمیا ہاتھ نہ آ سکا جو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی جانب ہمیں گامزن کر سکتا۔ شاید یہی ناکامی ہے جو مسلسل تکرار کے ساتھ نظام کی تبدیلی کی تمنا ہمارے دلوں میں جگائے رکھتی ہے۔

مگر آخر دنیا میں موجود کوئی بھی نظام ہمارے ملک میں قبولیت کیوں نہیں پا سکتا اور درکار نتائج یعنی استحکام اور ترقی کی طرف ہمیں گامزن کیوں نہیں کر سکتا؟ دراصل ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نہ جمہوریت کے علمبردار سیاسی طبقے کو جمہوریت پر اعتماد ہے اور نہ آمرانہ حکومتیں قائم کرنے والوں کو اپنی مطلق العنانیت پر بھروسا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر جمہوری بندوبست اقتدار میں آتے ہی طاقت کے سارے مراکز کو زیر کرنے اور اپنی ذات میں مرتکز کرنے پر تل جاتا ہے، جبکہ ہر آمر گدی سنبھالتے ہی اپنی ہر دلعزیزی کی دھاک بٹھانے میں مصروف ہوجاتا ہے۔

اس چکر میں نہ جمہوری حکومتیں جمہوریت کے محاسن سے فائدہ اٹھا پاتی ہیں اور نہ آمر اپنی مطلق العنانی کی مدد سے درست فیصلے کر سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک آدھا تیتر آدھا بٹیر قسم کا چڑکگ سا بندوبست مملکت کا منہ چڑاتا رہتا ہے جسے ہم نظام سمجھ کر بدظن ہوتے رہتے ہیں اور اسے بدلنے کی خواہش دلوں میں پالتے رہتے ہیں۔

اس قدرتی رد عمل کے علاوہ نظام سے ہماری بدظنی کی ایک اور وجہ ایک مسلسل پروپیگنڈا بھی ہے جو بڑی یکسوئی سے کبھی دھیمے سروں میں اور کبھی ببانگ دہل ہمارے ذہنوں میں انڈیلا جاتا رہا ہے۔ اس پروپیگنڈے کے چند بنیادی چیدہ چیدہ نکتے یوں ہیں :

عوام جاہل اور بے وقوف ہے۔ عوام سیاسی طور پر غیر سنجیدہ ہے، ذات برادری، مذہب فرقہ اور دیگر عصبیتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ سیاستدان کرپٹ ہیں، سیاست موروثی ہے، عام آدمی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا، بیوروکریٹ بکے ہوئے ہیں۔ اور اب تازہ ترین یہ کہ عدلیہ اور صحافت بھی کمپرومائزڈ ہیں۔

ان سب تصورات کو اتنے تواتر سے ہمارے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے کہ ہم اب انہیں طے شدہ امر سمجھنے لگے ہیں۔ اس سے اگلا قدم غیر حقیقی اعداد و شمار اور کمزور اور مسخ شدہ استدلال پر مبنی دلائل کے ساتھ نظام کی خامیاں اجاگر کرنا ہے۔ چونکہ بنیادی نکات کے ذریعے نظام پر سے اعتبار پہلے ہی متزلزل ہو چکا ہے، چنانچہ ہم ان جھوٹے اعداد و شمار اور مسخ دلائل پر سوال اٹھائے بغیر ہی انہیں تسلیم کر لیتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی سر پھرا ان کو جھٹلانے کی کوشش کرے تو ہمارا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ ”کیا فرق پڑتا ہے، بات تو درست ہی ہے ناں“ ۔

اس کی تازہ مثال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے متعلق سامنے لائے جانے والے حقائق ہیں۔ جنوری کے مہینے میں سامنے آنے والے سکینڈل میں بتایا گیا کہ ڈیٹا کے فرانزک آڈٹ کے نتیجے میں آٹھ لاکھ سے زائد غیر مستحق افراد کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں دو ہزار سے زائد سرکاری ملازمین بھی ہیں۔ ہاہاکار مچ گئی، مچنی بھی چاہیے ؛ غریبوں کے پیسے بھی سیاسی اور سرکاری با اثر لوگ لوٹ کھسوٹ کر کے لے گئے، وغیرہ وغیرہ۔ ان اعداد و شمار کو درست مان لینا چاہیے، کیونکہ یہ موجودہ حکومت کے پیش کردہ ہیں، جنہیں اس معاملے کو دبانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔

درست، مگر کیا انہی اعداد و شمار میں ایک اور انفارمیشن، ایک اطلاع، ایک حقیقت موجود نہیں ہے؟ یہ پروگرام چون لاکھ خاندانوں کو امداد فراہم کرتا ہے۔ چون لاکھ میں سے آٹھ لاکھ تقریباً پندرہ فیصد بنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس گلے سڑے، فرسودہ، کرپٹ نظام میں بھی پچاسی فیصد (تقریباً چھیالیس لاکھ) مستحق خاندانوں تک امداد ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ پہنچ رہی تھی۔ حکومتی مشینری اور وہ بھی گزشتہ حکومتوں کی، اور ایمانداری اور دیانتداری؟ نہیں یہ تو ہضم ہونے والی بات ہی نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ میری یہ تحریر پڑھ کر بھی اکثریت کا رد عمل یہی ہو گا کہ میں کرپشن کی طرف داری کیوں کر رہا ہوں۔ اس لئے کہ ہمارے اذہان میں کرپشن کا عفریت اتنا تنومند اور توانا کر کے بٹھا دیا گیا ہے کہ اعداد و شمار اور حقائق بے معنیٰ ہو گئے ہیں۔

اس سارے پروپیگنڈے سے اور ہمارے اذہان کو اس طرح نظام کے حوالے سے مشکوک کر کے کیا مفاد حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اسے سمجھنے کے لئے کبھی ذرا ان تجاویز پر غور فرمائیں جو نظام کی بہتری کے لئے سوشل، الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں گاہے بگاہے پیش کی جاتی رہتی ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان میں ہمیشہ حکومتی انتظام کے اوپر کسی چیک اینڈ بیلنس کا ذکر ہوگا۔ مثلاً جو پارٹیاں حکومت میں پرفارم نہیں کرتیں ان کو بین کر دیا جائے، قومی مفاد کے خلاف حکومت کے اقدامات کو معطل یا مسترد کر دیا جائے، کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کو الیکشن لڑنے سے روک دیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔

بادی النظر میں یہ مطالبات بڑے مناسب لگتے ہیں، مگر وہ کون سی بالا تر قوت ہوگی جو یہ سب کام کرے گی۔ ایک جمہوری نظام میں یہ سب اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے، عوام اپنے ووٹ سے یہ کام سرانجام دیتی ہے۔ لیکن ہم نے تو عوام کو جاہل، بے وقوف اور گروہوں میں بٹی ہوئی ثابت کر دیا ہے، اب چند سالوں سے انہیں بریانی اور قیمے کے نان پر بکنے والا بھی کہا جاتا ہے اور تازہ ترین اضافہ تو سٹنٹڈ گروتھ کے تمغے کا بھی ہے، یعنی کھلم کھلا کہہ دیا گیا کہ عوام کس کھیت کی مولی ہیں ہم اشرافیہ کے آگے۔ لہٰذا اصل مدعا عوام سے بالا تر ایک قوت نافذہ کے قانونی، غیر قانونی، آئینی یا غیر آئینی، باضابطہ یا بے ضابطہ عمل دخل کو قبولیت بخشنا ہے۔

لیکن کیا اب بھی وقت نہیں آ گیا کہ ان خوبصورتی سے بنے گئے جالوں کو پہچان کر انہیں کاٹ پھینکا جائے۔ معاشرے میں اصلاح کی بے انتہا گنجائش بھی ہے اور اس کی اشد ضرورت بھی ہے۔ مگر اصلاح کے لئے نظام بدلنے کی نہیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply