وبا کا خوف یا خریداری کا شوق
لاک ڈاؤن میں نرمی ہوتے ہی جنتا نے کرونا جیسی وبا کا خوف دل سے نکال کر عید کی خریداری کا شوق دل میں لیے بازاروں کا رخ کر لیا جس وبا سے ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیادوں پر متاثر ہو رہے ہیں اور اب تک لاکھوں لوگ دنیا میں مر چکے ہیں۔ جہاں ڈاکٹرز پریشان ہیں وہیں تاجر برادری خوش نظر آ رہی ہے تاجر برادری کا کہنا ہے کہ مارچ سے کاروبار بند ہیں وزیراعظم نے اچھا فیصلہ کیا ہے اور ڈاکٹرز کو یہ خدشہ ہے کہ خدانخواستہ کہیں ہسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو کورونا وائرس کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
چین نے کرونا وائرس کے مریض کی کھوج لگانے کے لئے ایک عینک تیار کر لی ہے جو تین فٹ کے فاصلے تک کرونا کا مریض دیکھ سکتی ہے اور دیگر ممالک بھی اس وبا سے بچنے کے لیے ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہیں اور پاکستانی جنتا سے اب تک احتیاطی تدابیر پر بھی عمل نہ ہو سکا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی اور خریداری کا شوق اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ اپنے جان سے زیادہ کپڑوں اور جوتوں کی پروا ہے۔ یہ جنتا کل تک بھوک سے گھروں میں مر رہی تھی اور آج بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
تعلیمی ادارے بند اور مساجد میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ داخل ہونا ہے کیا بازاروں میں کرونا حملہ آور نہیں ہو سکتا یا کرونا شام پانچ کے بعد بازاروں کا رخ کرتا ہے؟ ایک کرونا کا مریض بہت سے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے جن میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ لوگ شامل ہیں کیوں کہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہو چکا ہوتا ہے جس کے باعث کوئی بھی وائرس ان پر آسانی سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔
عوام کو یہ سوچنا ہو گا کہ عید اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے گھروں میں منائی جائے یا حکومت کی طرف سے بنائے گئے قرنطینہ سنٹرز میں فیصلہ عوام کا، اپنے ہاتھوں سے خود کا تباہ نہ کیجئے۔ جو تصاویر مختلف شہروں کے بازاروں کی دیکھنے کو ملیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ والدین کے ساتھ بچے بھی بازاروں میں موجود ہیں جو بغیر ماسک اور دستانوں کے خریداری میں مصروف ہیں۔ جب تک اس وبا کے خلاف ویکسین نہیں تیار ہو جاتی تب تک احتیاطی تدابیر پر ہی عمل پیرا ہونا ہو گا۔
ہمیں اردگرد بھی نظر رکھنی ہو گی۔ غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ غریب کے بچوں کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا۔ غریب اور یتیم بچے ہر سال نئے کپڑے یا نئے جوتے نہیں خرید سکتے اور اس بار تو بالکل بھی نہیں کیوں کہ وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو ماہ سے دیہاڑی دار طبقہ گھروں میں بند ہے اور جو خواتین گھروں میں کام کر کے اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرتی تھیں ان کو بھی کسی نے دو ماہ سے گھر کام پر نہیں بلایا۔
حکومت کو چاہیے کہ بازاروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر کرونا سے بچنے کے لیے آگاہی پوسٹر آویزاں کرے جن پر ماسک پہننے اور بار بار ہاتھ دھونے کی ہدایات لکھی جائیں۔
عوام سے بھی گزارش ہے کہ چھوٹے بچوں کو بازاروں میں ساتھ نہ لے کر جائیں۔ دکانوں یا بنکوں میں کسی چیز کو چھونے سے گریز کریں اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں تا کہ ہر شخص اس وائرس سے محفوظ رہ سکے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک اس وائرس سے ملک پاکستان کو محفوظ رکھیں اور جو لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ان کو صحت و تندرستی عطا فرمائیں۔ (آمین)


