عید کی شاپنگ یا کورونا کی بیماری: فیصلہ آپ کا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اس وقت ایک انوکھے دور سے گزر رہے ہیں۔ انسان یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ہر قسم کی وباؤں پر قابو پا چکا ہے اب کوئی پریشانی اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں بنے گی مگر اچانک کووڈ  19 نے آ کے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

26 فروری 2020 کو پا کستان کے شہر کراچی میں کورونا کا پہلا کیس رجسٹر ہوا جب کراچی کا ایک رہائشی طالبعلم ایران سے واپس آیا تو اس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے چاروں صوبوں میں کیس رپورٹ ہونے لگے اس وقت تک پاکستان میں 35,384 کیس رجسٹر ہو چکے ہیں جس میں 781 اموات اور 8,812 صحت یاب کیسزشامل ہیں۔

اوائل مارچ میں ہمیں اپنے شہر لاہور میں کورونا کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ اپنے اپنے طور پے احتیاطی تدابیر اختیار کی جانے لگیں۔ آغاز میں زیادہ احتیاط کرنے والوں کو کہیں پر تعریف اور کہیں پر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب ابھی حکومت بھی کورونا بچاو تیاریوں کے ابتدائی مراحل میں داخل نہ ہوئی تھی اور کسی حد تک تذبذب کا شکار تھی۔ مصافحہ اور معانقہ ابھی آوٹ آف فیشن نہیں ہوا تھا۔ لوگوں میں ابھی اس معاملے میں انکار پر جھجھک چل رہی تھی۔ کوئی مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھاتا اور دوسری طرف سے انکار پے ہاتھ بڑھانے والا جھینپ کر اپنا ہاتھ یہ کہ کر نیچے کر لیتا کہ ہاں “جی بالکل مناسب احتیاط اچھی بہت بات ہے “مگر اس کی شکل پر صاف لکھا ہوتا کہ وہ دل سے اس بات کو قبول نہیں کر پا رہا۔ بحثیت مسلمان مصافحہ اور معانقہ سے ہمارا پیار اور گرمجوشی جڑی ہے۔ ہاتھ نہ ملانے پر ملاقات ادھوری لگتی ہے۔ بہرحال گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کو قبول کیا جانے لگا۔

رفتہ رفتہ کورونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی دوری کی اصطلاح سامنے آئی۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ بڑے بڑے گروھوں سے دور رہیں، رش والی جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں، غیر ضروری میل جول فی الحال ترک کر دیں۔ کسی بھی قسم کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

سماجی دوری کے بعد سیلف آئسولیشن یعنی خود ساختہ تنہائی کی اصلاح سامنے آئی۔ یہ عمل ایسے افراد کو اختیار کرنے کا کہا گیا جو یا تو کسی دوسرے ملک سے سفر کرکے آئے ہوں جہاں کورونا موجود تھا یا پھر ان کے کسی قریبی فرد میں ایسے وائرس کی تشخیص ہوئی ہو۔ سیلف آئسولیشن کو قرنطینہ یا انگریزی میں کورینٹائن کہا جاتا ہے۔ سماجی دوری، خود ساختہ تنہائی او قرنطینہ کے ساتھ ہم ایک نئے لفظ سے متعارف ہوئے جس کو “لاک ڈاؤن “کہا جاتا ہے۔

اس لاک ڈاؤن کا آغاز کراچی سے ہوتے ہوئے پورے ملک میں پھیل گیا، لامحالہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ پوش علاقوں کے مکین اس پر زیادہ سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے نظر آئے جبکہ عام علاقوں میں لوگ اس پر زیادہ عمل پیرا نہ ہوئے۔

پاکستان میں لگے لاک ڈاون کو پندرہ پندرہ دن کی توسیع کے ساتھ بڑھایا جاتا رہا، تقریباَ دو مہینے تک رہنے والا یہ لاک ڈاون ۱۱ مئی بروز سوموار کو اختتام پزیر ہوا۔ لاک ڈاون کے ختم ہونے کی خبر کو عوام نے ” کرونا کے خاتمے کی خبر” سمجھا۔ خدا کرے کہ ہمیں وہ خوش قسمت دن دیکھنا جلد نصیب ہو مگر بد قسمتی سے اس وقت بری خبر یہ ہے کہ یہ عالمی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ معیشت کا پہیہ چلتا رہنے کے لیے حکومت کو بے امر مجبوری یہ لاک ڈاون ختم کرنا پڑا مگر یہ بات لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ عوام حکومت کو ایسی اتھارٹی مانتی ہے کہ حکومت کا کیا گیا اعلان ایک ایسی چیز ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ورنہ حکومت ایسا فیصلہ کیوں کرتی سو لوگ اس لاک ڈاون کھلنے کو ایک گرین سگنل سمجھ رہے ہیں۔ لاک ڈاون کھولنا حکومت کی ایک بہت بڑی مجبوری بن چکی تھی۔ مگر وبا یا وائرس کو اس مجبوری کا نہیں پتہ، وائرس نے ہر صورت اپنا کام کرنا ہے۔ جب وائرس کو پھیلنے کے لئے اپنے پسندیدہ حالات میسر ہوں گے تو وہ اپنا کام اور تیزی سے کرے گا۔

وائرس کے پسندیدہ حالات کیا ہیں۔ اس کا پتہ چلانا کوئی مشکل کام نہیں ہے آپ کو اس کام کے لیے اپنی سماجی دوری کا اصول توڑنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اپنے گھر بلکہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ٹی۔ وی کا ریموٹ پکڑلیں اور کسی بھی چینل پر خبر نامہ لگا لیں بس پھر دیکھیے کہ

عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

نہایت افسوس کا مقام ہے بازاروں میں اتنا رش ہے کہ کھوے سے کھوا چھلنا والا محاورہ یاد آ گیا۔۔ صرف دو دن گزرنے کے بعد ملک میں بہت سے تجارتی مراکز کو سیل کردیا گیا ہے۔ گذشتہ دو مہینوں میں متعدد بار یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ جب ہم اس وائرس سے نجات پالیں گے تو لوگ دیوانہ وار باہر نکلیں گے مگر لوگوں کی عقل پر ماتم ہے کہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے باوجود بے امر مجبوری کھلنے والے لاک ڈاون کو جشن میں بدل دیا۔

تجارتی مراکز کو صرف اس شرط پر کھولا گیا کہ احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے اشد ضرورت کی چیزوں کی خریداری کی جائے۔ مگر ہمارے یہاں یوں لگ رہا ہے کہ کورونا نام کی کوئی چیز کبھی تھی ہی نہیں چلچلاتی دھوپ میں لائنوں میں بچوں کے ساتھ کھڑے ہوکر برانڈڈ کپڑوں کی خریداری کی جا رہی ہے۔

بحثیت انسان ہم ایک تیز دوڑ میں شریک تھے سر پٹ دوڑ رہے تھے کوئی بھی چیز ہماری اس تیزرفتاری میں رکاوٹ نہیں تھی۔ نفسا نفسی کے اس عالم میں آنے والی اس وبا نے ہمیں اچانک رکنے پر مجبور کر دیا چونکہ انسان کی رفتار بہت زیادہ تیز تھی سو اس کو رکنے میں وقت لگا مگر آہستہ آہستہ ہم رک ہی گئے۔ جب رکے تو کچھ حقائق ہم پر آشکار ہوئے کہ زندگی اتنی پیچیدہ نہیں ہے جتنا ہم نے اس کو بنا دیا ہے۔ ہم اتنی تیز رفتاری سے کیوں دوڑ رہے تھے۔ ہمیں کونسا مقابلہ جیتنا تھا کہ ہم زندگی کے حسن کو محسوس کرنے کی حس کو بھی کھوتے جارہے تھے۔ جب زندگی ایک دم رک گئی تو ہمیں وہ خوبصورتیاں نظر آنے لگیں جوہم کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔

انسان کو زندہ رہنے کے لیے کیا چاہیے دو وقت کی روٹی اور چند ضرورت کی اشیا۔ گذشتہ دنوں میں ہم میں سے تقریباَ سب نے یہ تجربہ کر کے دیکھا کہ بہت سی چیزیں ہم بلا ضرورت خرید رہے ہوتے ہیں اس عرصے میں سب نے بغیر خریداری کے گزارا کیا ہے۔ خدارا اب بھی اس اصول پر عمل پیرا رہیں۔ عید نئی چیزوں کے بغیر بھی گذاری جا سکتی ہے مگر اپنوں کے بغیر گذری عیدیں، عیدیں نہیں سزائیں بن جاتی ہیں۔

سو اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن احتیاط کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply