غداری


سحری کے بعد وقت گزاری کے لیے فیس بک آن کیا تو ایک پوسٹ پڑھنے کو ملی۔ لائکس اور خراج تحسین سے بھرپور کمنٹ دیکھ کر تجسس کو ہوا ملی۔ پوسٹ کا خلاصہ کیا جائے تو آج کل کے انتہائی معروف اور دل عزیز ترکی ڈرامے کی بھرپور تعریف کے ساتھ ہمارے چند معروف صحافی حضرات اور ماضی کے حکمرانوں کی ”غداری“ پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ مجھے ”غداری“ کے عنصر سے واقعی نفرت ہے یہ کسی بھی طرح سے جائز نہیں۔ تاہم مجھے کچھ حیرت ضرور ہوتی ہے۔

ہم بحیثیت قوم بہت آسانی سے دوسروں کو ”کافر“ یا ”غدار“ قرار دے دیتے ہیں، اتنی آسانی سے کہ ہمیں نہ کسی ثبوت کی نا ہی کسی قسم کی گواہی درکار ہوتی ہے۔ اور پھر تو جیسے اس پر ہر ”پاکستانی“ لعن طعن، طعنہ زنی اور غیر مناسب الفاظ گوئی کو گویا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ مجھے آج تک اس پیرامیٹر کی سمجھ نہیں آئی، کس طرح سے کسی کو اس کیٹی گری میں فٹ کیا جاتا ہے۔ چند چیدہ خصوصیات ملاحظہ ہوں۔

1۔ اگر تو وہ انسان حاکم وقت کے خلاف لکھتا ہے یا بولتا ہے تو سمجھ جائیں کہ اس دائرہ کار میں آتا ہے۔
2۔ اگر اس انسان کو کسی مذہبی عالم کے کسی بھی قول سے اختلاف ہو۔ تو وہ کافر کے زمرے میں آتا ہے۔
3۔ کوئی بھی دوسرا انسان یا حاکم وقت محض الزام تراشی کرے۔ تو وہ تصدیق شدہ کافر اور غدار ہے۔

آخر کب تک ہم لوگ محض اختلاف رائے رکھنے والوں کو کافر اور غدار قرار دیتے رہیں گے؟ ہم اس قوم سے ہیں کہ بیمار مخالف کی بیماری پر بھی اسے تضحیک کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے۔ کوئی سچا ہے یا جھوٹا اگر تصدیق ممکن ہے تو کریں محض قیاس آرائیاں یا اپنی انا کی تسکین کے لئے دوسرے کو القابات سے نوازنا کہاں کا ایمان ہے؟ مجھے اس معاشرے کے الفاظ سے اور خاص طور پر آج کل کے وزرا اکرام کے الفاظ کے چناؤ پر شدید اعتراض ہے۔ کیا اب ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ہم ان کے پیچھے چل پڑیں۔

شدید حیرت تو تب ہوتی ہے جب انتہائی گھٹیا الفاظ کا استعمال پڑھے لکھے لوگوں سے بھی سننے کو ملتا ہے۔ وہ اپنی علمی قابلیت کو سب سے اعلی و ارفع قرار دیتے ہوئے دوسرے کی رائے کو محض ”بکاؤ“ تسلیم کرتے ہیں۔ آپ خود کسی روز معائنہ کریں کہ جو الفاظ اور القابات ہم دوسروں کے لئے اپنے ”اینٹرٹینمنٹ“ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان میں سے کتنے القابات ہم اپنی ذات پر بھی برداشت کر سکیں گے؟ اور ”غداری“ تو بہت بڑا لفظ ہے۔ کس طرح سے ہم بغیر ثبوت کے دوسروں کو اس کیٹگری میں ڈال سکتے ہیں؟

ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جو جھوٹی خبر تصدیق کے بغیر پہنچانے پر اعتراض کرتا ہے اور ہم تو محض سنی سنائی باتوں کو ایسے فارورڈ کرتے ہیں جیسے دنیا کے سب سے بڑی لائبریری میں ہم نے پڑھ کر اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس خبر کو پرکھا ہے۔

ہماری روزمرہ کی بڑھتی دماغی بیماریوں میں سے ایک بڑی یہ بھی بیماری ہے۔ اگر ہم اسی رفتار سے چلتے رہے تو وقت دور نہیں کہ محض الزام تراشی کے تحت ہم لوگوں کو خود سے سزائیں دینا جائز قرار دے دیں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو ارسطو کی طرح زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا کریں۔ خدارا اپنے اور اپنی قوم کے الفاظ کے چناؤ پر غور کریں۔ آپ کے غدار اور کافر کہنے سے اگلا ہو نہیں جائے گا لیکن ان الفاظ سے آپ کینہ اور بغض بھر رہے ہیں اس انسان کے خلاف جسے آپ ذاتی طور پر جانتے تک نہیں۔ اور کل جب روز محشر آپ سے ثبوت مانگا جائے گا تو سوشل میڈیا کی ”غداری“ کی پوسٹس کی نقول کافی کام آئیں گے۔ انہیں ساتھ ضرور لے کے جائے گا۔

Facebook Comments HS