ہمیں مذہبی جذبات کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنا ہیں، وزیراعظم کے مشیر معید یوسف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا بحران سے نمٹنے، مذہبی اجتماعات پر روک تھام اور بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی جیسے مسائل سے پاکستانی حکومت کیسے نمٹ رہی ہے؟ ڈی ڈبلیو نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف کے ساتھ بات چیت کی۔

کورونا بحران سے نمٹنے، مذہبی اجتماعات پر روک تھام اور بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی جیسے مسائل سے پاکستانی حکومت کیسے نمٹ رہی ہے؟ ان موضوعات پر ڈی ڈبلیو نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف کے ساتھ بات چیت کی۔

حکومت پاکستان اس وقت ترجیحی بنیادوں پر بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان نے پالیسی جاری کی جس پر عمل درآمد گزشتہ ماہ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ ایک ٹیسٹ کے طور پر پہلے 2000 غیر ملکی پاکستانیوں کو ملک لایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اسے چھ سے سات ہزار تک کر دیا گیا۔ رواں ہفتے اسلام آباد حکومت نے اس پالیسی میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں۔

پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی

کورونا بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت کو کن مسائل کا سامنا ہے اور وہ ان مسائل سے کس طرح نمٹ رہی ہے؟ اس بارے میں ڈی ڈبلیو نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف سے بات چیت کی۔ معید یوسف نے بتایا، ”اس بارے میں پہلے دن سے وزیر اعظم نے واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں۔ خاص طور سے مزدور طبقہ، ان ہی پر کافی حد تک ملک کی معیشت کا انحصار ہے۔ انہیں غیر ملکوں سے واپس لانا ہے۔ یہ ہر پاکستانی کا حق ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن محفوظ طریقے سے۔“

معید یوسف نے ان حفاظتی اقدامات کا ذکر کیا جنہیں صوبائی اور وفاقی طبی ماہرین کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد وضح کیا گیا ہے اور ایک جامع پالیسی تیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے اس پالیسی میں کچھ تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، ”غیر ملکی پاکستانیوں کی وطن آمد پر پہلے اڑتالیس گھنٹے کے انتظار کے بعد ٹیسٹ کیا جاتا تھا وہ بھی ایک سائنسی منطق کے تحت۔ اب اس کی ضرورت نہیں رہی اب ہم ٹیسٹ جلدی کر کے لوگوں کو جلدی گھر بھیج سکیں گے۔ اس طرح ہم ہر ہفتے گیارہ سے بارہ ہزار پاکستانیوں کو واپس لا سکیں گے۔“

معید کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا اور عید قریب آنے کے باعث اب لگ بھگ ایک لاکھ دس ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ وطن واپسی کے متمنی پاکستانیوں میں سے 90 فیصد خلیجی ممالک میں بطور مزدور کام کر رہے ہیں اور ان کی واپسی کے بارے میں حکومت نے انتہائی شفاف پالیسی بنائی ہے۔ معید یوسف کے بقول، ”ان سارے معاملات میں الجھنیں بھی پائی جاتی ہیں اور بہت سا اتار چڑھاؤ بھی ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ہوائی اڈے اور ائر لائنز بند ہیں، ہمیں اجازت لینا پڑتی ہے۔ آخری منٹوں میں کنسیلیشن ہو جاتی ہے، ہم ہفتہ وار شیڈول لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ اس سے آگے کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں دنیا کا نہیں پتا، کہاں جہاز جا سکتا ہے کہاں نہیں۔“

وفاق اور صوبوں کی پالیسی مختلف کیوں؟

ڈی ڈبلیو نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور سے جب یہ پوچھا کہ کورونا بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کیوں نہیں پائی جاتی تو انہوں نے کہا، ”ہماری پالیسی کا ایک محور ہے اور وہ یہ کہ تمام پاکستانی شہریوں کا فائدہ جس چیز میں ہے ہمیں اس طرف جانا ہے۔ وزیر اعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ ہمیں مشاورت سے چلنا ہے۔ پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے صوبوں کے اختیارات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

اس میں صحت اور تعلیم کا شعبہ بھی شامل ہے اور کسی حد تک ڈیزاسٹر بھی شامل ہے۔ وفاق تمام فیصلے اپنے ایک ڈائریکٹو کے تحت نہیں کر سکتی یہ اٹھارہویں ترمیم کے برخلاف ہوگا۔ تاہم ہر روز وزیر اعظم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کے ساتھ مشاورت کرتے ہیں۔ ہر صوبے کی صورتحال مختلف ہے اس لیے وفاقی حکومت کی طرف سے کسی ایک لائن پر تمام صوبوں کو نہیں چلایا جا سکتا۔ ”

مذہبی اجتماعات سے متعلق پالیسی

مذہبی اجتماعات کو روکنے کے لیے حکومت کی کیا اسٹریٹجی ہے اور مذہبی حلقوں سے حکومت کیسے نمٹ رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں معید یوسف کا کہنا تھا، ”حکومت نے جس طرح انڈسٹریز کے مالکان کے ساتھ مشاورت کر کے ایس او پیز طے کی تھیں بالکل اسی طرح علمائے کرام، تمام فقہ کے ترجمانوں اور مذہبی شخصیات کے ساتھ حکومت نے مشاورت کر کے ایس او پیز طے کیں۔ انہی کے تحت مساجد کھلیں گی اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا تو حکومت مساجد کو بند کروانے کا اختیار استعمال کرے گی۔

بہت سی مساجد میں تنبیہ بھی کی گئی، لیکن یہ سب کچھ ڈنڈے کے زور پر نہیں کیا جا سکتا۔ مساجد کو ہم نے کہا ہے کہ ہم ایک معاہدے کے تحت ان کے ساتھ چلیں گے۔ ہمیں معاشرتی توازن برقرار رکھنا ہے عوام کے احساسات کا احترام کرنا ہے، رمضان کے خصوصی ایام اور عید کے اجتماعات کے لیے ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر علما سے مشاورت کی جائے گی۔ وبا کا پھیلاؤ روکنا اولین ترجیح ہے۔ اگر اس کی حفاظتی تدابیر کے ساتھ کوئی اجتماع ہو سکتا ہے تو اس کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ اگر یہ ممکن نہیں تو باہمی تعاون کے ساتھ ایک لائحہ عمل طے ہوگا۔ ہمیں اپنے لوگوں کی حساسیت کا مکمل خیال رکھتے ہوئے پالیسی بنانا ہے، لیکن پبلک ہیلتھ کو سامنے رکھتے ہوئے کیونکہ یہی ترجیح ہے۔ ”

دریں اثناء حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کوڈ 19 کے متاثرین کی لاشوں کو وطن واپس لانے کی اجازت دے دی ہے لیکن وزارت صحت اور شہری ہوا بازی اتھارٹی نے انفیکشن کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل پر زور دیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر معید یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وطن واپسی کے خواہش مند افراد صرف حکومتی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں اور دیگر ذرائع پر بھروسا نہ کریں۔ اس ویب سائٹ کا ایڈریس covid.gov.pk ہے۔

خصوصی ویب سائٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا، ”تمام ٹریولرز اس ویب سائیٹ پر جائیں ان پر گائیڈ لائنز ہیں، ایس او پیز ہیں، شیڈول ہے سوائے اس شیڈول کے کسی اور پر اعتبار نہ کریں۔ جو فلائٹ ہم اپروو کر رہے ہیں وہ موجود ہیں اس کے علاوہ کہیں موجود نہیں ہے۔“
بشکریہ ڈوئچے ویلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *