پروفیسر سید محفوظ علی شاہ : وزیر آباد کا ”ارسطو“ رخصت ہو گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں ہفتے میں نے گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج گجرات میں سیاسیات کے سابق پروفیسر سید محفوظ علی شاہ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے وزیر آباد ان کے گھر فون کیا۔ اور ان کے بڑے صاحبزادے سید ارشد علی شاہ (لیکچراراکنامکس، پنجاب کالج گجرات) سے بات ہوئی۔ سلام دعا کے بعد ان سے درخواست کی کہ پروفیسر صاحب سے بات کروا دیں۔ انہوں آہستہ آواز میں نے یہ غمناک خبر سنا کر دکھ سے دوچار کر دیا کہ ان کے والد اب اس دینا میں نہیں رہے۔ ان کا 27 فروری 2018 کو ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال ہو چکا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

امجد اسلام امجد نے کہا تھا
اب کسے ڈھونڈتا ہے ارے بے خبر
جانے والے نہیں لوٹتے عمر بھر۔

پروفیسر سید محفوظ علی شاہ کے صاحبزادے سید ارشد علی نے رندھی ہوئی آواز میں اپنے والد کی وفات کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”وزیر آباد کا ارسطو رخصت ہو گیا ہے۔ جیسے قدیم یونان میں لوگ افلاطون اور ارسطو کے پاس اس کے افکار اور خیالات سننے کے لیے آتے تھے۔ ایسے ہی وزیر آباد میں ان کے والد محترم کے پاس بھی لوگ آیا کرتے تھے۔ ان کی باتیں سننے کے لیے۔ مختلف مسائل کے حل کے لیے۔ اور وہ اپنے دکھ سکھ ان کے ساتھ شیئر کیا کرتے تھے۔ وہ وزیر آباد کے لوگوں کے لیے واقعی ارسطو تھے۔ جو اب ہم میں نہیں رہے“ ۔

ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ ہمارے انتہائی محترم اور عزیز پروفیسر سید محفوظ شاہ صاحب گزشتہ دو سال سے مرحوم ہو چکے ہیں۔ سید محفوظ علی شاہ مرحوم سے مجھے بھی گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج گجرات میں 1982۔ 1985 کے سیشن کے دوران سوکس اور سیاسیات پڑھنے کا موقع ملا۔ کیا سحر انگیز شخصیت تھی ان کی۔ ہابز، لاک، روسو، افلاطون اور ارسطو کے سیاسی افکار کیا جم کر اور ڈوب کر پڑھاتے تھے۔ نایاب ہوتی نسل کے ایسے اساتذہ اب کہاں ملتے ہیں۔

اپنی روایتی سستی اور چیزوں کو مسلسل زیر التوا رکھنے کی عادت پر بے انتہا غصہ آیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ کوئی تین چار سال پہلے میں نے یونیورسٹی آف گجرات کے میڈیا ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عبدالرشید سے جو گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات میں محفوظ شاہ صاحب مرحوم کے کولیگ بھی رہے تھے سے شاہ صاحب کی خیریت دریافت کی تھی اور ان سے ان کی تصویر کا تقاضا کیا تھا۔ ارادہ تھا کہ محفوظ شاہ صاحب کی شخصیت پر مضمون لکھوں گا۔ افسوس کہ ان کی زندگی میں ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اور اب ان کی وفات کے بعد یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔

پروفیسر سید محفوظ علی شاہ صاحب نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ 31 سال سے زیادہ عرصہ مختلف کالجوں میں سیاسیات پڑھاتے رہے۔ جن میں گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج اور گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجوایٹ کالج گجرات قابل ذکر ہیں۔ زمیندار کالج میں وہ سال ہا سال ایم اے سیاسیات کے سٹوڈنٹس کو بھی پڑھاتے رہے۔ کالج میں کئی سال شعبہ سیاسیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی رہے۔ گورنمنٹ مولانا ظفر علی خاں ڈگری کالج وزیر آباد میں بھی چند سال پڑھاتے رہے۔ ریٹائرمننٹ کے بعد وہ وزیر آباد کے ایک پرائیویٹ کالج سے بھی منسلک رہے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

محترم پروفیسر سید محفوظ علی شاہ بھارتی صوبہ پنجاب کے شہر کرنال میں 5 دسمبر 1943 کو پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے وقت 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور وزیرآباد شہر میں آ کر مستقل سکونت اختیار کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری سکول اور میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے ایم سی ہائی سکول وزیر آباد سے پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی تعلیم کے لیے گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں داخل ہوئے۔ بعدازاں سید محفوظ علی شاہ نے 1963۔ 1964 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ 1966۔ 1967 میں گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1970ء میں لاہور میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔

سید محفوظ علی شاہ نے یکم ستمبر 1972 ء کو بحیثیت لیکچرر اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ ابتداء میں وہ گورنمنٹ سر سید ڈگری گجرات میں درس و تدریس کے عمل سے وابستہ ہوئے۔ 1984 میں گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجوایٹ کالج گجرات میں ان کا تبادلہ ہو گیا۔ درمیان میں چند سال گورنمنٹ مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد میں گزارنے کے بعد دوبارہ زمیندار کالج گجرات سے وابستہ ہو گئے۔ وہیں ایم سیاسیات کی کلاسسز کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ چند سال سربراہ شعبہ سیاسیات بھی رہے۔ بالآخر 4 دسمبر 2003ء کو تعلیم کے شعبے میں اکتیس سال پڑھانے کے بعد باعزت طور پر ریٹائر ہو گئے۔

پروفیسر سید محفوظ علی شاہ سیاسی اور سماجی موضوعات پر گہری گرفت ہونے کے سبب ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے۔ ان موضوعات پر ہمیشہ عام انسان کی زبان میں بات کرتے۔ وزیر آباد میں ادنیٰ علم اور فہم رکھنے والے عام افراد بھی حلقہ بنا کر ان کے گرد جمع رہتے۔ شاہ صاحب مرحوم کی سیاست پڑھانے سے عملی اور قلبی وابستگی آخری دم تک قائم رہی۔ سیاست کا شوق رکھنے والے ہمیشہ ان کی تاک میں رہتے۔ انہوں نے نہایت سادہ اور پراطمینان زندگی گزاری۔ وزیر آباد کے پڑھے لکھے اور علم نہ رکھنے والے سب کے لیے وہ قابل احترام رہے۔ پسے ہوئے طبقات میں بیٹھنے اور ان سے بات کرنے میں کبھی تنگی محسوس نہ کرتے تھے۔

وزیر آباد کے ایک استاد حافظ منیر کے یہ الفاظ ان کی ذات کا یوں احاطہ کرتے ہیں کہ ”پروفیسر سید محفوظ علی شاہ“ پورے شہر دے استاد سن ”۔ وہ 27 فروری 2018 کو اپنے حرکت قلب بند ہونے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ پروفیسر سید محفوظ شاہ نے اپنے پسماندگان میں بیوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے سید ارشد علی پنجاب کالج گجرات میں اکنامکس کے لیکچرار ہیں۔ درمیانے بیٹے سید ذیشان علی کمپیوٹر سائنس میں پی۔ ایچ ڈی ہیں اور سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ تیسرے بیٹے سید وقار علی نے بی ایس کیا ہوا ہے اور کسی این جی او کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور دونوں گریجوایٹ بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply