کورونا نے انسان کو چاند سے کیسے اتارا؟
ابھی تک کورونا کے معمولی ذرے نے انسان کو چاند سے پکڑ کر پھر سے زمین پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ زمینی معاملات طے کر کے آسمانی دنیا پر پاؤں رکھنے والے انسان کی اڑان کو غیر معینہ مدت تک کورونا نے روک دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے تیز رفتاری سے رواں انسانی زندگی کا سانس بھر گیا تھا اور اب سانس لینے کے لیے زندگی وقفے پر ہے۔ جو انسان ستاروں کو اپنے پیروں کی خاک سمجھ کر آگے بڑھ رہا تھا، اب اس کے شعور نے وقفہ کے اس دورانیے میں نہیں سرے سے سوچنا شروع کیا ہے۔
جن کو یقین تھا مندر، مسجد، کلیسا اور آشرم آباد رکھنے سے ہی دنیا آباد رہے گی، ان کے ساتھ بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ آج پہلے کی طرح نا کوئی مندر آباد ہے، نا مسجد میں صفحوں کا وہ حسن ہے، نا کلیسا میں وہ رونق ہے اور نا ہی آشرم میں وہ میلہ ہے۔ برسوں ویرانی اور خاموشی کا راج ہے۔ نیویارک سے لے کر کراچی تک روشنیاں مدہم پڑ گئی ہیں۔
جو وبا ووہان۔ چائنا سے شروع ہوئی تھی وہ اب پورے عالمی گاؤں (دنیا) میں پھل چکی ہے۔ سکڑتی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ایجادات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے حساب سے جتنا قریب کیا تھا، اتنا ہی تنہا بھی کیا تھا، کورونا نے وہ دوری اور تنہائی مزید بڑھا دی ہے۔ آمنے سامنے ملنا اب مشکل تو کیا مگر خطرہ ہوگیا ہے۔ وبا کو ٹالنے کے لیے میڈیکل سائنس کے لوگ رات دن تجربات میں مصروف ہیں۔ ابھی تک وہ کورونا کو غیر فعال بنانے والی کوئی ویکسین یا دوائی ایجاد کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔
کتابوں والے اپنے نسخے آزما رہے ہیں اور کتاب والے اپنے نسخے چلا رہے ہیں مگر فی الحال صورتحال ”کچھ نا دوا نے کام کیا“ والی ہے۔ فکرمند کتابوں والے بھی ہیں مگر زیادہ پریشانی کتاب والوں کو ہے، جن کا کورونا پر کوئی بس نہیں چل رہا۔ وبا کو پھلنے سے روکنے کے لیے سماجی دوری سے لے کر طبی تنہائی کا حل بھی کتابوں والوں نے تلاش کیا ہے۔ آسمانی پڑھ کر کام چلانے والے ان دنوں زمینی شعور والوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔ رات 10 بجے لاؤڈ اسپیکر پر آوازیں دینے، 70 دن گزر جانے کا انتظار کرنے اور سر سے پاؤں تک مختلف اعضا کو پانی سے دھونے کے تجربات کیے گئے مگر کورونا نے کتاب والوں سے ابھی تک کوئی تعاون نہیں کیا۔
کتابوں والے وبا کو موثر انداز سے پھلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کورونا پر اگر ٹرمپ اور عمران خان جیسی قیادت مزید مہربان نا رہی تو بھلے دن دور نہیں ہیں۔ ”کورونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے“ کا نعرہ دینے والے وطن عزیز کے جنگی مفکرین اب ہار مان چکے ہیں۔ جنگی مفکرین کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کی ہدایات اور فہم پر چلنے والے عمران خان فرما رہے ہیں۔ ”کورونا کے ساتھ رہنا ہے“ یہ جو ساتھ رہنا ہے، ماضی کے تجربات بتاتے ہیں وہ وطن عزیز میں ناممکن ہے۔ لڑنا اس قوم کے ڈی این اے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ امن کے ساتھ رہنا اور غور و فکر کرنا ہمارے نصیبوں میں کہاں؟
سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی ہدایات کو دل سے ماننے کا ہمارے یہاں رواج پہلے کب تھا جو اب ان کی آواز سنی جائے گی۔ عقیدے کا جنون سر پر سوار کر کے گھومنے والے دلیل، منطق اور وجوہات کی بات سنتے ہی کہاں ہے؟! جن کو حیاتیات، سماجیات، پاکستانیات اور انسانیات سے لے کر ریاضی تک نصاب میں بھر بھر کر عقیدائی جنون پڑھایا گیا ہو، ان کو اب سائنس کی وجوہات اور دلیل کی بات سمجھ آئے گی بھی کیسے؟! کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے طبی ماہرین کی جو ہدایات ہیں ان پر پاکستان میں عمل نا ہونے کے اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں مگر بڑی وجہ سائنس مخالف رجحانات اور نصاب ہے، جو اب شہر شہر اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔


