گلگت بلتستان الیکشن، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ اس وقت پورا ملک ”کورونا“ کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں ہے اور ساری نظریں ڈیش بورڈ پر لگی ہیں وہیں پر سیاسی اور معاشی معاملات بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے نے پاکستان اور انڈیا کو سفارتی محاذ میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ معاملہ ہے گلگت بلتستان کے ہونے والے الیکشن۔ تفصیل یوں ہے کے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ چونکہ گلگت بلتستان کے الیکشن متوقع ہیں اسمبلی کی میعاد جون کو ختم ہو رہی ہے اور نگران سیٹ اپ کے لئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں لہذا گورننس آرڈر 2018 میں ترمیم کی اجازت دی جائے تاکہ نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

اس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ گورننس آرڈر 2018 قابل قبول نہیں بلکہ وفاقی حکومت اپنے آرڈر 2019 میں ترمیم کرے نیز صدارتی آرڈیننس کے تحت پاکستان کے الیکشن ایکٹ 2017 کو گلگت بلتستان تک توسیع دے جس پر انڈیا کی وزارت خارجہ سخت تلملا رہی ہے اور احتجاج کر رہی ہے۔ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیے ذرا پس منظر میں جانا ہوگا۔

گلگت بلتستان کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران 2009 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت صوبائی خد و خال بخشا گیا جس کے تحت وزیر اعلیٰ اور گورنر کے عہدے تخلیق ہوئے اور اسمبلی کو کچھ متعین معاملات میں قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت کے بعد جب وفاق میں اقتدار کا ہما مسلم لیگ ن کے سر بیٹھا تو گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دینے کا غلغلہ بلند ہوا، ساتھ ہی سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ کی قراردادیں، گلگت بلتستان اسمبلی قراردادوں اور جنتا کی مرضی و منشا کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحات مرتب کرنا تھا۔

کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے اور سننے میں آیا کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے عبوری صوبہ بنایا جا رہا ہے اور یہاں کی نمائندگی قومی و سینٹ میں بھی ہوگی، لیکن حسرت ناتمام، پیکج ڈرافٹ تو ہوا لیکن آزاد کشمیر کی طاقت ور سیاسی قیادت اثر انداز ہوئی اور اسے عملی جامہ پہنایا نہ جا سکا ساتھ ہی نواز شریف حکومت پانامہ کی تیز و تند آندھی کی نذر ہوئی۔

تاہم مسلم لیگ نے بعد ازاں آرڈر 2018 منظور کیا جس میں دیے گئے اختیارات پر بڑی لے دے ہوئی، گلگت بلتستان کی اکثریتی جنتا اور انٹیلیجنسیا نے آرڈر کو مایوس کن قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس آرڈر میں اختیارات زیادہ تر وزیراعظم اور کونسل کے پاس تھے جو کہ یہاں کی جنتا کے منتخب شدہ نہیں تھے نیز اختیارات ایک بار پھر وزارت کشمیر و ناردرن ایریاز کے ہاتھ جانے کا خدشہ تھا۔ گو کہ آرڈر 2018 کا بڑی شد و مد سے دفاع کیا گیا اور اخبارات میں آرڈر 2009 سے اس کا شق وار موازنے کے ساتھ ساتھ آرڈر 2018 کی مدح و ثنا میں تقابلی جائزے بھی چھاپے گئے لیکن ”یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا“

دوسری طرف آرڈر 2018 کو وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور استدعا کی گئی کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار دیا جائے کیونکہ یہاں کی جنتا نے آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار ( بھاشا ڈیم فیم) کی سربراہی میں بڑے بینچ نے کیس کو سننا، اور دوران سماعت چیف جسٹس کی متعدد آبزرویشنز سے ایسا لگا کہ آئینی حقوق ملنے میں دیر نہیں، اسی کیس کے دوران جناب ثاقب نثار نجی دورے پر گلگت بلتستان آئے تو لوگوں نے ان کو پھولوں سے لادا اور ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگے لیکن فیصلہ آیا تو وہی ڈھاک کے تین پات کہ علاقے کو مزید اختیارات دیے جائے مگر مسئلہ کشمیر کو دیکھ کر، یعنی پھر کوئی آرڈر۔

جبکہ دوسری جانب بی جے پی کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کی صورت ہی بگاڑ کر رکھ دی ہے، آرٹیکل 370 جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اسے ختم کر کے کشمیر و لداخ کو دو علیحدہ صوبوں کی شکل دی ہے اور ہم لکیر پیٹنے میں مصروف ہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی جس کے لئے اور تو اور مسلم امہ بھی ہمارے ساتھ کھڑی نہیں۔

ادھر ملک میں تبدیلی کی نئی لہر چلی، پرانی طرز سیاست کے پرزے اڑا دیے گئے اور عمران خان مسند اقتدار میں سریر آرا ہوئے تو گلگت بلتستان کی جنتا نے پھر امیدیں باندھیں کہ عمران خان تو گلگت بلتستان کا شیدائی ہے، کرکٹ کھیلنے کے دوران بھی یہاں بار بار آتا رہا ہے اور پھر تبدیلی اس کا نعرہ ہے اس لئے یہاں کی جنتا کو ”سٹیٹس کو“ کی حالت سے نکال دے گا لیکن ہوا کیا، پھر ایک آرڈر 2019۔

اس آرڈر پر پھر اعتراضات اٹھے ایک بار پھر سپریم کورٹ کی راہ لی گئی گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے بھی آرڈر 2019 کی مخالفت کی جس پر سپریم کورٹ نے آرڈر پر مناسب ترامیم، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور عملدرآمد کے لئے ٹائم فریم دیا تھا مگر وقت گزر گیا وفاقی حکومت کو شوگر اور آٹا مافیا کی دوستی و دشمنی سے فرصت نہیں ملی۔ افتاد اچانک یوں آن پڑی کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی مدت ختم ہونے کو ائی ہے اور اب نئے الیکشن کے لئے آرڈر 2018 کو دیکھیں کہ آرڈر 2019 کو، دونوں ہوا میں معلق ہیں اور اس پہ طرفہ تماشا کہ دونوں آرڈرز میں نگران حکومت کے لئے کوئی طریقہ کار وضع نہی۔

وفاق نے استدعا کی کرونا کی وجہ آرڈر 2019 میں کام نہیں ہوسکا ہے نیز گلگت بلتستان اسمبلی کو بھی تحفظات ہیں لہذا مناسب فیصلہ دیا جائے تاکہ الیکشن کرائیں جاسکے جبکہ گلگت بلتستان حکومت بھی مصر رہی کہ آرڈر 2018 میں ترمیم کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ نگران حکومت قائم ہو۔ اس پیراڈاکس کا حل سپریم کورٹ نے یہ دیا کہ آرڈر 2018 کا باب بند ہے، لہذا آرڈر 2019 کے آرٹیکل 56 کی ذیلی شق 5 میں ترمیم کرکے پاکستان الیکشن ایکٹ 2017 کو وسیع کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا جائے ساتھ ساتھ شفاف انتخابات کو بھی یقینی بنایا جائے۔ بعض ماہرین قانون پاکستان الیکشن ایکٹ 2017 کو گلگت بلتستان تک توسیع دینے کے حکم کو بڑی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔

یہی وہ فیصلہ تھا جس پر انڈیا کی وزارت خارجہ نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور تحریری طور پر پاکستان سے احتجاج کیا ہے۔ ”دی ہندو“ اور ”انڈین ایکسپریس“ میں چھپی خبروں کے مطابق انڈیا کی وزارت خارجہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے گلگت بلتستان کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو
“has no locus standi on territories”
قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر سمیت گلگت بلتستان بھی بھارت کا حصہ ہیں اور سپریم کورٹ سمیت پاکستان کو حق حاصل نہیں کہ وہ گلگت بلتستان سے متعلق کوئی فیصلہ دے، اصل الفاظ یوں ہیں

“That the entire union territories of J & K including the area of Gilgit. baltistan are the integral parts of India by virtue of its fully legal and irrevokable accession”

ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ بھی جاگ اٹھی اور محترمہ عائشہ فاروقی نے بیان داغ ڈالا کہ انڈیا کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے روزنامہ ڈان کے مطابق انڈیا کی بھیجی گئی ڈیمارکی کے جواب میں وزارت خارجہ پاکستان کا کہنا تھا کہ

India was told that it’s contention about Gilgit. baltistan could neither cover. up atrocities being perpetrated by Indian occupation forces against innocent, unarmed Kashmir in IoK

تشویش کی لہر مزید اس وقت آگے بڑھی جب سابق انڈین آرمی چیف اور یونین منسٹر وی کے سنگھ نے انڈین میٹرولوجکل ڈیپارٹمنٹ کے
ای ایجنڈا کی افتتاحی تقریب میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان پر قبضہ کے لیے پلان تیار ہے بس مناسب وقت کا انتظار باقی ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کے تحت ابھی گلگت بلتستان اور مظفر آباد کے موسم کا حال انڈیا کے ٹی وی چینلز اور ریڈیو میں اپنے علاقے کے طور پر بتایا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان کی حکومت سمیت تمام مذہبی، سیاسی، علاقائی جماعتوں اور جنتا نے انڈیا کے ناجائز موقف کے سختی سے مذمت کی ہے جبکہ وفاقی سطح پر کوئی مناسب ردعمل ابھی تک نہیں آیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply