وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔ اچانک سے یہ آواز میرے کانوں میں آٹکرائی۔ کچھ لمحات کے لیے میں بیچ بازار سوچ میں پڑگیا کہ آج حلیہ تو ایسا اچھا نہیں کہ کوئی مجھے بابو بلائے اور منہ بھی رومال میں لپٹا ہوا ہے تو پھر یہ کون غلط فہمی کا شکار ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی اور بار بار اصرار کیے جارہی تھی کہ وے بابو تیرے بچے جیون۔ اب محترمہ کو کون سمجھائے کہ وہ جس بابو کے بچے جینے کی دعا کیے جارہی ہے وہ تو ابھی خود بچہ ہے۔

خیر یہ تو تھی آج کی روداد لیکن عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مختلف جگہوں پر مانگنے والوں کے تکیہ کلام بھی مختلف ہوتے ہیں۔ آئیے مزید مختلف جگہوں کے مختلف تکیہ کلام ملاحظہ فرمائیے :

آپ اگر ہسپتال میں جائیں تو وہاں سننے کو ملتا ہے کہ ”اللہ تہاڈے مریض نوں شفا دیوے (اللہ آپ کے مریض کو صحت عطا کرے )“ ۔ گائنی وارڈ کے بھکاریوں کا بیانیہ کچھ ایسا ہوتا ہے ”اللہ پتر دے (اللہ بیٹا دے ) ، شالا لمبیاں عمراں پاوے (اللہ کرے اس کی لمبی عمر ہو) ۔ اگر آپ بیوی کے ساتھ پارک میں ہیں تو آپ کو کچھ ایسی دعائیں ملیں گی“ شالا نظر ناں لگے (اللہ نظر بد سے بچائے ) ، رب جوڑیاں سلامت رکھے (رب میاں بیوی کا ساتھ سلامت رکھے ) ”۔

اگر شادی کا تہوار ہو تو تکیہ کلام ہوتا ہے کہ ”دوارے وسدے رہن، بھاگ لگے رہن (گھر خوشحال رہے اور خوش قسمت رہیں ) ۔ اگر شادی میں لڑکی یا لڑکے کا باپ مانگنے والوں کے ہاتھ آجائے تو کیا کہتے ہیں کہ اللہ تینوں دوہتریاں، پوتریاں والا کرے (اللہ تمہیں دادا، نانا بنائے ) غریباں نوں وی کجھ دے (غریبوں کو بھی کچھ دو) ۔

لاہور میں اشاروں پر آپ کو کافی ساری بھکاری یرغمال بنا لیتے ہیں اور گاڑی کے شیشے پر دستک دینا شروع کردیتے ہیں کہ اللہ ہور دیوے، اللہ ستے خیراں کرے (اللہ آپ کو اور دے اور سب خیر کرے ) ۔ یونیورسٹی کے باہر مانگنے والوں کا تکیہ کلام عام طور پر دعائیہ ہوتا ہے اور کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ وے بھائی! اللہ تینوں وڈا افسر لاوے (اللہ تمہیں افسر بنائے ) ۔ فرط جذبات میں بہہ کر مجھ جیسے بے کار لوگ افسر بننے کی خواہش میں خوش ہو کر پیسے دے دیتے ہیں۔

اور یونیورسٹی کی لڑکی تو کوئی بھی ایسی نہیں ہوگی جو خیرات نا کرتی ہو اور ان کے لیے دعا بڑی لمبی اور بڑی کمال ہوتی ہے۔ باجی! اللہ تینوں میم بناوے (اللہ تمہیں مادام بنائے ) ؛ اللہ تیریاں من دیاں مراداں پوریاں کرے (اللہ تمہاری خواہشات پوری کرے ) ؛ اللہ کرے تینوں سوہنا بابو ملے (اچھا شوہر ملے ) ۔ اللہ کرے تیرے ماں پیو جیون (ماں باپ لمبی زندگی پائیں ) ۔ یہ آخری دعا سن کر تو لڑکیاں بہت پیسے دیتی ہیں کیونکہ انہیں ماں باپ سے بے تحاشا پیار ہوتا ہے۔

اگر تھانے کے آس پاس کوئی فقیر یا فقیرنی مانگ رہی ہو تو اگر افسر ہوگا تو اس کے لیے دعا ہوگی کہ اللہ تینوں وڈا افسر لاوے (اللہ ترقی دے ) اگر سپاہی سے مانگے گے تو کہیں گے اللہ تینوں صاحب بنائے ( اللہ تمہیں افسر بنائے ) ۔ اگر ملزم یا مدعی کے گھر والوں سے مانگنا ہو تو اللہ تہانوں ایناں رولیا توں تے پولیس آلیا کولوں بچاوے (اللہ آپ کو ایسے معاملات اور پولیس والوں سے بچائے ) ۔ اگر مسجد کے باہر ملاقات ہو جائے تو نماز کی قبولیت کی دعا ملتی ہے اور ساتھ حج کی دعا ملتی ہے جمعہ کے بعد خصوصی دعائیں ملتی ہیں۔ حاجی صاحب اللہ تہاڈی نماز قبول کرے اللہ تہانوں حج کرائے ؛ آپدا گھر وکھائے (اللہ نماز قبول کرے اور حج کی توفیق فرمائے ) ۔ کرونا کی وجہ سے آج کل مسجد والوں کا مندا ہے۔

اسی طرح امتحانی سنٹر کے باہر مانگنے والوں کا کافی رش لگا ہوتا ہے اور بلیک میل کرکے پیسے لیے جاتے ہیں۔ طالب علم اس ڈر سے کہ کہیں بددعا نا دے دیں انہیں پیسے دیتے ہیں اور سینٹر جاتے ہیں اور انہیں کی دعاؤں کے بھروسے پر پیپر بھی خالی چھوڑ آتے ہیں۔ بھکاریوں کی ایسی ٹریننگ ہوئی ہوتی ہے کہ جب تک پیسے نہیں لے لیتے جان نہیں چھوڑتے۔ اور کئی دفعہ جب کوئی محنت کا کہ دے تو اس سے سخت ناراض ہو جاتے ہیں اور پرے چلے جاتے ہیں۔

حاصل کلام: یہ لوگ ضرورت مند نہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں اور ان کی دعائیں محض رٹے ہوئے الفاظ یعنی بالکل جعلی دعائیں۔ اگر آپ حقیقی دعائیں لینا چاہتے ہیں جو رب کے حضور قبول ہوتی ہیں تواپنی گلی محلے کے مستحق افراد سے مالی تعاون فرمائیں۔ لیکن تعاون کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ ان سفید پوش لوگوں کا محسوس نہ ہو کہ آپ ان پر کوئی احسان کرنے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *