جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی کے اکیس سبق۔ کام (قسط نمبر 4 ) ۔

ہمیں اس امر کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ 2050 میں جاب مارکیٹ کی صورتحال کیا ہوگی۔ عام طور پر اس بات سے اتفاق ممکن ہے کہ مشین لرننگ اور روبوٹ دہی بنانے سے لے کر یوگا کی تعلیم دینے تک تقریباً ہر کام کی صورتحال کو بدل کر رکھ دیں گے۔ تاہم اس تبدیلی کی نوعیت اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں متضاد نظریات موجود ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ صرف ایک یا دو دہائی کے اندر ہی اربوں افراد معاشی طور پر بے کار ہوجائیں گے، جب کہ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک خود کار طریقے سے سب کے لیے ملازمتیں اور خوشحالی کے اسباب پیدا ہوتے رہیں گے۔

لہذا کیا ہم ایک خوفناک تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں یا پھر ایسی پیشین گوئیاں ’لڈائیٹ ہسٹیریا‘ کی ایک اور مثال ہے۔ فی الحال یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ یہ خدشہ کہ آٹومیشن سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی تباہی ہمیں واپس انیسویں صدی میں لے جائے گی۔ صنعتی انقلاب کے آغاز کے بعد کم از کم ہر اس شخص کے لیے نوکری پیدا کی گئی جو مشین آنے سے بیکار ہوگیا تھا۔ اس کی بدولت اوسط معیار زندگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ لیکن یہ بات غور و فکر کرنے سے تعلق رکھتی ہے کہ اب کی بار کہانی مختلف ہے کیونکہ مشین لرننگ حقیقت میں گیم چینجر ثابت ہوگی۔

انسان جسمانی اور ذہنی دو قسم کی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ ماضی میں مشین اپنی خام حالت میں انسانوں سے مقابلہ کرتی تھیں۔ جبکہ ذہنی صلاحیت نے انسانوں کو ہمیشہ مشینوں پر برتری عطا کی ہے۔ اس لیے جب زراعت اور صنعت میں ترقی ہوئی تو مشینری چلانے کے لیے انسانوں کی ذہنی مہارتوں (سیکھنا، تجربہ کرنا، بات چیت کرنا اور انسانی جذبات کو سمجھنا) کی ضرورت پیش آئی اور یوں انسانوں کے لیے نئی طرز کی نوکریاں وجود میں آئیں۔

تاہم اب مصنوعی ذہانت انسانی جذبات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان مذکورہ مہارتوں میں بھی کمال حاصل کررہی ہے۔ ہمیں جسمانی اور ذہنی مہارتوں کے علاوہ کسی ایسی تیسری صلاحیت کا بالکل علم نہیں ہے۔ جہاں انسان ہمیشہ کے لیے خود کو محفوظ رکھ سکے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب صرف کمپیوٹر کو تیز تر اور سمارٹ ترین بنانے کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کو زندگی اور معاشرتی علوم میں بھی بہتر بنانے کے لیے تقویت ملی ہے۔ جس قدر ہم بائیو کیمیکل نظام کو سمجھ لیں گے (جو انسانی جذبات، خواہشات اور انتخاب پر روشنی ڈالتا ہے ) تو کمپیوٹر کو انسانی سلوک کا تجزیہ کرنے، انسانی فیصلوں کی پیش گوئیاں کرنے، انسانی ڈرائیوروں، بینکاروں اور وکیلوں کی جگہ کی صلاحیت کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں میں نیورو سائنس اور معاشیات کی شاخ (جو انسانی فیصلوں میں نفسیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے ) جیسے شعبوں میں کی جانے والی تحقیقات نے سائنسدانوں کو انسانوں کو ہیک کرنے کی اجازت دی اور خاص طور پر اس پر غور کیا گیا کہ انسان فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کھانے سے لے کر دوست احباب تک ہر چیز کے انتخاب کا نتیجہ کسی پر اسرار اور آزادانہ ارادے سے نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کے پیچھے اربوں نیورانز کی کارروائی کارفرما ہوتی ہے جو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ممکنات کا حساب کتاب کرلیتے ہیں۔

تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’انسانی بصیرت‘ حقیقت میں ’پیٹرن کی پہچان‘ ہے۔ اچھے ڈرائیوروں، بینکاروں اور وکلا ء کے پاس ٹریفک، سرمایہ کاری اور گفتگو کو جانچنے کے لیے کوئی جادوئی بصیر ت نہیں ہوتی ہے، بلکہ ان کی روزمرہ کی مشق انہیں یہ مہارت عطا کرتی ہے۔ اس بصیرت کی بدولت وہ غیر محتاط راہگیروں، بے کار قرض لینے والوں اور بے ایمان بدمعاشوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ انسانی دماغ کا بائیو کیمیکل الگورتھم مکمل طور پر کامل نہیں ہے۔ وہ متمدن جنگل کی زندگی کی بجائے افریقی ساحل پر سیکھے گئے طرز زندگی پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے اس میں ذرا بھر بھی تعجب کی بات نہیں ہے کہ کس طرح اچھے ڈرائیور، بینکر اور وکیل بھی کبھی کبھار احمقانہ غلطیاں کرتے ہیں۔

اس بات کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ان میدانوں میں بھی انسان کو پیچھے چھوڑتی جارہی ہے، جن کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ ان میں وجدان /کشف کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی روح کے ساتھ صوفیانہ احساسات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے تو میں وضاحت کردوں کہ ایسا ناممکن ہے۔ لیکن اگر مصنوعی ذہانت کا مقابلہ عصبی نیٹ ورک کی ترتیب اور امکانات کا حساب کتاب لگانے سے کیا جائے تو مصنوعی ذہانت کے لیے یہ مقابلہ کوئی خا ص مشکل نہیں ہوگا۔

خاص طور پر ملازمتیں جہاں دوسرے لوگوں کے بارے میں بہت بصیرت / فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں مصنوعی ذہانت بہتر کام کر سکتی ہے۔ مختلف النوع کاموں (جیسے پیدل چلنے والوں سے بھری گلی میں گاڑی چلانا، اجنبیوں کو قرض دینا یا کاروباری معاہدہ میں گفتگو شنید کرنا) میں دوسرے لوگوں کے جذبات اور خواہشات کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا یہ بچہ سڑک پر جمپ لگانے والا ہے؟ کیا یہ شخص میرا پیسہ لے کر غائب ہوجانے کا ارادہ رکھتا ہے؟ کیا وہ وکیل ان کی دھمکیوں سے متاثر ہوگا؟ یا پھر وہ محض مجھے تسلی دے رہا ہے؟

جب تک ایسا سوچا جاتا تھا کہ یہ تمام تر جذبات اور خواہشات کسی غیر مادی روح کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں تب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ کمپیوٹر کبھی بھی انسانی ڈرائیوروں، بینکاروں اور وکیلوں کی جگہ نہیں لے سکے گا۔ اس سلسلے میں دلیل یہ دی جاتی تھی کہ کس طرح ایک کمپیوٹر خدا کی تخلیق شدہ انسانی روح کو سمجھ سکتا ہے؟ اگر یہ جذبات اور خواہشات درحقیقت بائیو کیمیکل الگورتھم پر مشتمل نہیں ہیں، پھر بھی یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ کمپیوٹر ان الگورتھموں کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ یقیناً وہ ایسا کسی بھی ہومو سیپئنز سے زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

پیدل چلنے والوں کے ارادوں کی پیشین گوئی کرنے والا ڈرائیور، ایک ممکنہ قرض خواہ کی ساکھ کا اندازہ کرنے والا بینکر اور گفتگو کی میز پر سامنے والے کے موڈ کا اندازہ لگانے والا وکیل کسی قسم کے جادو ٹونے پر انحصار نہیں کرتا ہے۔ بلکہ ان سب کے دماغ سامنے والے کے چہرے کے تاثرات، لہجہ، ہاتھوں کی حرکات و سکنات حتی کہ جسمانی بدبو کا تجزیہ کر کے بائیو کیمیکل نمونوں کی مدد سے پہچان رہے ہوتے ہیں۔ یہی کام صحیح سینسر سے لیس مصنوعی ذہانت انسان سے زیادہ درست اور قابل اعتماد طریقے سے کر سکتی ہے۔

لہذا ملازمت سے ہاتھ دھونے کا خطرہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عروج سے نہیں جڑا ہے، بلکہ اس کے نتائج بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاپ سے سامنے آتے ہیں۔ ایف ایم آر آئی سکینر سے لے کر لیبر مارکیٹ تک جانے کا راستہ لمبا اور اذیت ناک ہے، لیکن پھر بھی چند دہائیوں میں یہ راستہ طے کیا جا سکتا ہے۔ دماغی سائنس دان امیگدل اور سیریبلم کے بارے میں آج جو کچھ سیکھ رہے ہیں، اس کے نتیجے میں 2050 میں انسانی سائیکاٹرسٹ اور محافظوں کو پیچھے چھوڑنا ممکن ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت ناصرف انسانوں کو ہیک کرنے کے لیے تیار ہے، بلکہ ان تمام صلاحیتوں میں بھی مہارت حاصل کرچکی ہے جو کبھی بالخصوص صرف انسان کی ملکیت ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ، یہ مکمل طور پر غیر انسانی صلاحیتوں کی حامل ہے، جس کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت اور انسان کے درمیان ایک واضح فرق پیدا ہوتاہے۔ خاص طور پر، مصنوعی ذہانت کے پاس باہمی رابطہ اور اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرتے رہنے کی دو غیر انسانی خصوصیات ہیں۔

چونکہ انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا اور اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہے کہ وہ سب اپ ڈیٹ ہیں۔ اس کے برعکس، کمپیوٹر ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتے ہیں اور انہیں ایک لچکدار نیٹ ورک میں ضم کرنا آسان ہے۔ لہذا ہم لاکھوں انسانوں کا لاکھوں روبوٹس اور کمپیوٹر سے تبادلہ نہیں کر رہے ہیں، بلکہ مختلف النوع انسانوں کا ایک مربوط نیٹ ورک سے تبدیلی کے امکان پر کر رہے ہیں۔ آٹومیشن کے عمل پر غور کرتے ہوئے کسی ایک انسانی ڈرائیور کی صلاحیتوں کا موازنہ ایک خود کار ڈرائیونگ کار یا کسی انسانی ڈاکٹر کا مصنوعی ذہین ڈاکٹروں سے کرنا غلط ہے۔ بلکہ ہمیں مختلف انسانی ڈاکٹروں کے گروپ کی صلاحیتوں کا موازنہ ایک مربوط نیٹ ورک کی صلاحیتوں سے کرنا چاہیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےاکیسویں صدی کے اکیس سبق – آزاد پرندہ (قسط 3)۔اکیسویں صدی کے اکیس سبق: موزارت بمقابلہ مشین
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *