پاکستانیو، حلیمہ سلطان صرف ارطغرل کی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر اور دانش فیس بک بحث و مباحثہ میں مشغول تھے۔ عمر بہت دیر سے دانش کو سمجھا رہا تھا کہ خدارا اپنا غیر شرعی طرز زندگی بدل لے اور راہ راست پہ آ جائے۔ دوسری جانب دانش اپنی ضد پہ اڑا تھا کہ تم تو ہو ہی دقیانوسی خیالات کے مالک تمہیں کیا پتہ کہ لبرل ہی انسانیت کے حقیقی علمبردار ہیں۔

عمر نے دانش سے کہا میں تھک گیا ہوں تمہیں سمجھا کر کل بات ہو گی ابھی ارطغرل ڈرامے کا وقت ہو گیا ہے میں دیکھنے جا رہا ہوں۔

دانش اس بحث کے بعد سوچنے لگا ”کتنے پرانے خیالات کا ہے عمر، پتہ نہیں یہ لوگ کب سمجھیں گے کہ زمانہ کتنا بدل گیا ہے ہر چیز میں جدت آ چکی ہے مگر یہ ہیں کہ بس کوا سفید ہے کی رٹ لگائے ہیں“

دانش کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔
”کیا کر رہے ہو چھوڑو سب یہ دیکھو باجی ساجدہ لڑکیوں کی تصویریں لائی ہیں تمہارے رشتے کے لیے، دیکھ لو تم بھی ایک نظر“۔

دانش نے تصویروں پہ ایک سرسری نظر ڈالی اور کہا ”امی مجھے نہیں پسند ان میں سے کوئی بھی میرے ٹائپ کی نہیں ہے“۔
”کیا ٹائپ وائپ کیا ہوتا ہے تمہارے ابا نے تو میری تصویر بھی نہیں دیکھی تھی جہاں ماں باپ نے ہاں کی وہیں سر جھکا دیا“۔

”تو نتائج بھی تو بھگت رہے ہیں نا ابا“۔
”کیا بکواس کر رہا ہے“۔
”میرا مطلب امی شادی کے لیے ذہنی مطابقت ضروری ہوتی ہے“۔

”مجھے ان باتوں میں مت الجھا اپنی پسند بتا دے تا کہ میں جا کر باجی ساجدہ کو سمجھا دوں۔
دانش موبائل سے اسرا بلگچ کی تصویر نکالتے ہوئے کہتا ہے ”یہ دیکھیں امی ایسی بہو لائیں تو بات ہے“۔
”پرے دفع ہو اے انگریزنی نہیں لیانی میں“ (پرے دفع ہو، یہ انگریزنی نہیں لانی میں نے)۔
دانش اپنی ہنسی روک نہ پایا ”امی یہ انگریز نہیں مسلمان ہے ترکی کی ہے“۔

”بس تو رہنے دے میں خود ہی پسند کر لوں گی کوئی اچھی سی نیک سیرت اور نیک صورت بہو“۔
عمر ارطغرل ڈرامہ دیکھتے ہوئے حلیمہ سلطان کے ساتھ اپنے مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا ”خدا بیوی دے تو حلیمہ سلطان سی بہادر اور خوبصورت بھی، بات کرتی ہے تو لگتا ہے پھول جھڑ رہے ہیں۔

عمر کی بہن پاس ہی بیٹھی تھی حیرانی سے بولی بھائی ڈرامے میں تو ٹریجک سین چل رہا ہے اور آپ مسکرا رہے ہیں؟

”وہ میں سوچ رہا تھا کہ ترکی کی لڑکیوں کو پاکستان اور پاکستانی لڑکیوں کو سمندر میں پھینک دینا چاہیے۔ کہاں چھ فٹ کی قدر آور بہادر عورتیں اور یہاں کی چار فٹ کی قد میں اور بارہ گز کی زبان میں“۔

”بھائی یہ ڈرامہ ہے اسے سیریس مت لیں حقیقت میں لوگ ایسے نہیں ہوتے جیسے اسکرین پہ نظر آتے ہیں“۔

اگلے دن دوبارہ عمر اور دانش کی بحث چھڑ گئی۔ لیکن اس بار تو حد ہی ہو گئی دانش نے عمر کو اسرا بلگچ کی تصویر یہ کہہ کر دکھا دی کہ دیکھ تیری بھابی مل گئی۔ عمر یہ تصویر دیکھ کر غصے سے لال پیلا ہو گیا ”بکواس مت کرو حلیمہ صرف میری ہے“۔

دانش بھی جذباتی ہو کر کہہ اٹھا جو کرنا ہے کر لے میں نے تو اماں کو بھی بول دیا ہے یہاں رشتہ پکا کرنے کا۔

جھگڑے کے دوران دونوں کے موبائل پہ ایک میسج آیا جس میں حلیمہ کی جانب سے قوم کو پیغام تھا ”پاکستانیو میرا پیچھا چھوڑ دو میں صرف ارطغرل کی ہوں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *