کیا واقعی ہم تبدیل ہوسکیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمومی طور پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر کوئی معاشرہ کسی بڑی مشکل کا شکار ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں مشکلات سے نمٹنے کے تناظر میں

کئی بڑے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر بحران کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے اور بحرانوں سے نمٹ کر ہم مستقبل کی کے ماحول کو بھی بدلنے کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی معاشرہ سامنے آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے یا اپنی عدم صلاحیت اور بہتر سمجھ بوجھ سمیت کمزور سیاسی کمٹمنٹ کے باعث فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ ہماری صلاحیتوں کا ہے کہ ہم بحرانوں سے کیسے نمٹتے کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ روایتی، پرانے فرسودہ خیالات پر سختی سے کھڑے رہنا اور خود کو حالات و واقعات کی بنیاد پر تبدیل نہ کرنے کا عمل بھی ہمیں کسی بڑی تبدیلی کی جانب سے جانے سے روکتا ہے۔

کرونا وائرس ایک عالمی بحران ہے۔ دنیا کے تمام بڑے اور چھوٹے ممالک کسی نہ کسی شکل میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی سطح پر اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ اس بحران نے تمام ملکوں کے پہلے سے موجود سیاسی، سماجی، انتظامی سمیت معاشی ڈھانچہ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیاسی، سماجی اور معاشی امور کے عالمی ماہرین کرونا وائرس کے بعد کی دنیا کو مختلف انداز میں ایک نئی جہت کے طور پر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان عالمی ماہرین کے بقول کرونا کے بعد کی دنیا ایک مختلف دنیا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب عالمی سطح پر موجود سیاسی قیادت، اہل دانش، رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے، ریاستی و حکومتی نظام سے جڑے افراد یا سماج کے دیگر طبقات اس بحران سے کوئی سبق حاصل کرکے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ بنیادی نکتہ بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، مسائل کی درست تشخیص اور ترجیحات کے تعین سے جڑ ا ہوتا ہے۔

پاکستان بھی اسی کرونا وائرس کے بحران سے گزر رہا ہے۔ اس بحران نے دیگر ملکوں کی طرح ہمیں بھی مختلف حوالوں سے جھنجھوڑا ہے اور ایک فکر یا سوچ پیدا کی ہے کہ ہم اس بحران کے نتیجے میں کہاں کھڑے ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں بڑی طاقتیں، امیر ممالک، عالمی مالیاتی سطح کے ادارے جن میں ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، ایشین ڈویلپمنٹ بنک، آئی ایم ایف سمیت کئی دیگر ادارے یا ممالک ان ملکوں کی زیادہ مالی امداد کر رہے ہیں جو معاشی طور پر کمزور ہیں یا اس بحران میں اور زیادہ بدحال ہوئے ہیں۔

پاکستان کو بھی کئی حوالوں سے مالی مدد اور مالی سطح پر رعایتیں مل رہی ہیں۔ اس امداد کا بنیادی مقصد ان غریب ملکوں کے سماجی ڈھانچوں بالخصوص صحت عامہ سمیت دیگر بنیادی سہولیات کو موثرو بہتر بنانا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2005 میں جو زلزلہ آیا تھا اس کے نتیجے میں ہمیں عالمی سطح سے بہت بڑی امداد ملی تھی۔ لیکن ہم اس امداد سے کس حد تک فائدہ اٹھاسکے یہ بھی ایک بحث طلب مسئلہ ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی سیاسی، سماجی، ریاستی، حکومتی، اہل دانش اور پالیسی سازوں کی سطح پر کرونا وائرس کے نتیجے میں فکر مندی یا سوچ وبچار موجود ہے۔ اس پر مختلف حوالوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ خود ریاستی وحکومتی سطح پر بھی بہت کچھ تبدیل کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ مگریہ خدشہ بھی موجود ہے کہ کیاسب کچھ واقعی ایک حقیقت بن سکے گا یا محض ردعمل کی سیاست میں جذباتیت کی سیاست سمیت معاملات کو دوبارہ پس پشت ڈال دیا جائے گا۔

ہم ان ملکوں میں شامل ہیں جہاں حکمرانی کا بحران ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سماجی شعبوں تعلیم، صحت، ماحول، تحفظ، روزگار، انصاف سمیت کمزور طبقات پر ہماری سیاسی اور مالی سرمایہ کاری بھی کم رہی ہے یہ شعبے ہماری سیاسی ترجیحات میں بھی پیچھے رہے ہیں۔ کرونا وائرس کے بحران میں سب سے زیادہ صحت کا شعبہ بری طرح بے نقاب ہوا ہے۔ تمام حکمران ماضی اور حال میں صحت کی بہتری کے لیے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے، لیکن عملی نتیجہ اس شعبہ کی بدحالی، عدم سہولیات، ہسپتالوں کی کمی، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی کمی، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور نرسز کی کمی، ادویات کی عدم فراہمی اور ہنگامی یا ایمر جنسی جیسی صورتحال سے نمٹنے کی کمی جیسے امور دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہمارا ریاستی وحکومتی نظام اور معاشرے کے طاقت ور طبقات اس کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے کچھ سبق حاصل کرسکیں گے؟ ہمارے سامنے پانچ بڑے چیلنجز ہیں۔ اول سماجی شعبو ں تعلیم اور صحت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور خاص طور پر سرکاری اداروں کی حالت کو جدید بنیادوں پر استوار کرنا یاوسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی شعبہ میں زیادہ بجٹ کو رکھنا، دوئم ایسی پالیسیاں یا قانون سازی کو سامنے لانا جو کمزور طبقات کو نہ صرف ایک موثر طاقت دے بلکہ طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کو کم کرناہوگا، سوئم ہمیں غیر ترقیاتی اخراجات، شاہانہ حکمرانی کا نظام، بڑی بڑی مراعات اور سہولیات، بھاری بھرکم کابینہ اور مشیروں کی فوج، انتظامی سطح کے ڈھانچوں پر بے جا سرمایہ کاری، انسانی صحت پربنیادی تعلیم کی کمی، سرکاری ہسپتالوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اور نجی شعبو ں کو حدسے زیادہ مراعات پر توجہ دینی ہوگی، چہارم نگرانی، جوابدہی، احتساب کے کمزور نظام جیسے امور میں شفافیت پیدا کرنا ہوگی۔ پنجم اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے تحت ضلعی مقامی حکومتوں کے کمزور نظام کو مربوط اور مضبوط بنانا تاکہ کمزور طبقات کو فائدہ دیا جاسکے۔

حکمرانی کے نظام میں وفاقی حکومت کو یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم ترقی، خوشحالی کو اوپر سے لے کر نیچے تک نہیں جوڑیں گے ہم ایک متوازن معاشرہ قائم نہیں کرسکیں گے۔ مسئلہ محض صحت کی بربادی کا ہی نہیں بلکہ لوگوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی حالت میں مسلسل مشکلات میں اضافہ خود حکمرانی کے نظام میں ایک بڑا سوال ہے۔ حکمرانوں کی ترجیحات کا تعین بنیادی طو رپر ہم پالیسی سازی، قانون سازی، بجٹ یا وسائل کو مختص کرنا یا تقسیم اور نگرانی کے منصفانہ اور شفافیت پر مبنی نظام سے دیکھتے ہیں۔ اس برس مئی میں ہم قومی سطح پر سالانہ بجٹ کے مرحلے سے گزریں گے۔ جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اپنی ترجیحات کا تعین اور وسائل کو مختص کیا جائے گا۔ دیکھنا ہوگا کہ نئے بجٹ میں کیا بڑی تبدیلی سامنے آتی ہے۔

ہمیں لوگوں کے سیاسی، سماجی، علمی و فکری شعور کی بیداری کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ مہذہب معاشروں میں سوک ایجوکیشن کا ایک پورا عملی نظام ہوتا ہے۔ یہ نظام شہریوں میں ان کی ذاتی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کے معاشرتی کردار اور معاشروں کی بہتری میں ان کے اپنے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ کیونکہ ہمارا مسئلہ ایک قوم سے زیادہ ہجوم کا بھی ہے۔ لوگوں کے شعوری امو رکے پہلو بہت کمزور ہیں اور بنیادی نوعیت کے معاملات میں ہماری آگاہی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

یہ جو گلیمر کے انداز کی دنیا ہم بنارہے ہیں ہمیں ایک ایسی سماجی زندگی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے جو ہمارے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرسکے۔ اپنے تعلیمی اداروں، نصاب، استاد، تحقیق و فکر اور جددیت کی بنیاد پر تعلیم کو استوار کرکے ہی ہم مستقبل میں بڑے بحرانوں سے نمٹ سکیں گے۔ ریاستی وحکومتی سطح پر نوجوانوں پر مشتمل ایک رضاکارانہ فورس بنانی ہوگی اور اس فور س کی تربیت کے عمل کو تعلیمی اداروں سے ہی جوڑنا ہوگا کہ وہ مشکل وقت میں کیسے ملک و قوم یا لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں میں صحت مند معاشرہ بنانے کی سوچ کو پیدا کرنا ہے اور کھیل، ورزش اور بہتر خوراک کی بنیاد پر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کی طرف لے جانا ہے۔

محلہ، گاؤں، شہر، ضلع، تحصیل، صوبوں کی سطح پر ہمیں ایسے سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی اور معاشی ڈھانچے ترتیب دینے ہیں جو مشکل وقت میں لوگوں کی نہ صرف راہنمائی کرسکیں بلکہ ان کی مدد میں یہ ادارے پیش پیش ہوں۔ نوجوانوں میں خود سے روزگار کمانے اور چھوٹی سطح کے کام یا کاروبار کی ترویج اور اس میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ راہنمائی اور سہولیات کی فراہمی کو بنیاد بناناہوگا۔ ہمیں دیہی سطح کی ترقی کو بھی اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ محض بڑے شہروں تک محدود ترقی کا عمل پورے ملک میں محرومی کی سیاست کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے، اس پالیسی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر ہم یہ سب کچھ کرسکے یا اس کی ابتدا ہی کر لیں تو ہم مستقبل میں ایک بہتر معاشرے کی جانب بڑھ سکتے ہیں جو ایک منصفانہ معاشرے کی بڑی حد تک عکاسی کرسکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *