ڈاکٹر اقبال احمد  کون تھے؟  

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس برس 11 مئی کو ڈاکٹر اقبال احمد کو ہم سے جدا ہوئے اکیس سال ہو گئے۔ ڈاکٹر اقبال احمد کا شمار بیسویں صدی کی ان چیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے عالمی سطح پر بیک وقت گراں قدر علمی سرگرمیوں، انسان دوست سیاست اور وقیع صحافت کے متنوع میدانوں میں اپنی ذکاوت کا لوہا منوایا۔ عالمی امور خصوصاً مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کی تاریخ اور جدید مسائل پر وہ سند کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے تجزیاتی مضامین 35 مجموعوں، کتابوں اور انسائیکلو پیڈیا میں شامل کیے گئے۔ سیاست اور معاشرت کے مسائل و افکار پر ان کے مضامین امریکہ، یورپ اور مشرقی وسطیٰ کے درجنوں اہم اخبارات، رسائل اور جرائد میں اہتمام سے شائع ہوتے تھے۔ ”الاہرام“ (قاہرہ)، ”الحیات“ (لندن) اور ”ڈان“ (کراچی) جیسے موقر اخبارات میں ان کے بصیرت افروز مضامین کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا۔ وہ ”مڈل ایسٹ رپورٹ“ اور سہ ماہی ”عرب سٹڈیز “ کی ادارتی ذمہ داریوں میں بھی شریک تھے۔

1932ء میں صوبہ بہار کے ایک نامور علمی اور سیاسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ چودہ برس کے تھے کہ ان کے والد کو زرعی اصلاحات کی حمایت کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ نوعمر اقبال احمد تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ چلے گئے۔ انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ گریجوایٹ طالب علموں کے لیے مختص اہم ترین اعزاز ”اکیڈمی ایوارڈ“ کے حقدار قرار دیے گئے۔ اسلامی علوم اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کے بعد تدریس سے وابستگی اختیار کی۔ وہ امریکہ اور یورپ کی کئی یونیورسٹیوں مثلاً پرنسٹن یونیورسٹی، کارنیوال یونیورسٹی، یونیورسٹی آف الی نواس، ہمپشائر کالج اور یونیورسٹی آف شکاگو میں پڑھاتے رہے۔1973ء میں قائم ہونے والے بین الاقوامی علمی ادارے ”ٹرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ“ کے بانی اراکین میں ڈاکٹر اقبال احمد بھی شامل تھے۔

اقبال احمد نے 1960 سے 1963 تک شمالی افریقہ میں قیام کیا اور بنیادی طور پر الجزائر کی جنگ آزادی میں شریک ہوئے۔ وہ نیشنل لبریشن فرنٹ کا حصہ تھے اور فرانز فینن سمیت فرانسیسیوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے الجزائر کے قوم پرست رہنماؤں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ الجزائر کی آزادی کے بعد انہیں آزاد الجزائر کی پہلی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے ایک آزاد دانشور کی حیثیت سے زندگی گزارنے کو ترجیح دی اور واپس امریکہ چلے گئے۔ اقبال احمد اردو ، انگریزی ، فارسی اور عربی پر عبور رکھتے تھے۔

امریکہ واپس آکر اقبال احمد نے شکاگو کی یونیورسٹی آف الینوائے (1964–65) اور لیبر ریلیشنس اسکول (1965–68) میں کارنیل یونیورسٹی میں پڑھایا۔ ان برسوں کے دوران، وہ ویتنام اور کمبوڈیا میں امریکی پالیسیوں کے ابتدائی اور سب سے زیادہ پرجوش مخالف کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ 1971 میں اقبال احمد معروف ہیرس برگ مقدمے کے سات ملزموں میں شامل تھے۔ ان پر ہنری کسنجر کو اغوا کرنے کی سازش کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ تاہم جیوری نے 49 گھنٹے تک بحث مباحثے کے بعد 1972 میں انہین بے گناہ قرار دیا۔

اقبال احمد 1997ء میں ہمپشائر کالج سے ریٹائر ہوئے تو کالج نے ان کے اعزاز میں دو روزہ تقریب کا اہتمام کیا۔ کینیڈا، پاکستان، الجیریا، مراکش، ترکی اور امریکہ کے گوشے گوشے تعلق رکھنے والے معروف دانشوروں نے اس عظیم الشان تقریب میں شریک ہو کر ڈاکٹر اقبال کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال احمد کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں ناﺅم چومسکی،، ہاورڈ زین اور ایڈورڈ سعید جیسے شہرہ آفاق دانشور شامل تھے۔ اسی سال ”اقبال احمد لیکچر“ کا اعلان بھی کیا گیا۔ 1998ءمیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اس سلسلے کا افتتاحی لیکچر دیا۔

انسانی آزادی، انصاف، امن اور مساوات کے لیے ڈاکٹر اقبال احمد کی تڑپ ان کی ذات کا اہم ترین حوالہ تھی۔ ڈاکٹر اقبال اپنی فکر میں اٹھارہویں صدی کی روشن خیال اور انسان دوست روایت کا تسلسل تھے۔ 24 برس کی عمر میں الجزائر کی تحریک آزادی میں شریک ہوئے۔ جنگ ویت نام کے خلاف شدید عوامی احتجاج کے رہنماﺅں میں شامل تھے۔ مشرق وسطیٰ میں عربوں کے حقوق کا علم اٹھایا۔ بیرونی قوتوں کی باہمی آویزش میں افغانستان کی تباہی پر دل گرفتہ ہوئے۔ تیسری دنیا میں ”حریت پسند فکر و عمل کا زندہ استعارہ “ کہلانے کے باوجود ڈاکٹر صاحب ہر نوع کی انتہا پسندی کے شدید مخالف تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے ہمعصر دانشور اور قریبی رفیق ایڈورڈ سعید کے الفاظ میں ”ڈاکٹر اقبال احمد آخری تجزیے میں انسانی آزادیوں کے داعی تھے لیکن وہ اس جدوجہد میں ناانصافی کے امکان سے ہمیشہ خائف رہتے تھے۔“ ڈاکٹر اقبال احمد کی زندگی آزادی اور انصاف کے مابین توازن کی مساعی سے عبارت تھی۔

پیشہ وارانہ زندگی کا ایک طویل حصہ امریکہ اور یورپ میں گزارنے کے باوجود اقبال احمد ہمیشہ ذہنی طور پر پاکستان سے وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے پاکستان میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا جہاں وہ ”خلدونیہ یونیورسٹی“ کے نام سے عالمی معیار کی ایک علمی درسگاہ قائم کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستانی حکام کی روایتی علم دشمنی کے باعث ان کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر اقبال احمد نے 10 مئی 1999ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *