کورونا، لاک ڈاؤن اور حق حقدار تک
پوری دنیا سمیت پاکستان بھی آج کل کورونا وائرس کے لپیٹ میں ہے اور اس وبا نے اگر ایک طرف بہت انسانوں کی زندگیاں چھین لی ہے تو دوسری طرف کورونا وائرس نے پوری دنیا کو بند کر دیا ہے۔ معیشت رک گئی۔ کارخانے بند ہوئے، پہیہ رک گیا۔ مارکیٹیں اور دکانیں بھی بند اور حتی کے بین الصوبائی اور بین الاقوامی تجارت بھی رک گئی ہے۔ ہر ملک، ہر صوبے اور ہر شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس ساری صورتحال نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے لیکن کورونا وائرس نے سب سے زیادہ غریبوں کو خراب کیا ہے کہ ان کے پاس پیسے اور اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم شاید دنیا میں سب سے زیادہ خیرات اور صدقات دینی والی قوم ہے جو ہر مشکل میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لئے لبیک کہہ کر آگے بڑھتے ہیں۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے ریسرچ ونگ پی پی سی یعنی پاکستان پیس کولیکٹیو کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 554 ارب روپے زکات، صدقات اور خیرات کی مد میں دیے جاتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی جذبہ ایثار اور خدمت سے سرشار قوم ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قوم پر کوئی مشکل آئی ہے۔ چاہے وہ زلزلہ ہو یا سیلاب ہو ہم پاکستانیوں نے کھلے دل سے ان صدقات اور خیرات سے غریبوں اور متاثرین کی مدد کی ہے۔ ایک طرف اگر ہم جذبہ ایثار سے سرشار قوم ہیں تو دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ شر پسند لوگ، جعلی اور نام نہاد فلاحی تنظیمیں سادہ لوح عوام کو ورغلا کر اس رقم کا کچھ حصہ حاصل کر لیتے ہیں جو حقداروں کو ملنے کے بجائے ان کے ذاتی فائدے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس میں فراڈ، انتشار اور ملک و قوم کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہے۔
عوام کو خیرات اور صدقات کے بارے شعور دینے کے لئے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے میڈیا اور ضلعی سطح پر عوامی رابطوں کے ذریعے حق حقدار تک کے نام سے ملک کے 14 اضلاع بشمول پشاور ایک مہم شروع کی ہے جس میں لوگوں کو محفوظ چیرٹی اور حکومت و عوام کے ذمہ داریوں کے بارے شعور و آگاہی ڈی جاتی ہے۔ اسی مہم کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے کے پی چیرٹی بل بھی اکثریت سے منظور کیا ہے جس کا بنیادی مقصد چیرٹی کو محفوظ اور ریگولرائز کرنا ہے تاکہ حقداروں تک اپنا حق پہنچ سکے اور عطیات، صدقہ، زکات اور خیرات کے پیسے غلط ہاتھوں میں نہ جا سکے۔ خیبر پختونخوا چیرٹی بل 2019 میں محفوظ چیرٹی کے لئے طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جس میں ڈونرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ بہتر ہے کہ وہ نقد پیسے دینے کے بجائے اپنی رقم ادارے کے بینک اکاونٹ میں جمع کرے، اپنی خیرات، صدقات اور زکات مستند ادارے یا شخص کو دے، اس بات کا اطمینان کر لے کہ آپ کی دی ہوئی رقم اسی کام کے لئے استعمال ہو رہی ہے جس کے لئے آپ نے یہ رقم کسی ادارے اور یا شخص کو دی ہے۔
اس بل میں تنظیموں کے لئے بھی ہدایات ہے کہ وہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ یا کسی اور سرکاری محکمہ کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کو یقینی بنائے، اپنا سالانہ آڈٹ رپورٹس اور بینک اکاونٹ ریکارڈز سمیت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں تمام مطالبہ دستاویز کو یقینی بنائے، اس کے علاوہ اس بل میں مختلف سرکاری محکموں اور ڈیپارٹمنٹس کی ذمہ داریاں بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ کس طرح صدقات اور خیرات کی رقم کو مانیٹر کر سکتے ہیں جب کہ اس کے علاوہ اس بل میں دینے اور لینے والوں کی بنیادی ذمہ داریاں بھی موجود ہے تاکہ صدقات اور خیرات کو محفوظ لوگوں اور ہاتھوں تک پہنچایا جائے اور حق صرف اور صرف حقداروں کو ہی مل سکے۔
کورونا اور وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے ادارے اور افراد مختلف طریقوں سے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ کوئی راشن اکٹھا اور تقسیم کر رہا ہے۔ کوئی نقد رقم اکٹھا اور تقسیم کر رہے ہیں جب کہ کچھ لوگ چندہ بھی اکٹھے کر رہے ہیں۔ ان ساری صورتحال میں ہم نے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی ان سفارشات اور خیبر پختونخوا چیرٹی بل 2019 کے تناظر میں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ہم نے یہ صدقات اور خیرات صرف اور صرف حقداروں تک پہنچانی ہے کیونکہ یہ ہماری اسلامی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔
ہم نے یہ عہد کرنا ہے کہ حق حقدار کو ہی ملے گا اور کسی بھی غیر مستند ادارے اور شخص کو خیرات، صدقات اور زکات کی رقم نہیں دینی ہے جس سے اس بات کا خدشہ ہو کہ یہ رقم کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہو سکتی ہے اور یوں نہ صرف حقدار اپنے حق سے محروم ہو جائے گا بلکہ ہمارا ثواب بھی ضائع ہو جائے گا۔ آئیے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے اس مشکل وقت میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم نے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے مہم حق حقدار تک میں شامل ہونا ہے اور ہم نے ہر حال میں غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کو اپنا حق پہنچانا ہے۔ چاہے وہ راشن کی شکل میں ہو، نقد پیسے ہو اور یا کوئی اور ضرورت اور ہم نے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہے جو ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف غریبوں کا حق کھاتے ہیں بلکہ قوم کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔


