متحدہ عرب امارات میں بھارتی انتہاپسندوں کے خلاف ایکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیجی ممالک میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے ہندو ملازمین کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی نگرانی کڑی کر دی گئی ہے۔ دوبئی میں الضادیہ گروپ اٹالین ریسٹورنٹس کی چین کا مالک ہے۔ اس کے ایک شیف راوت نے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔ کمپنی نے اسے کام سے ہٹا کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

شارجہ میں ایف زیڈ ای نام کی آٹو میشن کمپنی ہے۔ کمپنی میں ایک بھارتی ہندو نے مسلمانوں کے لیے غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کی تنخواہ روک لی گئی اور کہا گیا ہے کہ کام پر نہ آئے۔ کنی گولی نامی ملازم کے متعلق کمپنی مالکان نے وضاحت جاری کی ہے کہ وہ کسی شخص کے عقاید کی توہین کے مرتکب فرد کے لیے زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ دوبئی ٹرانس گارڈ گروپ نے چند روز قبل اپنے ایک بھارتی ملازم کے خلاف کارروائی کی ہے۔ وشال ٹھاکر نامی ملازم نے فیس بک پر اسلام کے خلاف کئی پوسٹیں تحریر کیں۔ متحدہ عرب امارات میں 35 لاکھ سے زاید بھارتی مقیم ہیں۔

ان میں لاکھوں ایسے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور اشتعال انگیز خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ایسے کچھ افراد سوشل میڈیا پر بی جے پی کی ہدایات کے مطابق پوسٹ لگاتے ہیں۔ دوبئی پولیس نے اس طرح کے عناصر کے خلاف سائبر کرائم قانون نمبر 5 مجریہ 2012 ء کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ بھارت میں کئی مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کے الزام میں مارا پیٹا گیا ہے۔ بھارتی وزراء اور حکومتی عہدیدار سرے عام اعلان کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی دکان سے سبزی اور پھل نہ خریدا جائے۔

پہلے مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے شک میں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں اس شبہ میں مارا گیا کہ وہ کورونا پھیلا رہے تھے۔ مودی حکومت نے متحدہ عرب امارات میں ایک بہت بڑا مندر تعمیر کروانے کی اجازت لی۔ عرب امارات کے صدر کی بیٹی باپ سے ناراض ہو کر فرار ہوئی۔ اس کا خیال تھا کہ بھارت ایک بڑا، آزاد اور جمہوری ملک ہونے کی وجہ سے اسے تحفظ دے گا لیکن اجیت دوول نے اسے گرفتار کر کے واپس بھیج دیا۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان پر احسان سمجھ کر اس کی قیمت کئی طرح سے وصول کرنا چاہتی ہے بلکہ کشمیر کے معاملے پر متحدہ عرب امارات کو خاموش رکھنے کے لیے اسی طرح کے احسانات کو بطور دباؤ استعمال کیا گیا۔

بھارتی فلم میں اگر کسی نیک اور بہادر مسلمان کا کردار دکھانا مقصود ہو تو کردار پٹھان ہو گا۔ یہ اس فکر کا حصہ ہے جو کانگرس اور سرحدی گاندھی کہلانے والے خان عبدالغفار خان کے آزادی کے وقت اتحاد نے جنم دی۔ اگر مسلمان دہشت گرد دکھانا ہو تو اس کا حلیہ کشمیری مجاہدین جیسا ہو گا، عربوں کو بھارتی فلم انڈسٹری میں ہمیشہ عیاش، بے وقوف اور بزدل دکھایا جاتا ہے۔ عربوں کی یہ شبیہ اگرچہ مدت سے پروپیگنڈا مشین سے بنائی جا رہی ہے لیکن بی جے پی نے اس کو سیاسی اور معاشی فوائد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔

دوبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں کو تعمیراتی منصوبوں کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ بھٹو صاحب نے مزدور بھیجے، بھارت کے لئے بھی ایک امکان پیدا ہو گیا۔ اس نے عرب حکمرانوں کی میزبانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بھارت نے ہنر مند افراد ان ریاستوں میں بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ ہنر مند سپروائزر جیسا کام کرتے تھے۔ ہیومن ریسورس اور اکاؤنٹس میں بڑی تعداد میں بھارتی خواتین آ گئیں۔ ان کی ترجیح مزدوری کے لیے بھارتی افراد تھے۔

پھر ان ہی افراد نے اعلیٰ عہدوں پر قبضہ کر لیا۔ پہلے رئیل اسٹیٹ اور پھربھارتی آئی ٹی کمپنیوں نے یہاں دفاتر بنائے، پرائیویٹ ہسپتال بنائے، مالز بنائے۔ بھارتی سرمایہ کاروں نے خلیجی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کاروباری منصوبے تیار کیے۔ ایسے منصوبوں میں خلیجی دولتمند عموماً سرمایہ کی فراہمی تک محدود رہے جبکہ سٹاف کی بھرتی، آپریشن اور عمومی معاملات بھارتی افراد ہی دیکھتے۔ بھارتیوں کا اعلیٰ سطح پر اثر و رسوخ بڑھا تو فلمی شخصیات اور شوبز سٹار کے شو کروائے گئے۔

فلمی اداکار اور اداکارائیں ذاتی فائدے کے ساتھ ساتھ بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے بھی خلیجی اور عرب دولت مندوں کو آمادہ کرتے۔ بھارت نے عشروں سے امریکہ کی پالیسیوں کو اپنانے کا سوچ رکھا ہے۔ امریکہ کی دولت مندی عربوں کے وسائل سے پھلی پھولی ہے۔ بھارت نے بھی یہی کیا۔ امریکہ نے فلسطین کے معاملے میں عربوں کو بے بس کر دیا۔ بھارت نے کشمیر کے معاملہ پر ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ امریکی ماہرین عربوں کی معاشی ضرورت بن گئے ہیں۔

بھارت سمجھتا ہے کہ اب وہ خلیج کی ریاستوں کی معاشی ضرورت بن گیا ہے اس لیے اس کے طرز عمل میں اب خلیجی باشندوں کے متعلق جارحانہ پن پیدا ہو رہا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا، بظاہر ایک سادہ سی بات ہے لیکن اس کے پیچھے کتنے دماغ کام کر رہے ہیں اور بھارت کی سفارتی و انٹیلی جنس مشینری کس طرح سرگرم ہے اس سے ہمیں آگاہ کرنے والا کوئی ذریعہ میسر نہیں۔ بھارتی انتہا پسند ہندو خلیجی ریاستوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ شیف، موسیقار، آئی ٹی کنسلٹنٹ، بزنس پلانر، اکاؤنٹنٹ، انجینئر اور بزنس پارٹنر کی شکل میں اپنا دوہرا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عرب امارات نے سخت ردعمل ظاہر کیا تو آگ لگا کر تماشا دیکھنے کے عادی نریندر مودی نے فوراً کورونا کو مذہبی تناظر میں نہ دیکھنے کا بیان جاری کیا۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر فوراً یو اے ای پہنچے اور حکومتی شخصیات کے سامنے وضاحتیں پیش کیں۔ نفرت آخرکار انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔ کچھ مالی اور معاشی فوائد اگر مل بھی جائیں تو قوم کی ساکھ ضرور تباہ ہو جاتی ہے۔ بھارت نے تاریخ جانے بغیر عربوں کی عصبیت کو چیلنج کر دیا ہے۔ اگر حمیت پوری طرح عربوں سے رخصت نہیں ہوئی تو بھارت کے لیے بہت جلدبری خبریں آنے والی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *