کارل مارکس، خیرات ا ور تبدیلی
چند دن پہلے عظیم انقلابی، دانشور، فلاسفر، صحافی، اور مصنف کارل مارکس کا یوم پیدائش گزرا ہے۔ جب تک دنیا میں طا قتور اور کمزور، غریب ا ور امیر، ما لک ا ور مزدور، آ جر اور اجیر، سرمائے اور محنت کی کشمکش رہے گی کارل مارکس کا نام گونجتا رہے گا۔ مارکس نے سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف ایسی موئژ آواز اٹھائی کہ سرمایہ داروں کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ اس کے انقلابی نظریات کی بدولت دنیا کے کمزور اور ناتواں طبقوں کو ایسی جرا ت رندانہ ملی کہ وہ اپنے اوپر ہونیوالے ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انقلاب روس سے لے کر انقلاب ایران تک سب میں مارکس کے نظریات کی جھلک نظر آتی ہے۔ علامہ اقبال نے مارکس کو بغیر وحی کے پیغمبر قرار دیا۔
وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
مارکس کے نظریات کی بدولت دنیا سرمایہ دارانہ نظام اور اشترکیت کے دو بلاکوں میں بٹ گئی۔ دونوں نظام مختلف سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات کے علمبردار ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام فری مارکیٹ، لامحدود نجی ملکیت، منافع خوری اور ا نفرادیت کا علمبردار ہے جب کہ اشتراکیت کنٹرولڈ مارکیٹ، محدود نجی ملکیت، شراکتی منافع اور اجتماعیت کا دعویٰ دار ہے۔ جدید دنیا میں امریکہ اور روس بالترتیب ان دو نظاموں کے سرخیل رہے ہیں۔ ا گرچہ دنیا کے کسی ملک میں یہ دونوں نظام اپنی ابتدائی ایام والی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ دونوں نظام کے علمبرداروں نے ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سے سیکھا اور گزرتے دور کے تقاضوں کے مظابق مختلف تبدیلیاں عمل میں لائے۔
مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کو بھرپو ر طریقے سے اجاگر کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ نظام اپنی تباہی کے بیج خود بو رہا ہے۔ اس نے نہ صرف اس نظام کا عمیق تجزیہ کیا بلکہ استحصال زدہ طبقے کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا۔ اس کے بقول جب تک اس طبقاتی معاشرے کو غیر طبقاتی معاشرے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا تب تک کمزوروں کا استحصال جاری ر ہے گا۔ مارکس نے کہا کہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ مزدور طبقہ سرمایہ داروں کے خلاف کھڑا ہو جائے اور انقلاب برپا کرے جس کے نتیجے میں ایک ایسا اشترکی معاشرہ وجود میں آئے گا جس میں سب لوگوں سے ان کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ان کی ضروریات کو ا جتماعی طریقے سے پورا کیا جائے گا۔
لیکن سوال پیدا ہو ا کہ جب تک انقلاب نہیں آتا تو تب تک کمزور طبقے کو کیسے سہار ا دیا جائے؟ اس اہم مسئلے پر مارکس اور اس کے ساتھی نظریاتی طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ا یک گروہ کا نظریہ یہ تھا کہ جب تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی تب تک کمزور طبقے کو اس کے اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تا کہ ان میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوں۔ جب کہ دوسر ا گروہ اس بات کا قائل تھا کہ جب تک انقلاب نہیں آتا معاشرے کے کمزور طبقے کی خیرات کے ذریعے مدد کی جائے۔
اگر ایسا نا ہوا تو وہ بھوک کی وجہ سے ناتواں ہو جائیں گے اور ان میں انقلاب لانے کی سکت بھی باقی نہیں رہے گی اور نہ ہی ان میں طبقاتی شعور پیدا ہو سکے گا۔ د لچسپ بات یہ ہے کہ مارکس بھی اسی بات پر یقین رکھتا تھا کہ جب تک انقلاب برپا نہیں ہوتا تب تک استحصال زدہ طبقے کی مدد جاری ر کھنی چاہیے۔ جب ان دونوں گروہوں میں اختلافات بڑھ گئے اور پہلا گر وہ اپنی ضد پر قائم رہا تو پھر مارکس نے پہلے گروہ کو مخاطب ہو کر ایک تاریخی جملہ بولا کہ ”اگر آپ لوگ میرے نظریات کی ایسی ہی تشریح کرتے ہیں اور اس کو مارکسزم کا نام دیتے ہیں تو پھر میں ما رکسسٹ نہیں ہوں“ ۔
وطن عزیز میں بھی آج کل خیرات کا گورکھ دھندہ عروج پر ہے۔ بس نام تبدیل ہوتے رہتے ہیں کبھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور کبھی احساس کفالت۔ حکومت اور عو ام دونوں ایک د وسرے سے مانگ رہے ہیں۔ طاقتور کمزور سے مانگ رہا ہے، کمزو ر طاقتور سے مانگ رہا ہے، طاقتور طاقتور سے مانگ رہا ہے۔ حتیٰ کہ کمزور بھی کمزور سے مانگ رہا ہے۔ ہم نے مارکس کے خیرات والے نظریے کو قبول کر لیا ہے لیکن مارکس کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ جب کسی معاشرے میں طاقتور اور کمزور دونوں ایک دوسرے سے مانگ رہے ہوں تو تبدیلی کے لیے کسی کسی ”تیسرے“ فریق کا انتظار کریں یا پھر خیرات پر گزارا چلائیں۔


