ہرڈ امیونٹی اب تیرا ہی سہارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی عملی تصویر ہماری حکومت ہے جو تنکے تلاش کرنے کی ماہر ہو چکی ہے، دھول جھونکنے کی بجائے جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس رہی ہے۔ روز ایک جھوٹی تسلی، روز ایک نئی کہانی، اور اگلے دن اسے بھول کر نیا ڈرامہ۔ بس یہی ہے ان کی کارکردگی اور پالیسی۔ غریبوں کا نام لے کر سرمایہ داروں کے لیے راہیں آسان کی جا رہی ہیں اور یوں غریب اور امیر دونوں کی ہمدردیاں سمیٹی جا رہی ہیں۔ یہ پالیسی کافی کامیاب ہے۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہرڈ امیونٹی کا شوشہ چھوڑنا ہے۔ سارے وزیر مشیر پیچھے امام صاحب کے اب سویڈن کی ہرڈ امیونٹی کے گن گا رہے ہیں۔

ڈھٹائی سے اور بار بار بولے جانے والے جھوٹ پر اعتبار کرنا فطرت انسانی ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا ہی جن کی معلومات بلکہ علم و عرفان کا ذریعہ ہو انھیں کسی تصدیق کی ضرورت بھی نہیں۔ اسی اعتبار و نا اعتباری کے درمیان قوم لٹک رہی ہے۔ خان صاحب نے اگرچہ عمر بھر الزامات کی سیاست ہی کی ہے، جس کی زد میں کبھی ان کے ممدوح بھی آتے تھے جو اب ایک پیج پر ہیں، لیکن وہ اتنے کنفیوز کبھی نہیں دیکھے گئے۔ وہ ابہام اور تعصب جس کی بنیاد شدید نفرت پر رکھی گئی تھی، اب قوم کا اجتماعی شعور اور رویہ بنتا جا رہا ہے۔

حیرت ہے غلام سرور خان جیسے بندے کو بھی اسمبلی میں آستین چڑھا کر بات کرنا پڑی۔ ’جیسے‘ سے مراد یہ کہ وہ الیکٹیبل ہیں اور الیکٹیبل تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں بلکہ اصل میں وہ ایک ہی کے ادارے کے محبوب ہوتے ہیں، بس دیکھنے میں ذرا ہرجائی لگتے ہیں۔ ستم ہے کہ حکومتی کارکردگی سے نظریں ہٹانے کے لیے ان کم گو معصوموں کو بھی اتنا اونچا بولنا پڑ رہا ہے۔

یہ آئے روز نیا شوشہ چھوڑنا ان کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ روزانہ نئی بونگی مار کر میڈیا اور عوام کو ادھر لگا دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سویڈن کی ہرڈ امیونٹی۔ سویڈن کا شمار ان 20 ممالک میں ہوتا ہے جو وبا سے متاثرہ افراد کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ میں نے سوچا اس بارے میں ادھر ادھر سرچ کرنے کی بجائے کیوں نہ سویڈن میں مقیم کسی باخبر دوست سے پوچھا جائے۔ میری مٹی کا باسی، میرا دوست بنارس ملک، جو انگریزی ادب پڑھتا پڑھاتا کب سے سویڈن جا بسا، اس سے پوچھا کہ بھائی یہ کیا شور ہے؟

اس کا مختصر اور سیدھا جواب تھا کہ ”پاکستان اور سویڈن کا فرق یہ ہے کہ سویڈن میں اوسطاً دو بندے اک گھر میں رہتے ہیں اور پاکستان میں ریوڑ کے ریوڑ۔ پھر سویڈش ویسے بھی زیادہ میل جول پسند نہیں کرتے۔ وہ عام حالات میں بھی سوشل نہیں ہیں بلکہ ان کی اکثریت تنہائی پسند ہے۔“ میرے لیے تو یہ بنیادی فرق جاننا ہی کافی تھا اور یہی سب سے بڑا فرق ہے جس کی بنیاد پر ہمارا ان سے تقابل بنتا ہی نہیں۔

سویڈن نے کمال یہ کیا کہ سارے ملک کو بند کرنے کی بجائے بھیڑ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح جو ملازمین گھر سے کام کر سکتے تھے انھیں گھر ہی سے کام کرنے کی ہدایات دی گئیں اور معاوضہ ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ساری پالیسی حکومت نہیں سائنس دان بنا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ کرونا آہستہ پھیلے۔ اس سب کے باوجود اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ آج کے دن تک وہاں پونے دو لاکھ ٹیسٹ ہوئے، 30000 متاثرین ہیں اور 3600 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھی کم خطرناک نہیں۔

بظاہر سویڈن میں بہت کم جگہیں بند ہوئی ہیں لیکن اکثر لوگوں نے رضاکارانہ طور پر سماجی فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟ ہم نے تو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دکانوں پر ہلہ بول دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف لوٹ سیل لگی ہوئی ہو۔ نووس نامی کمپنی کے سروے کے مطابق ہر 10 میں سے نو شہری کہتے ہیں کہ وہ آپسی میل جول کے دوران کم از ام ایک میٹر کا فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود آبادی کے تناسب سے یہاں شرح اموات دیگر سکینڈے نیوین ممالک سے زیادہ ہے۔

کیا ہم پاکستان میں سویڈن کی پالیسی پر عمل کر سکتے ہیں؟ ہرڈ امیونٹی کے نام پر ان عوام کو یوں آزاد چھوڑ دینا کہاں کی عقل مندی ہے جو اب تک کورونا کو ایک سازش سمجھ رہے ہیں۔ اب تو پبلک ٹرانسپورٹ بھی کھلنے جا رہی ہے۔ حکومت جو کبھی غریبوں کے ٹرانسپورٹ منصوبوں اور سبسڈیوں کی ناقد تھی اب غریبوں کی ہمدرد بن چکی ہے۔ سویڈن میں تو پبلک ٹرانسپورٹ کھلی رہنے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں بہت کمی آئی ہے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھر سے کام کر رہی ہے۔ کیا پاکستان کی ٹرانسپورٹ میں بھی ایسا ہی ہوگا؟ اب تک کے ہمارے رویوں سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ ویسے بھی، سویڈن میں مستقبل میں کیا ہو گا اس کا تعین تو ابھی تک وہاں بھی نہیں ہو سکا بلکہ سویڈن کے اندر بھی اس حکمت علمی کے خلاف کئی مضبوط آوازیں موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply