کرونا کے دنوں میں ایک ڈاکٹر کے شب و روز

یہ صرف میری جانفشانی کی کہانی نہیں، یہ ہر اس ڈاکٹر کی کہانی ہے، جو ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اپنا سکون و آرام برباد کر کے انسانیت کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ اپنے اس حلف کا مان رکھے ہوئے ہے کہ فیلڈ میں جا کے ملک و قوم کی خدمت میں جان لگا دینی ہے اور کسی خوف اور پریشانی کو ڈیوٹی پہ حاوی نہیں ہونے دینا۔
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ڈاکٹرز ہو رہے ہیں، میرے اپنے وارڈ کے تیرہ ڈاکٹرز کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے اور ٹیسٹنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں، اسی وجہ سے باقی ڈاکٹرز پر کام کا بوجھ زیادہ ہے، یہ سرجیکل وارڈ کی صورتحال ہے، میڈیسن وارڈ کا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔
ہر ڈاکٹر اپنی ہمت سے زیادہ کام کر رہا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے، ان سب خدمات کے باوجود بھی، ہم ڈاکٹرز کو گالیاں دیتے ہیں، ان سے بدتمیزی کرتے ہیں، لواحقین ڈاکٹرز ہر ہاتھ بھی اٹھا دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے خلاف کمپین چلاتے ہیں اور حکام بالا تک بات بھی پہنچاتے ہیں جو جوابی طور پہ ڈاکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہیں۔
میری ذاتی زندگی اور روزمرہ کی روٹین اسی ہسپتال کی فضا میں گم ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے دوستوں سے بات کیے بھی عرصہ دراز ہو گیا ہے، کوئی کسی وارڈ میں بزی ہے تو کوئی کسی اور میں، جس دن میری چھٹی ہوتی ہے، وہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اور چل سو چل، اگر قسمت اچھی ہو تو افطاری یا سحری پر ملاقات ہوتی ہے، یہ ملاقات بھی روایتی ملاقات نہیں ہوتی، ہم اپنے اپنے وارڈ کے مریض ہی ایک دوسرے سے ڈسکس کرتے ہیں۔ اب چونکہ پروفیشن میں آ گئے ہیں تو پوری طرح اس میں ڈھل گئے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ، ابھی بھی ڈاکٹرز بنا حفاظتی سامان کے کام کر رہے ہیں، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے، سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ تر مریضوں کا تعلق لوئر کلاس سے ہوتا ہے، یہ کرونا سے زیادہ متاثرہ ہیں اور جو بھی ڈاکٹر ان کو چیک کرتا ہے، اس میں انفیکشن کا رسک بھی باقیوں کی نسبت زیادہ بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ پھر بھی ان کو اتنی ہی لگن سے چیک کرتے ہیں۔ حفاظتی سامان کے لیے احتجاج کرتے ضرور ہیں، لیکن اگر سامان نا بھی ملے، مریض چیک کرنا نہیں چھوڑتے۔ میرے اپنے ہی بہت پیارے سینئر ، ڈاکٹر مبشر ابرار بھی کرونا کا شکار ہو گئے تھے، ان کا علاج ابھی بھی جاری ہے، یہی صورتحال ہر دوسرے ڈاکٹر کی ہے۔
لیکن ان سب مشکل حالات کے باوجود، جب آپ کی دوا سے مریض کو سکون ملتا ہے، اس کے ساتھ آئے لوگ، جب آپ کو دعائیں دیتے ہیں، آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو ساری مشکلیں بھول جاتی ہیں، دل مطمئن ہو جاتا ہے، جو لوگ سوشل میڈیا پر گالیاں دیتے ہیں وہ پھر کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
شاید انہی خوبیوں کی وجہ سے ڈاکٹرز اس قوم کا فخر ہیں، جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں، دوسروں کو سکون دینے کے لیے، اپنے سکون کی قربانی دیتے ہیں۔ حالات چاہیے کتنے ہی ناساز کیوں نا ہوں، یہ آپ کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ شفا تو خدا کی ذات دیتی ہے مگر اس کے وسیلے یہاں دنیا میں مخصوص لوگوں کی جانب سے ہی پہنچتے ہیں، سو خدا اور خدا کے وسیلوں کی قدر اور شکرگزاری انسان کے بڑے پن کی علامت ہے۔
فائنل ایئر میں، ہمارے ڈاکٹرز ہمیں سمجھایا کرتے تھے کہ آپ جس شعبہ میں آ چکے ہیں، اس کا ایک ہی اصول ہے وہ ہے بے لوث خدمت، آپ کے لیے سب سے زیادہ اہم آپ کا مریض ہے، اب یہ بات سمجھ آ چکی ہے، اب ڈاکٹرز کو دن رات یوں کام کرتے دیکھتا ہوں، تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے اس شعبے کے لیے چنا، اب سہری کا وقت ہے، ڈاکٹر فرحان میرا انتظار کر رہے ہیں، باقی باتیں پھر سہی! دعا کیجئے کہ قوم کے سپوت اپنا کام اسی جانفشانی اور محنت سے کرتے رہیں اور ان کی زندگیاں محفوظ و توانا رہیں، آمین!

