کرونا، امریکہ اور چین


کرونا جیسی وبا پوری دنیا میں مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔ کون جانتا تھا چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی یہ وبا آہستہ آہستہ پوری دنیا کے لیے درد سر بن جائے گئی۔ آج بڑی بڑی ایٹمی طاقتیں نظر نہ آنے والی آفت کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آ رہی ہیں۔ ایک طرف جدھر کرونا دنیا میں تباہی مچا رہا ہے وہیں دوسری طرف ڈبلیو ایچ او اور دوسرے ادارے اس کی ویکسین بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔ یہ وائرس اب تک لاکھوں جانیں نگل چکا ہے اور کوئی نہیں جانتا کے یہ مزید کتنی جانوں کا دشمن بنے گا۔

کرونا وائرس کی وجہ سے جدھر انسانی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں اس نے پوری دنیا کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ امریکی سٹاک ایکسچینج کرونا کی وجہ سے کریش کر گئی۔ پیٹرولیم کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح تک گر گئی۔

کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہو کا عالم ہو گیا۔ وہ جگہیں جہاں لوگوں کی چہل پہل ہوتی تھی ایک خوفناک ویرانے کا منظر پیش کرنے لگی۔ لوگوں نے خوف کے مارے خود کو گھروں میں قید کر لیا۔ ہر طرح کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ سیاحتی مقامات، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ مساجد کو بھی تالے لگ گئے۔ تمام ممالک میں مکمل طور پر بند کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ آمد و رفت اور تجارت کو منسوخ کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ غریب ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے مزید پس کر رہ گئے۔

اسی دوران امریکہ اور چائنہ کے درمیان کرونا وائرس کے معاملے میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔ امریکہ چائنا کو وائرس پھیلانے کا الزام دیتا رہا جبکہ چائنہ امریکہ کو الزام دیتا رہا۔ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ، چائنہ، اٹلی وغیرہ شامل ہے۔ سب سے زیادہ اموات امریکہ میں ہوئی۔

کرونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی کے ساتھ بھر رہا ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس ناگہانی آفت سے نبٹنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ پاکستان کا شمار بھی غریب ممالک میں ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ غریب عوام فاقوں کی وجہ سے پس کر رہ گئی ہے۔ حکومتی پیکج کی مدد سے غریب عوام کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر لوگوں کی بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت دے دی ہے

اس وائرس کی ابھی تک ویکسین نہیں بن سکی مگر واحد حل خود کو احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے محفوظ رکھنا ہے۔ اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے چائنہ نے اس وائرس کو مکمل طور پر مات دے کر ووہان شہر کو کرونا فری زون قرار دے دیا ہے۔

کرونا کی اس لڑائی میں ڈاکٹرز نے فرنٹ لائن پر آکر مرتے ہوئے لوگوں کی جانیں بچائی۔ اپنے فرض کی انجام دہی میں بہت سے ڈاکٹرز نے موت کے نذرانے پیش کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز اور صحافیوں کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔

ایک چھوٹے سے کیڑے کی وجہ سے تمام دنیا مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس کی ویکسین کب تیار ہو گئی۔ نا جانے تب تک یہ وائرس اور کتنی جانیں نگل جائے۔ اس وائرس کے بعد دنیا کیسی ہو گئی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Facebook Comments HS