جبران ناصر کا ارتغرل
جبران ناصر صاحب مجھے پسند ہیں۔ وہ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ماشا اللہ پچھلے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ آپ ’این۔ اے۔ دو سو سینتالس‘ اور ’پی۔ ایس۔ ایک سو گیارہ‘ سے کھڑے ہوئے تھے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے ماشااللہ چھے ہزار چار سو باسٹھ ووٹ لئے تھے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے چھے ہزار ایک سو نو ووٹ حاصل کیے تھے۔ آپ اپنے حلقوں میں ماشا اللہ سے چوتھے اور پانچویں نمبر پر آئے تھے۔
حالانکہ علاقے بھی عرف عام میں ’برگروں‘ کے تھے۔ چلو کوئی بات نہیں۔ انہوں نے کوشش تو کی۔ میری تو بہت خواہش تھی کہ جبران صاحب انتخابات جیت ہی جاتے۔ اگر وہ جیت جاتے تو ان کی پیاری پیاری باتیں قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی سے بھی سننے کو ملتیں۔ خیر بات یہ ہے کہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ ہمارے جبران بھائی تو سیاست کے شہسوار ہیں۔ مگر کچھ دنوں سے وہ ایک شہسوار فاتح کی کہانی پاکستان ٹیلی ویژن پر آنے پر کافی نالاں ہیں۔ بات تھوڑی تفصیل طلب ہے۔
جبران صاحب نے حال میں ایک ٹویٹ فرمایا کہ
’ہمارے پاس پاکستان میں بہت سی خوبصورت ثقافتیں ہیں مگر اکثر لوگ ابھی تک شناخت کے بحران کا شکار ہیں جو کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جب ہم‘ خود ’رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو گورے ہماری مماثلت کی وجہ سے ہم کو ہندی سمجھ لیتے ہیں اسی لئے ہم نے عربوں کی نقل شروع کی کہ ہم تو محمد بن قاسم سے منسلک ہیں اور اب ہم ترک بننے کے چکر میں ہیں‘ ۔
یہ ہمارے پیارے چھے ہزار چار سو باسٹھ افراد کے راہنما جبران ناصر بھائی کے قول کاترجمہ ہے۔ ویسے یہ بات انہوں نے کیوں کی یہ سب ہی جانتے ہیں۔ آج کل اہل پاکستان میں ارتغرل نام کا ٹی وی ڈرامہ بہت مقبول ہے۔
خیر یہ تو کوئی عجیب بات نہیں کہ جبران بھائی کو عوام کی پسند یدہ چیزیں بری لگیں اس لیے کہ جبران بھائی ماشاء اللہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابات میں بھی آپ ماشاء اللہ ڈیفنس اور کلفٹن کے حلقے سے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور وہاں کی بھی حس عام سے جبران بھائی کا کتنا تعلق ہے اس کا اندازہ ان کے انتخابی نتائج سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ چھے ہزار چار سو باسٹھ لوگوں کے قائد جبران ناصر صاحب کو کبھی اس بات پر آگ نہیں لگتی کہ لوگ انگریزی فلمیں کیوں دیکھتے ہیں۔ لوگ انگریزوں کی نقل کر نے کی سعی کیوں کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی برا نہیں لگتا کہ پاکستانیوں کی بعض اولادیں گوروں کے ممالک میں گورے بننے کی اندھی کوشش کرتی ہیں۔ تب ان کو کوئی شناخت کا بحران نظر نہیں آتا۔ مگر ان کو برے لگتے ہیں وہ پاکستانی جو کہ عرب بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا جو بقول ان کے اب ترک بننے کی کوشش میں ہیں۔
ویسے جہاں تک میری اطلاع ہے جبران صاحب تو بڑے پکے لبرل ہیں اور لبرل کو تو آزاد انسان ہونا چاہیے۔ تو جبران صاحب آپ عوام کو یہ آزادی دینے پر تیار کیوں نہیں کہ وہ عرب، ترک، ہندی، چینی، امریکی یا جو دل چاہے وہ بنیں یا اس کی نقل کریں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ یعنی کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان میں بڑی خوبصورت ثقافتیں موجود ہیں تو ہر کسی کو انہی کو اپنانا چاہیے؟ آپ کیسے لبرل ہیں کہ آپ اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں؟
پھر سوال یہ بھی تو ہے جبران ناصر صاحب کہ کیا ارتغرل نام کا ڈرامہ ترک ثقافت کا پرچار کرتا ہے اور آپ کا یہ غصہ ترک ثقافت کو پاکستانی ثقافت پر فوقیت دیے جانے پر ہے؟ اگر ایسا ہے سرکار تو آپ نے 2011 ء میں ’مناہل اور خلیل‘ اور ’عشق ممنوع‘ وغیرہ کے پاکستانی چینلز پر دکھائے جانے پر کوئی آواز کیوں نہ اٹھائی؟ ان ڈراموں میں نہ تو ثقافت ہماری تھی اور نہ ہی اقدار۔ تب آپ خاموش رہے۔ اب آپ بلبلا رہے ہیں تو یہ آگ یقیناً ثقافت کی نہیں ہے۔
بات یہ ہے سرکار کہ ارتغرل غازی میں ایک اسلامی تھیم موجود ہے۔ اس میں مسلمانوں کے زوال کے دور میں ایک ایسے مسلمان کے اٹھنے کی داستان موجود ہے جس کی اولاد نے دوبارہ مسلمانوں کو وہ عروج عطا کیا کہ مسلمان یورپ میں ویانا تک پہنچ گئے۔ اس ڈرامے میں خلافت کا پیغام موجود ہے، وہی خلافت جس کے تذکرے سے بھی مغرب کو ’ریڈیکل‘ اور ’پولیٹیکل‘ اسلام برامد ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
چھے ہزار چار سو باسٹھ افراد کے رہنما جناب جبران ناصر صاحب کے ٹویٹ میں ایک اور بلیغ اشارہ محمد بن قاسم کی طرف بھی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ نہ عرب ہیں نہ ترک، وجہ اسلامی تشخص ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ پاکستانی شناخت کے بحران کا شکار نظر آتے ہیں جب وہ عرب یا ترک بننے کی سعی کرتے ہیں۔ ناصر صاحب کہنا یہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی جب خود کو ہندوستانیوں سے الگ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شناخت کا بحران ہے۔
جبران بھائی آپ زیادہ بڑے رہنما ہیں یا قائد آعظم محمد علی جناح؟ ظاہر سی بات ہے آپ کے پاس صرف چھے ہزار چار سو باسٹھ ووٹ ہیں اور قائد کے ساتھ تب کی مسلم اکثریت کھڑی تھی تو قائد آعظم کو ہی مجبوراً آپ سے بہت بڑا لیڈر ماننا پڑے گا۔ سرکار انہوں نے یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان دو قومی نظرئے کی بنیاد پر لیا تھا۔ وہ تو اسلامی ثقافت اور ہندو ثقافت کو بالکل الگ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے تو فرمایا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ دونوں کے تو لوٹے بھی الگ ہوتے ہیں۔
ہندو کے لوٹے میں ٹونٹی نہیں ہوتی۔ پھر قائد آعظم نے یہ بھی الحمدللہ فرما دیا تھا کہ پاکستان تو اسی دن بن گیا جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔ آپ تو لبرل ہیں جمہوریت کو تو مانتے ہی ہوں گے؟ تو جمہوریت کی نظر سے تو آپ چھے ہزار چار سو باسٹھ افراد کے رہنما ہیں جبکہ قائد آعظم کو ہند کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنا رہنما مانا تھا۔ اب آپ کی بات سنی جائے یا قائد آعظم کی؟
پھر عجیب بات یہ بھی تو ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن تو اب کوئی دیکھتا بھی نہیں تو اس پر کچھ نشر بھی ہوگیا تو کیا توپ چل جائے گی؟ مگر بات یہ ہے کہ اس سے ہمارے چھے ہزار چار سو باسٹھ افراد کے راہنما جبران ناصر صاحب کو لگتا ہے کہ پی ٹی وی پر کچھ آرہا ہے تو کہیں پاکستان کی ریاست کی پالیسی ہی اسلام پسندی پر مائل تونہیں ہوگئی؟ جبران صاحب گھبرا رہے ہیں کہ کہیں اس کے بعد پی ٹی وی پر تعبیر، آخری چٹان، شاہین، نورالدین زنگی اور محمد بن قاسم تو نہیں چلنا شروع ہوجائیں گے؟ گھبرائیں نہیں جبران بھائی اب عوام کو پی ٹی وی کی ضرورت بھی نہیں۔ عوام کا فیصلہ ارتغرل کے حق میں پی ٹی وی پر آنے سے پہلے ہی آگیا تھا۔ عوام تو اپنا فیصلہ دے ہی دیتے ہیں۔ شک ہو تو این۔ اے۔ دو سو سینتالس ’اور‘ پی۔ ایس۔ ایک سو گیارہ ’کی عوام سے پوچھ لیں۔


