شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات اب کیا رخ اختیار کر رہی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر اعلی تعلیم یافتہ افراد کی جانب سے اپنی بیروزگاری پر حکومتی توجہ حاصل کرنے کے لئے مہم چلائی جا رہی مگر کسی جانب سے ان کی دادرسی نہیں ہو رہی۔ حکومت ریٹائرڈ افراد کو دوبارہ نوکریاں دے رہی ہے بلکہ کچھ حاضر سروس افسران کو دو دو نوکریاں بھی دی جا رہی ہیں مگر اس وقت پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہے جن کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً دو ہزار سے زائد فارغ التحصیل پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات بیروزگاری کی عفریت کا شکار ہیں جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں ساٹھ ہزار پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا، بہتر ہے کہ وہ ان پڑھے لکھے افراد کو ترجیح دیں جنہوں نے ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔ اپنے سیاسی ورکرز کے لئے ٹائیگر فورس جیسے احمقانہ منصوبے بنانے والی حکومت ہوش کے ناخن لے اور ان پڑھے لکھے بیروزگاروں کے مسائل حل کرے۔ حکومتی اقدامات سے لگتا ہے کہ حکومت کی ساری توجہ کرپشن سکینڈل میں ملوث اپنے سیاسی حامیوں کو بچانے پر ہے۔ اسی لئے وہ ان اہم مسائل پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔

حکومت کے ابتدائی ایام سے ہی کرپشن سکینڈلز کا شروع ہونے والا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے پاور سیکٹر، ادویات کی درآمد اور شوگر سکینڈلز میں وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی ملوث پائے گئے۔ المیہ یہ ہے کہ کرپشن سکینڈلز سامنے آنے پر وزیراعظم عمران خان پہلے جاہ و جلال سے اعلان کرتے ہیں کہ کوئی بھی طاقتور شخص نہیں بچ سکے گا لیکن سکینڈلز میں اپنے انویسٹرز اور قریبی دوستوں کا نام دیکھ کر کسی کو نہیں چھوڑوں گا کی گردان کرنے والے ”ایماندار وزیراعظم“ نہایت ”ایمانداری“ سے اپنے رفقا کے خلاف ہونے والی کارروائی کا رخ اپوزیشن کی جانب موڑ دیتے ہیں۔

اپریل کے ابتدائی دنوں میں شوگر انکوائری کمیشن کی لیک رپورٹ میڈیا پر چلی تو حکومتی ترجمان نے دعویٰ کر دیا کہ یہ رپورٹ حکومت نے جاری کی ہے۔ انکوائری کمیشن کی ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام سرفہرست تھا۔ رپورٹ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے طمطراق سے ایک ٹویٹ میں اپنا تکیہ کلام بھی دہرا دیا کہ 25 اپریل کو حتمی حتمی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے لیکن وزیراعظم کے اعلان کے برعکس کمیشن نے پہلے حکومت سے تین ہفتوں کی توسیع مانگ لی۔ اب تین ہفتوں کی توسیع بھی ختم ہو چکی ہے مگر رپورٹ آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

پانامہ جے آئی ٹی کی طرز پر بننے والے شوگر انکوائری کمیشن میں انٹیلی جنس بیورو، ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک، ڈائریکٹوریٹ جنرل اور ایف بی آر کے نمائندے شامل ہیں مگر پانامہ جے آئی ٹی کی سربراہی کرنے والے واجد ضیا کی کی کارکردگی اس کے برعکس ہے۔ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے دوران کئی ممالک سے معلومات اکٹھی کرنے والے واجد ضیا شوگر سکینڈل کی تحقیقات میں پاکستانی اداروں سے معلومات حاصل نہیں کر پا رہے۔ یہ کارکردگی تمام اداروں کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔

کمیشن کی تحقیقات کا جائزہ لینے پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ شروع دن سے ہی اراکین کا فوکس حکومتی اکابرین سے تحقیقات کرنے کی بجائے صرف مخصوص شوگر ملز کی جانب رہا ہے۔ جانے کیوں سبسڈی لینے والوں کو تو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے مگر سبسڈی دینے والوں سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ اگر سبسڈی لینے والے ہدف تنقید ہیں تو سبسڈی دینے والے کیسے معصوم ہو گئے؟ 86 شوگر ملز میں سے صرف 9 سے تحقیقات کرنا خود کمیشن کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔

کمیشن اسلام آباد کی اس شخصیت سے تحقیقات نہیں کر رہا جس نے پہلے عثمان بزدار کو احکامات دے کر سبسڈی دلوائی اور پھر مخصوص ملز کے آڈٹ کے احکامات دے کر تحقیقات کا رخ اپنے سیاسی مخالفین کی جانب موڑ دیا۔ تحقیقات میں کچھ رنگ بھرنے کے لئے کمیشن نے ایف آئی اے کے سینیئر افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو شوگر ملز کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام لگا کر معطل کر دیا مگر آج تک انھیں چارج شیٹ نہیں کیا گیا۔ یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ سبسڈی دینے کے حقائق جہاندیدہ تحقیق کاروں سے کیوں اوجھل ہیں۔

شوگر انکوائری کمیشن نے فواد چودھری کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے چینی میں قلمی مرکب کا تناسب جاننے کے لئے ایک ہفتہ میں رپورٹ دینے کے لئے کہا جسے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مسترد کر دیا کہ وہ یہ معلومات صرف کرشنگ سیزن کے دوران ہی بتا سکتے ہیں۔ فواد چودھری کو جہانگیر ترین کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ دب جائے اور جہانگیر ترین دوبارہ وزیراعظم عمران خان کے قریب ہو سکیں۔ اسی تناظر میں ان کی وزارت کی جانب سے کمیشن کو ایسا جواب دیا گیا جس سے کمیشن کو مزید مہلت مانگنے کا جواز مل سکے۔

کچھ دن پہلے لکھے گئے کالم میں باخبر دوست کے حوالے سے بتایا تھا کہ جہانگیر ترین کی گرفتاری سے پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ باخبر دوست کا کہنا ہے کہ پاور بروکرز کی جانب سے وزیراعظم کو باور کرایا گیا کہ جہانگیر ترین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے۔ جہانگیر ترین کو بھی خاموش رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ اسی لئے دونوں فریقین نے اس مشورہ سے فیض حاصل کرتے ہوئے مصلحت پسندی کی چادر اوڑھ لی ہے۔ یہ سوال ہنوز جواب طلب رہے گا کہ ابتدائی تحقیقات میں جنہیں ملزم گردانا گیا تھا اب کس پیمانۂ انصاف کے تحت انھیں بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔

شوگر انکوائری کمیشن صرف تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے مگر یاد رہے یہ سکینڈل بہت دیر تک پرتوں تلے نہیں دبایا جا سکے گا۔ اس پر تحقیقات ضرور مکمل کرنا ہوں گی اور اسلام آباد سے احکامات دینے والی اہم شخصیت سمیت تمام ذمہ داران سامنے لانا ہوں گے۔ حقائق سے روگردانی نہ صرف کمیشن کی ڈھکوسلہ بازی عیاں کرے گی بلکہ ایک صفحے پر موجود سب ذمہ داران کے ارادے بھی آشکار کر دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply