نظام ہستی


کوئی کسی سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتا ہم سب کہ راستے مختلف ہیں اور ہر کوئی تنہا اپنے راستے پر گامزن ہے جب راستے علیحدہ ہوں تو منزل کا ایک ہونا ضروری نہیں جب سب کی ابتدا مختلف ہو تو بھلا انتہا ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ہماری شکل و صورت اور ہاتھوں کی لکیریں مختلف ہیں تو پھر موازنہ کیسا مقابلہ تو ایک جیسی چیزوں یا برابر رہنے والوں میں ہوتا ہے لحاظ کسی سے آگے نکل جانے کی خوشی اور پیچھے رہ جانے کا غم بے معنی ہے۔

میرے نزدیک دین اور دنیا کو زندگی کے کسی حصے میں بھی پایا جاسکتا ہے بات صرف نیت اور سمت کی ہے۔ یہ جو کامیابی اور ناکامی کو جانچنے کا پیمانہ ہے یہ ہم سب کا خودساختہ ہے کس کی کیا کارکردگی ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس کی ہم تخلیق ہیں۔ میرے مسائل میرے ہی ہیں اور مجھے ہی ان کو حل کرنا ہے اور حل بھی مسائل میں ہی چھپا ہوا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے مسائل کا حل کسی اور میں تلاش نہیں کرنا چاہیے کیوں کے مسائل خود کو تلاش کرنا کا ایک بہانا ہے۔ جو کچھ بھی آپ کہ اردگرد رونما ہوتا وہ کسی نہ کسی سمت کی جانب اشارہ ہے بس درست انتخاب ہی اصل کامیابی ہے اور یہ کامیابی کسی دنیا کے شخص یا گروہ سے نہیں ملتی بلکہ خود کو حاصل کرنا ہی اصل مقصد ہے تا کہ جب یہ سفر مکمل ہو تو اطمینان رہے۔

مجھے دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد اور آپ کو بھیجے جانے کا مقصد ہرگز ایک نہیں ہے اگر سب کا مقصد ایک ہو تو بھلا امتحان کیسا ہے پھر تو ایک دوسرے کی نقل کرنے سے ہی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ کچھ لوگ کم وقت میں بہت کچھ دیکھ کر جہان فانی سے جلدی کوچ کر جاتے ہیں اور کچھ لمبی زندگی گزارنے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہیں کر پاتے سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے حاصل حصول اصل میں ہے کیا؟ وہ جو کامیابی کے معیار ہمارے طے کردہ ہیں؟ کیا سکون سے بڑھ کر کوئی کامیابی ہے اور اگر نہیں تو پھر سکون کس طرح حاصل ہوتا ہے دولت شہرت یا طاقت سے؟

میں نے بہت سے لوگوں کو ان چیزوں کے باوجود لا حاصل دیکھا ہے شاید کسی چیز کو حاصل کرنے کی جستجو ہی منزل ہے یعنی سفر منزل سے زیادہ اہم ہے مجھے اپنا کیے جانا والا سفر مکمل کرنا ہے اور آپ کو آپ کا۔ کیوں کہ یہ سفر سب کا ختم ہونا ہے لیکن مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے مختلف منزل پر جا کر۔ اس دنیا میں جتنا انسان موجود ہیں اتنے ہی مقامات بھی موجود ہیں سب لوگ پہنچ بھی جائیں اپنے اپنے مقام پر تو پھر بھی کئی مقام خالی ہیں۔

جب خالق کوئی حد نہیں ہے تو پھر مخلوق کی بھی کوئی حد نہیں ہے یہ عروج و زوال ہماری نظر میں کچھ اور جب کہ خالق کی نظر میں کچھ اور ہیں۔ یہ امیر حقیر کا تعین کرنا نہایت دنیاوی اور خود ساختہ معیار ہے کچھ بھی طے کرنا نا مناسب ہے ہمارے ہاں پرکھنے، جانچنے اور ماپنے کرنے کے تمام پیمانے غلط ہیں۔ یہ جس کا رچایا گیا کھیل ہے اسی کے وضع کردہ اصول ہیں اور حتمی فیصلہ بھی اس کا ہے

میں ذاتی طور پر ایک سیاستدان سے بہت متاثر تھا اس کی سیاسی زندگی کے حوالے سے میں زیادہ تو نہیں جانتا تھا لیکن پھر بھی لگتا تھا کہ وہ کامیاب سیاستدان ہے اور کامیاب انسان بھی لیکن ایک صبح جب اس کے جوان بیٹے کی موت کا سنا تو اس شخص کی کامیابی مانند پڑ گئی اور اسے دنیا کا سب سے بے بس شخص پایا۔

کس کے سفر میں کامیابی میں لپٹی ناکامی ہے یہ کوئی نہیں جان سکتا لا علمی موت بھی ہے اور زندگی بھی اس عجیب صورتحال کو سمجھنے کے لئے مقام پیدائش سے بستر مرگ تک جانا پڑتا ہے شاید اسی لئے تو کئی بہ ظاہر کامیاب لوگ اکثر مرنے کے وقت ایسے تجزیات پیش کرتے ہیں جو ان کی کامیابیوں اور تجربات کے بر عکس ہوتی ہیں جیسے کہ ایپل کے بانی سٹیو جابز نے کہا کہ ان کی زندگی کے سنہرے لمحات وہ تھے جو انہوں نے اپنے پیاروں کے ساتھ گزارے نہ کہ وہ جب ایپل ایک کامیاب کمپنی بن کے ابھری اسی طرح حال ہی میں رخصت ہونے والے بھارتی اداکار عرفان خان نے مرنے سے کچھ روز پہلے کہا کہ مجھے معلوم ہی نہیں پڑا کے ایک کامیاب سفر کے دوران کیسے زندگی رک گئی اور مجھے ایک راستے سے اتر کر دوسری جانب نامعلوم سمت کی طرف رخ کرنا پڑ گیا۔

Facebook Comments HS