متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہیند القسیمی کی ٹویٹ پر انڈین صارفین برہم
سوشل میڈیا پر متحرک اور مختلف موضوعات پر دو ٹوک بات کرنے والی اماراتی شہزادی ہیند القسیمی ایک بار پھر اپنی ٹویٹس کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے جب متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک انڈین شہری سوربھ اپادھیائے نے نفرت پر مبنی ٹویٹس کیں تو شہزادی نے اس کا نوٹس لیا اور سوربھ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ جس کے بعد انڈیا میں مسلم مخالف خبروں کے نتیجے میں خلیجی ملکوں نے سوشل میڈیا پر سرگرم حکمراں بی جے پی اور ہندوتوا حامی عناصر کے پیغامات پر توجہ دینی شروع کی۔
شہزادی ہیند القسیمی تب ہی سے ان معملات میں کافی سرگرم ہیں اور انہوں نے ایک بار پھر انڈیا میں مذہبی منافرت کے بارے میں ٹویٹ کی جس کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان میں یہ ٹویٹ زیر بحٽ ہے۔
They claim I spread fake news. I am a mere reaction of the what you do. Kindly update explain what is this about erasing Muslims and Christians from India by 2021? Who or what are you people? How can the most compassionate people forget their roots? pic.twitter.com/gx0DsH2S8n
— Hend F Q (@LadyVelvet_HFQ) May 10, 2020
ہیند القسیمی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایک رہنما راجیشور سنگھ کے بیان کے بارے میں لگی خبر کا سکرین شاٹ پوسٹ کیا جس کے مطابق یہ خبر 14 دسمبر 2014 کو شائع ہوئی تھی۔ اس میں راجیشور سنگھ کا یہ بیان اس شہ سرخی کے ساتھ چھاپا گیا کہ ’مسلمانوں اور مسیحی برادری کو 31 دسمبر 2021 تک انڈیا سے ختم کر دیا جائے گا‘۔
ہیند القسیمی نے نے اس کے ساتھ انڈین چینل اے بی پی ٹی وی کا ایک سکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس پر درج تھا کہ ’انڈیا کی مقتدر جماعت بی جے پی کے رہنما اپنی حکومت کے بیس کروڑ مسلمانوں اور دو کروڑ آٹھ لاکھ مسیحیوں کی نسل کشی کے عزائم کے بارے میں کھلے عام بات کر رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کے اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق اس واقعے کے بعد آر ایس ایس نے راجیشور سنگھ کی سرزنش کی تھی اور وہ خود صحت کی خرابی کو وجہ بتا کر تنظیم سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
اس ٹویٹ پر انڈیا سے فوراً ایک شخص نے تنقید کی کہ ’انڈیا میں سیاست دان بیوقفی پر مبنی بیانات دیتے ہیں کوئی اس رہنما کا نام تک نہیں جانتا، آپ اسے مشہور کر رہی ہیں۔‘
https://twitter.com/LadyVelvet_HFQ/status/1259518503444307968?s=20
شہزادی ہیند القسیمی نے جواباً کہا کہ ’چاہے وہ پُتلا ہی کیوں نہ ہو، وہ ایک سپاہی ہے جو اپنے بڑے عہدیداران کے کام پر مامور ہے اور وہی کرتا ہے جو اسے کہا جاتا ہے۔‘
ہیند القسیمی اس پوسٹ کے بعد متحرک رہیں اور اپنی ٹویٹ پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیتی رہیں۔
He is no body. U shd not give importance to such person. Every Indian isn't a Gandhi. No society in the world Wil exhibit such tolerance inspite of grave provocation by both the M&C community
— Udaiyavarkudaiyon (@Krishna55689573) May 10, 2020
کرشنا مورتھی نامی ٹوٹر صارف نے کہا کہ ’آپ کو ایسے شخص کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ہر انڈین گاندھی نہیں ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ مسلمان اور مسیحی برادری کی جانب سے اشتعال کے باوجود اتنی برداشت نہیں دکھا سکتا۔‘
The government should be the Peace enforcing if the people can’t control themselves. Here in the Emirates if anyone dares spew hate, he is jailed, regardless if he was local or foreign.
— Hend F Q (@LadyVelvet_HFQ) May 10, 2020
شہزادی القسیمی نے کرشنا مورتھی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’حکومت کا کام ہے کہ امن قائم کرے۔ یہاں امارات میں اگر کوئی نفرت پھیلانے کی جرات کرے تو اُسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی۔‘
https://twitter.com/passerbyyyyyy/status/1259516296225370112?s=20
پاسر بائے کے نام سے ایک اور صارف نے شہزادی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ’اس وقت اس پیغام کو سامنے لانے کا کیا مقصد ہے؟ اور متحدہ عرب امارات سے ہوتے ہوئے آپ کو یہ معلومات کون بھجوا رہا ہے؟‘
https://twitter.com/LadyVelvet_HFQ/status/1259517698477887497?s=20
شہزادی نے جواباً کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹی خبریں پیلاتی ہوں۔ میں ہندی تو نہیں بولتی مگر میرے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں۔ وہ اپنے انٹرویوز اور پریس میں کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو 2021 تک مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ اُن کا منصوبہ ہے۔ ‘
https://twitter.com/Punitspeaks/status/1259569410877976576?s=20
ٹوٹر صارف پونت اگروال جن کے بائیو کے مطابق وہ بی جے پی دلی کے سوشل میڈیا اور آئی ٹی سیل کے سربراہ ہیں، شہزادی کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’تم کون ہوتی ہو، اپنے کام سے کام رکھو۔ جو بھی کہا گیا اور جو کچھ کیا جائے گا وہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔‘
Yes. This news is from 2014 but people are endorsing it now. He was sent for leave at that time by PM.
— mayankkumar (@mayankkumar123) May 11, 2020
مینک کمار نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ ٹھیک بات ہے کہ یہ ویڈیو 2014 کی ہے مگر لوگ آج بھی اس کی حمایت میں بول رہے ہیں۔‘
Princess Hend you are a good heart human.. you always tries to support truth .. Allah bless you 😍😍😍
— Fariiii (@TheTweetsOfHer) May 11, 2020
جبکہ ٹوٹر صارف فاری نے لکھا ’شہزادی ہیند آپ اچھے دل والی انسان ہیں۔ آپ ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتی ہیں۔‘
https://twitter.com/Bhrtmatakaptr/status/1259521488819978245?s=20
ویبھو نے چند تصویریں ٹویٹ کییں جن میں ایک ہی تنگ کمرے میں بہت سے لوگ سو رہے اور ساتھ پیغام میں لکھا کہ ’ہمیں متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سب پتا ہے۔‘
اس ٹوٹر تھریڈ میں انڈیا اور پاکستان دونوں سے لوگ اپنے اپنے نکتہ نظر سے آپس میں اور شہزادی سے لڑتے رہے اور ایک دوسرے کے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والے سلوک کا ذکر کرتے رہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ اماراتی شہزادی ہیند القسیمی نے انڈیا پر تنقید کی ہے۔
I refuse to be quiet in the midst of this war. The oppression against the Muslims, Christians and other minorities in India must stop.
I am surprised it was allowed to start and thrive openly like this and I hope it will be halted.https://t.co/DnGmZi3BJr— Hend F Q (@LadyVelvet_HFQ) May 4, 2020
ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’میں اس جنگ کے دوران خاموش نہیں رہوں گی۔ انڈیا میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم بند ہونا چاہیے۔‘
اس سے پہلے خلیجی ممالک میں بسنے والے انڈین شہریوں کی جانب سے نفرت پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس کا بھی شہزادی القسیمی نے نوٹس لیا اور انہیں متنبہ کیا کے متحدہ عرب امارات میں اس نفرت کی گنجائش نہیں اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
شہزادی القسیمی کا ذکر اپنے بیانات کی وجہ سے عالمی نیوز چینلز کے علاوہ انڈین اخباروں، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر ہوتا رہتا ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر انڈین چینلز اور آن لائین پلیٹفارمز پر انٹرویوز بھی دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین انہیں ٹیگ کر کے اُن کی توجہ مختلف مسائل کی طرف دلاتے ہیں تاکہ وہ ان کا نوٹس لے کر ان پر بات کریں اور یوں ایسے موضوعات میڈیا کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔


