تین ملک اور زندگی کے تین فلسفے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی خوشی، کامیابی، شناخت وہ جہتیں ہیں جن پر تاریخ میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ مختلف ممالک میں انسانی خوشی سے متعلق دلچسپ نظریات ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مما ثلت بھی رکھتے ہیں اور بعض اوقات یکسرمتضاد بھی ہوتے ہیں۔ کوریا، جاپان اورجنوبی افریقہ میں انسانی زندگی اورخوشی سے متعلق معروف مقامی فلسفے اور نظریات کچھ اس طرح سے ہیں۔

جنوبی افریقہ کا فلسفہ یوبنٹو

مقامی زبان میں یوبنٹوکے معانی انسا نیت کے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے اس فلسفے کو نوے کی دہائی میں نیلسن منڈیلاکے توسط سے زیا دہ شہرت ملی۔ اس فلسفے کا بنیادی خیال انسانوں کا با ہمی تعلق اور ربط ہے۔ یعنی انفرادی منفعت سے زیا دہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اجتماعی مفاد کو مد نظر رکھا جا ئے۔ تا ہم یوبنٹو کا فلسفہ افریقہ کے جنو بی ممالک میں مقبول ہونے کے باوجود مختلف معا نی رکھتا ہے۔ اس کا پرچار کرنے والے اس کی خوبیاں بیان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

یوبنٹو ایک سیاسی نظریہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ زندگی کے متعلق یوبنٹو کے مطابق انسانی خوشی اور کامیابی اسی میں ہے کہ لوگ مل جل کر رہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں، ایک دوسرے کی مدد کریں، بزرگوں کا ا حترام کریں، بچوں سے شفقت کریں وغیرہ۔ یوبنٹو کے متعلق ایک مقامی رہنما کے مطابق، میری ذاتی شنا خت اس لیے ہے کیوں کہ میری اجتماعی شنا خت ہے۔

اکی گایئی ’جاپان کا فلسفہ

زندگی کے متعلق جاپان میں جس نظریے کو مقبولیت حاصل ہے وہ ’اکی گایئی‘ کہلاتا ہے جس کے لفظی معنی ’جینے کی وجہ‘ کے ہیں۔ اس فلسفے کے مظا بق زندگی میں سمت اورمقصد کا تعین ہے جو ا سے جینے کے قابل بناتا ہے اورایک کامیاب زندگی کے لیے ایساکرنا اشد ضروری ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق جاپان کے جزیرہ اوکیناوا پر لوگوں کی طویل عمری کا راز بھی ’اکاگئی‘ سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہاں کے لوگ جب تک ان کی صحت

ا جازت دیتی ہے اپنے من پسند کام سے جڑے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ اپنی ز ندگی میں سمت کا تعین کرنے کے بعد تمام تر توانایئاں اس میں لگا د یتے ہیں۔ ہما رے ہاں اس جاپانی نظریے کو اس قول

سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ’خوش قسمت ہے وہ شخص جس کا شوق، اس کا پیشہ بن جا ئے‘ ۔ ا یک بین الاقومی سروے کے مطابق دنیا میں دو تہا ئی سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو ان پیشوں سے وابستہ ہیں جو ان کی

یونیورسٹی کی تعلیم سے مختلف ہے۔ ایسے میں ’اکی گایئی‘ کا جاپانی فلسفہ ایک خوش اور مطمن زندگی کی جا نب رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

نونچی، کوریا کا فلسفہ

جزیرہ نما کوریا میں خوش وخرم زندگی گزارنے کے جس مقامی فلسفے کو اہمیت حاصل ہے وہ ’نونچی‘ کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق زندگی میں خوشی کا تعلق بہت حد تک آپ کی اس صلاحیت سے ہے آپ کس قدر مہارت اور چا بک دستی سے دوسروں کے موڈ کو بھا نپ سکتے ہیں۔ ’نونچی‘ کا لفظی مطلب ’آ نکھوں سے ماپنا‘ ہے۔ مغربی اصطلاح میں اس کورین فلسفے کو ’اموشنل انٹلیجنس‘ یا ’جذباتی ذہانت‘ کہا جا سکتا ہے۔ مقامی طور پر کسی بھی ایسے شخص کو جومعا شرتی طور پر نا دان سمجھا جاتا ہو اسے ’نونچی‘ سے نا بلد مانا جاتا ہے۔ ’نونچی‘ کو

کورین لوگوں کی حساسیت سے بھی تقویت ملتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کے چہرے کے تا ثرات اور با ت چیت سے آپ کے متعلق بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ کسی کے موڈ، خیا لات اورجذبا ت کو بھا نپنے کے عمل کو کوریا والے ’کیبون‘ کہتے ہیں اور ’نونچی‘ با ہمی تعلقات میں ’کیبون‘ کا ذہانت بھرا ستعمال ہے۔ سو کوریا کے ’نونچی‘ فلسفے کے مطا بق زندگی میں کامیابی اور خوشی کی کنجی اپنے سے وابستہ لوگوں کے جذبات اور ا حساسات کو سمجھنے میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *