سوشل میڈیا کا استعمال

دنیا دن بہ دن ترقی کی طرف گامزن ہے۔ آج کے اس جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا مگر معاشرے پر اس کے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا ذکر بھی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں دور دراز رہنے والوں کے قریب تو کر دیا وہیں قریب رہنے والے اپنوں سے دور بھی کر دیا ہے۔ یہاں جعلی شناخت کے حامل دھوکہ باز افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جو لوگوں خصوصاً خواتین کو پریشان کر کے ان کے احساسات سے کھیلتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر چلنے والا اکثر مواد یک طرفہ اور غیر تصدیق شدہ ہوتاہے جس سے لوگوں میں انتشار اور بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے سائبر کرائم بل تو منظور کیا تھا مگر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی اکثریت اس سے ناواقف ہے۔

دور حاضر ٹیکنالوجی کا دور ہے، آج ہر چھوٹے بڑے کام کو انجام دینے کے لیے مشینوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان کا استعمال کس طرح کرنا ہے، یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اکثر سنا ہے کہ نسل نو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال کر رہی ہے، بے راہ روی کی جانب گامزن ہے، سوشل میڈیا کے باعث منفی سرگرمیوں اور رجحانات کا شکار ہو رہی ہے۔ جس کے باعث معاشرے میں یہ عام خیال پروان چڑھنے لگا ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے نقصان کا باعث ہے۔

لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ، سوشل میڈیا کے نقصانات کو اپنے اصل سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ درحقیقت نوجوانوں پر اس کے اثرات معمولی نوعیت کے ہیں۔ یہ رپورٹ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کی ہے، جسے تحقیق مکمل کرنے میں 8 برس کا عرصہ لگا، اس میں بارہ ہزار برطانوی نوجوانوں سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور اس تحقیق کو ”پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“ نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اہم نقطہ نظر سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا کے معلوم اثرات کے مقابلے میں نامعلوم اثرات خاصے زیادہ ہیں۔ محقق پروفیسر اینڈریو پریزیبلسکی کے مطابق ”سوشل میڈیا کے نوجوانوں پر برے اثرات پر بحث میں شواہد مضبوط نہیں ہیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ، تحقیق میں سوشل میڈیا کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے نوجوانوں پر اثرات کے جائزے پر زور دیا گیا ہے۔ ماضی میں ہونے والی کسی بھی تحقیق میں اس حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا گیا کہ مایوسی کا شکار نوجوان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزار سکتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ، ماضی کی تحقیق میں صرف اسکرین ٹائم اور اس کے ذہنی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا، لیکن اعداد و شمار کو نظر انداز کر دیا گیا اس لئے یہ تحقیق کسی طرح قابل اعتبار نہیں ہے ”۔ جس سے اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ نسل نو کے لیے سوشل میڈیا اتنا نقصان دہ نہیں جتنا ڈرایا جاتا ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر نوجوانوں پر منحصر کرتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کس طرح کر رہے ہیں۔

اگر تازہ اعداد و شمار کا جائز لیں تو معلوم ہوگا کہ جہاں مختلف وجوہات کے باعث بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور وسائل کی کمی کے باعث نوجوانوں کے لیے کاروبار کرنا ممکن نہیں وہ انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے فری لانسنگ کے ذریعے ذریعہ معاش تلاش کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کے استعمال سے نوجوان خود مختار ہو رہے ہیں تو غلط نہ ہوگا، اب انہیں جگہ جگہ، ایک دفتر سے دوسرے دفتر دھکے کھانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ گھر بیٹھے بھی روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک دور تھا جب خبریں حاصل کرنے کے لیے اگلے روز کا انتظار کرنا پڑتا تھا، پھر ٹی وی اور پرائیویٹ چینلز کے آنے کے بعد ہر گھنٹے آگاہی کا سلسلہ شروع ہوگیا، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ زندگی مصروف سے مصروف تر ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں تازہ ترین صورت حال جانے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور اگر آپ کہیں راستے میں ہوں تو یہ انتظار مزید طویل ہوجاتا کہ جب آپ گھر پہنچیں گے، یا کہیں ٹی وی تک رسائی ہوگی تو آپ باخبر ہوسکیں گے۔

لیکن اس مشکل کا حل بھی سوشل میڈیا نے ڈھونڈ نکالا اب ہر خبر آپ کے ایک کلک کی دوری پر ہے۔ مختلف فورمز اور گروپس کے ذریعے آپ چاہیے راستے میں ہوں یا مال میں شاپنگ کر رہے ہوں، ٹریفک جام میں پھنسے ہوں یا دفتری امور میں، بس ان گروپس اور فورمز پر جائیں اور اپنے علاقے کی تازہ صورت حال سے باخبر ہو جائیے، یا پھر آپ خود بھی دوسروں کو اپنے علاقے کی صورت حال سے بروقت آگاہ کر سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں یہ عام خیال پروان چڑھ رہا ہے کہ موجودہ دور میں نوجوانوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوگیا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب نوجوان ماضی کی طرح لائبریری کا رخ نہیں کرتے، بیشتر کتب خانے ویران پڑے ہیں یا پھر ان کی جگہ شاپنگ مالز بنا دیے گئے ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، البتہ ماضی کے مقابلے میں کتب بینی کے شوق میں کمی واقعے ضرور ہوئی ہے، لیکن پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی۔ اب نوجوانوں کی اکثریت آن لائن کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے۔

اس کی ایک وجہ وقت کی کمی اور دوسری وجہ فری ڈاؤن لوڈنگ ہے۔ انہیں کتابیں، رسالے یا اخبار پڑھنے کے لیے پیسے خرچ نہیں کرنے پڑتے بلکہ صرف ایک کلک پر آپ کی پسندیدہ کتاب مکمل طور پر آپ کے موبائل فون یا کمپیوٹر میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ آپ جب چاہیں اسے پڑھ سکتے اور شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں آن لائن کتابیں، رسالے یا اخبارات پڑھنے والوں کے اعداد و شمار کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا ہے۔ جس سے ان کی درست تعداد کا اندازہ ہو سکے۔

صرف کتب بینی ہی نہیں بلکہ آج کل طلبا کی بڑی تعداد بھی گوگل سے مستفید ہو رہی ہے۔ جب کبھی کسی مضمون میں دشواری پیش آئی یا کچھ سمجھ نہیں آتا تو طلبا اس مسئلے کا حل کتابوں میں تلاش کرنے کی بجائے گوگل یا یوٹیوب پر صرف ایک کلک سے تلاش کرتے ہیں، جس سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا وقت بچ جاتا ہے، ساتھ مسئلے کا حل تلاش کرتے کرتے دیگر معلومات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ طلباء جن کا رجحان پالیٹکس یا تکنیکی تعلیم کی جانب ہے ان کے لیے گوگل اور یوٹیوب سب سے بہترین ہے۔

وہ گھر بیٹھے ہی مختلف چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اثرات مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نمایاں ہیں۔ جب کہ جذبات، احساسات اور مستقبل کے حوالے سے خیالات کے اظہار کی خاطر سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چوں کہ ہمارے معاشرے میں آج کل علیحدہ گھر کا رواج عام ہوگیا ہے اور خواتین کی بڑی تعداد گھریلو امور سنبھالتی ہیں، اس لیے انہیں اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لیے کسی نہ کسی ہمدرد کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کی مشکلات کو سمجھے، ان کا مذاق اڑانے کی بجائے انہیں صلح مشورہ دے جو کہ گھر کی چار دیواری میں ممکن نہیں، اسی لیے یہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے تسکین حاصل کرتی ہیں۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ اکثر اوقات مرد حضرات بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

آج کل بے شمار آن لائن سروسز بھی میسر ہیں جن سے مستفید ہوا جاسکتا ہے جیسے آن لائن ٹیکسی سروس، آن لائن درزی، دھوبی، پلمبر، مکینک، مستری، الیکٹریشن، بیوٹیشن، شاپنگ، یہاں تک کہ آج کل آن لائن ڈاکٹرز بھی میسر ہیں جو گھر بیٹھے آپ کا علاج کردیتے ہیں۔ الغرض سوشل میڈیا آج کل ایک آلے کی مانند ہے جس کے مثبت استعمال سے معاشرے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ منفی استعمال سے معاشرے کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اس بات کا انحصار صارفین کے رویہ اور مواد کے انتخاب پر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words