جبر کے دور میں پھیلی وبا کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ عجب نوعیت کا مرض تھا کہ جو شہر میں وبا کی صورت پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ مزے کی بات تو یہ تھی کہ اس کی علامات اور دوسرے امراض کی طرح نہ بخار تھا نہ کھانسی نہ چکر، وہ تو بس ایک کیفیت تھی جو ہر متاثر کنندہ کے ذہن پہ طاری ہوجاتی اور جب وہ کیفیت اپنے عروج پہ ہوتی تو بندہ جس کیف و اضطراب کے عالم سے گزرتا وہ شاید وہ ہی جانتا۔ اس کے رفیق و اعزاء تو بس اتنا ہی جانتے کہ بہک گیا ہے۔ بن نشے کی مستی ہے۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ کیفیت مرگی کے دورے کی طرح طاری ہوکر ایک خاص مدت کے بعد ٹوٹ جائے اور بندہ لوٹ پوٹ کر پھر اپنے روزمرہ کے کاموں میں ایک نارمل انسان کی طرح مصروف ہو جائے۔

اگر ایسا ہوتا توبھی شاید کچھ قرار آجاتا، یہاں تو کیفیتوں کے بہاؤ میں وہ تواتر کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا اور مزے کی بات یہ کہ اس مرض میں مبتلا ہر شخص دوسرے صحت مند انسانوں کو بیمار سمجھے اور اگر شفا خانے میں اپنے جیسے مریضوں سے ملاقات کرے تو وہ اٹوٹ دوستی کہ دیکھنے والے حیران کہ بھلا یہ پہلی ملاقات ہے؟

پریشانی شاید اتنی نہ ہوتی اگر مرض وبا نہ ہوتا۔ بقول صحت کے صوبائی وزیر کے۔ ”یہ اعصابی مرض تو خونخو ار درندے کی طرح پورے شہر کو نگل لے گا“ ۔ اور پھر کچھ دنوں بعد اس وزیر نے اپنا بیرون ملک کا دورہ بنایا اور کچھ عرصے بعد اپنے بیوی بچوں کو بھی باہر بلوا لیاکہ شاید ان کی نظر میں اس کا یہی حل تھا۔ شہر کے تحقیق دانوں نے جب مل کر اس کا حل جاننا چاہا تو پہلے تو سب نے مشترکہ علامات پہ غور کیا۔ تقریباً سب ہی مریضوں کے اعزاء نے کہا۔

”بے لحاظ اور بے وجہ سچ بولنے کا عارضہ سا ہو جاتا ہے“ ۔ مثلاً ایک نوجوان لڑکے کی ماں نے بین کرتے ہوئے کہا۔ ”میرا تو ایک ہی بیٹا ہے۔ پہلے کبھی باپ کے سامنے منہ نہ کھولا تھا ان کے دھندے میں ٹانگ نہ اڑائی۔ جو کما کما کے لاتا اس سے عیش کرتا رہا۔ شہر بھر میں گاڑی دوڑاتا اور پیسے لٹاتا پھرتا۔ مگر جب سے یہ مرض لگا ہے اسی باپ سے سوال جواب کرتا ہے، کہتا ہے۔“ بے ایمانی کا دھندا ہے۔ اب خود محنت کرکے کھاؤں گا ”۔

اب بھلا بتائے پچھلے سال ایف اے میں فیل ہوا تھا کون نوکری دیتا۔ پھر ایک دن گھر سے چلا گیا۔ میں ممتا کی ماری اس کا پتہ کرواتی رہی تو معلوم ہوا کہ ایک مولوی صاحب مسجد بنوارہے تھے وہیں اینٹیں ڈھوتا ہے۔ پھر رات کو وہیں کہیں پڑ رہتا ہے۔ پھرسنامولوی صاحب سے مراسم ہو گئے وہ گھر میں سلانے لگے۔ میری ممتا کو قرار آیا کہ شاید صبح کے بھولے کی شام آ جائے مگر ایک دن سنا کہ وہاں سے بھی نجانے کیا واہی تباہی کہتا ہوا نکل کھڑا ہوا۔ ”یہ شخص غلیظ، جھوٹا اور مکار ہے۔ پہلے سنا تھا کہ مسجد کے گیٹ کے باہر کھڑا آنے جانے والے نمازیوں کو مولوی صاحب کے متعلق بتاتا رہا۔ اور پھر ایک دن وہاں سے بھی نجانے کہاں چلا گیا“ ۔

پھرایک عجب سی علامت جو تمام مریضوں میں یکساں نوٹ کی گئی وہ آنکھوں کا کھلا رہنا تھا۔ چاہے آنکھیں بڑی ہوں یا چھوٹی وہ رات کو بھی کھلی رہتیں، چلتی رہتیں۔ مریض کے دماغ کی طرح، گویا آنکھوں نے زیادہ دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ دوسری بات شب وروز کھلی آنکھوں کے باوجود مریض کے چہرے پہ ایک عجیب قسم کا اطمینان اور سکون کا ہونا تھا۔

پھر ہوا یوں کہ اس انوکھے اور شدید نوعیت کے مرض کے سبب اس سلسلے میں سرکار کی جانب سے شہر میں ایک کانفرنس بلائی گئی جس میں طب اور دماغی امراض کے شعبہ کے علاوہ شہر کی چیدہ چیدہ شخصیات نے شرکت کی۔ مریضوں کے قریب ترین اقارب کو بھی شرکت کے دعوت نامے بھیجے گیے تاکہ وہ مریضوں کی کیفیات سے آگاہ کرسکیں۔ کانفرنس میں شہر کے متمول پتھولوجسٹ نے اپنی تقریر میں کہا۔ ”مسئلہ اتنا شدید نہ ہوتا اگر ہر وقت کھلی رہنے والی آنکھیں محض چند افراد کی ہوتیں لیکن یہاں تو وبائی انداز ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب ڈھیر ساری آنکھیں نہ صرف مسلسل کھلی رہیں بلکہ جاگتے ذہنوں کے ساتھ کھلی رہیں تو بہت سارے ایسے کام جو شب کے اندھیروں میں چوری چھپے ہو رہے ہوں تو وہ خفیہ نہیں رکھے جا سکتے اور یوں ملک کے بہت سے اہم سرکردہ افراد اپنے فرائض کی اچھی طرح بجا آوری نہیں کر سکتے“ ۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی جو صحت عامہ کے مرکزی وزیر تھے، سنا ہے ان کے پسینے چھوٹے ہوئے تھے۔ اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اس قسم کے اعصابی امراض اگر وبا کی صورت پوری تیسری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں تو ہم ترقی کے زینے بھلا کس طرح چڑھ سکیں گے ”۔ مرض کے محرکات کے سلسلے میں مریضوں کے قریبی رشتہ داروں کے شواہد کے مطابق جو حقائق جمع ہوئے تھے وہ گو بظاہر مختلف تھے لیکن سرا ایک ہی نظر آتا تھا۔ مثلاً ایک مریض کی بیوی نے بتایا کہ“ بوہری بازار ”کراچی میں بم پھٹنے کے واقعہ کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھنے جائے وقوع پر گئے۔

میں لاکھ منع کرتی رہی دل خراب ہوگا۔ ایک دورہ پہلے ہی پڑ چکا ہے پر یہ بضد رہے، چلے گئے۔ اللہ کا شکر کہ دل تو سلامت ہے مگر وہی دورے والی کیفیت ہے کہ سوتے میں بھی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں۔ بولتے نہیں بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں۔ نوکری چھٹ گئی، اپنے بھی ساتھ چھوڑ گئے مگر ان کا اطمینان اپنی جگہ۔ اب میں نوکری کرتی ہوں اور بچے پالتی ہوں۔ اللہ معلوم کیسا مرض ہے۔ وبا ہے تو خدارا مجھے بتائیے کہیں مجھے نہ لگ جائے ورنہ میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ ”

اسی سلسلے میں میں ایک بوڑھے باپ نے تاسف سے کہا، ”پچھلے دنوں شہر آگ میں جلا، اس نے کسی کو جلایا ہو یا نہ جلایا ہو میرا مستقبل تو بھسم کر دیا۔ میرا اکلوتا بیٹا ایم اے صحافت کا طالب علم تھا۔ ہنگاموں کی رپورٹنگ کے سلسلے میں جائے واردات پر اکثر جاتا رہتا تھا۔ کمبخت وہیں کہیں سے یہ روگ لگا لایا۔ تعلیم تو ایک طرف کئی مہینوں سے جیل میں ہے اور پھر جو کچھ کہتا ہے اگر وہ ہی بکتا رہا تو نامراد جیل میں سڑ کر مر جائے گا اور ظالم اس کی لاش کو کتوں سے نچوا دیں گے۔ وہ بڈھا چیخ چیخ کے رونے لگا اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ پورے شرکائے محفل نے ہمدردی اور خوف کے مشترکہ جذبے سے اس کی طرف دیکھا مگر ساکت رہا۔

ایک ماہر تحقیق دان نے کہ جس کی مائیکرو بیالوجی کی لیبارٹری میں مرض آور جرثوموں میں شب و روز کام ہوتا تھا کہا کہ بیشمار مریضوں کے جسموں سے حاصل کردہ نمونوں پر انتھک تحقیق کے باوجود میں اور میرے ساتھی کسی حتمی نتیجہ پہ نہیں پہنچے ہیں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ یہ کوئی بیکٹیریا نہیں۔ امکان اس کا ہے کہ یہ کوئی وائرس یا اس سے مشابہہ کوئی نیا جرثومہ ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا وجود لا محیط زمانے سے ہو یا قدرتی طور پہ ہونے والی حالیہ جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہو۔ اور اس کے جنم میں بہت سے کیمیائی عوامل کاہاتھ ہو ”۔

اس پر کسی نوجوان منچلے نے لقمہ دیا۔“ مثلاً بارود، گولی، دھواں اور بم ”۔ جس پر صحت کے وزیر کے خونخوار شکل سیکریٹری نے اسے شعلہ برساتی نگاہوں سے گھورا تھا۔“ بہرحال عوامل کچھ بھی ہوں کوشش یہ کرنی ہوگی کہ اس نئے جراثیم کے خلاف ویکسین تیار کی جائے اور پوری دنیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں اس کو عام کیا جائے کیونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ مرض نہ صرف مریض کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر سکتا ہے ”۔

dr-farooq-khan

لگ بھگ پانچ سو افراد کا مجمع خوف کی جس کیفیت سے گزر رہا تھا اس کی رپورٹنگ مشکل ہے۔ اتنا مجمع تھا اور سناٹے میں تھا بس یہ کہہ دینا ہی کافی لگتا ہے۔ مگر شریک محفل ایک ایسا بزرگ سائنس دان، فلسفی اور قابل انسان بھی تھا جو کافی سالوں سے چپ تھا۔ وجہ اس کی کچھ بھی رہی ہو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ شاید وہ ذہنی لقوہ کا شکار ہے۔ اس کی انگلیاں کانپتی تھیں اور آنکھیں کے پپوٹے دبیز اورگرے ہوئے تھے۔ اس کی جسم کی چرمرائی کھال میں تجربے سمٹے ہوئے تھے۔ لوگوں نے چہ میگوئیاں بھی کیں تھیں کہ بڈھا بن بلائے آیا ہے صرف اخبار میں کانفرنس کی خبر پڑھ لی ہوگی۔

مگر شرکائے کانفرنس پر اس وقت سانپ سونگھ گیا جب وہ بڈھا کھانے کے وقفہ میں بن بلائے مائک پر آیا اور اس نے اپنی لرزتی مگر گونج دار آواز میں کہنا شروع کیا۔ ”صاحبوں میں بہت بولتا تھا مگر جس دن میری زبان کھینچی گئی میں خوفزدہ ہو کے چپ ہو گیا۔ ڈر کے مارے آنکھیں بند رکھنے لگا لیکن عجب بات تھی کہ مجمع میں میری آنکھیں بند ہو جاتی ہوں، رات کو الوؤں کی طرح کھلی رہتی ہیں۔ میری بیوی شاید خوفزدہ ہو کر اسی وجہ سے جلد مر گئی۔

میرے بچوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ مگر آج جب شہر میں آنکھیں کھلی رکھنے کا مرض عام ہوا تو خوشی سے گویا میری آواز کھل گئی۔ آنکھوں کی پتلیوں میں جان آ گئی۔ جسم میں طاقت آ گئی۔ آج میں اس کانفرنس میں بن بلائے آیا ہوں ان مریضوں کے اعزاء کو گلے لگانے اور مبادکباد دینے کہ جن کے پیارے اس عارضہ صحت میں مبتلاہیں۔ آئیے ہم سب مل کر ان کے نام پہ جام صحت نوش فرمائیں۔ میں دعاگو ہوں آپ سب کے حق میں کہ آپ کو بھی صحت عطا ہو۔ گو مرض پرانا ہے ”۔

بڈھا چیخ چیخ کر جانے کیا کچھ بک رہا تھا اور بالآخیر وہ گر گیا۔ مجمع میں کوئی ایسا نہ تھا جو اسے اٹھا تا۔ صرف ایک سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان دوڑا دوڑا گیا اور اس کو دیوانہ وار یوں چوما جیسے وہ واقعی اس کا دادا ہو اور پھراس نے اپنے مضبوط کاندھے پر اس کمزور بوڑھے جسم کو اٹھا کر فضا میں بلند کیا اور تمام شرکائے محفل نے دیکھا کہ نوجوان نے بوڑھی انگلیوں کو اپنی جوان انگلیوں کے ساتھ ملا کر فتح کا نشان بنایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *