ایماندار وزیراعلی کی بلی تھیلے باہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان نے بطور صوبہ بڑی عجیب قسمت پائی ہے۔ اس کی صلہ رحمانہ آغوش میں جنم لینے والے نہ قوم پرست، نہ پیر پرست، نہ اسلام پرست، اور نہ ہی وفاق پرست۔ سیاست کرنے والے اس کے اپنے فرزندوں نے اس بدقسمت صوبے کے مفادات کا تحفظ کیا اور نہ ہی کبھی اس پر صلہ رحمی کی بلکہ ماں کے احساس محرومی کو کیش کرنے کی کوششیں کی بلوچستان میں کرپشن پر شور ہوتا تو احتسابی عمل کے شروع ہونے کی نوید سنا دی جاتی ہے اور کاغذی دنیا میں انکوائریاں جاری رہتی ہیں اور پھر اگلا سیزن آتا ہے پھر کرپشن کا شور ہوتا ہے۔ پھر اگلی انکوائری شروع ہوجاتی ہے اور یوں یہ کاروبار جاری رہتا ہے۔ آج تک کسی ذمہ دار کا تعین ہوا ہے۔ نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے کیونکہ کوئی بھی واردات کرنے کے لیے پہلے بڑی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے جزئیات پر پوری تفصیل سے گفتگو ہوتی ہے۔ اور کوشش ہوتی ہے کہ وار خطا نہ ہو۔ ہر پہلو سے اس کا جائزہ لے کر پھر وار کیا جاتا ہے۔

آج کل میڈیا میں بھارت سی دواؤں کی درآمد کا سکینڈل بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔ سنا ہے۔ ملک پاک کے چند دوا ساز اداروں نے ملک ناپاک یعنی بھارت سے جان بچانے والی ادویات کی درآمد کے لیے حکومت سے اجازت مانگی چونکہ دوا ساز لابی مرکزی پاک کابینہ میں اپنے حامی پیدا کر چکی تھی۔ لہذا کابینہ کے اجلاس میں اسے بڑی آسانی سے منظور کر لیا گیا۔

اب خبر یہ آئی ہے کہ مذکورہ دوا ساز اداروں نے جان بچانے کے علاوہ ہر دوا درآمد کر لی ہے۔ جس میں ملٹی وٹامنز تک شامل ہیں۔ اور یوں اربوں روپے پاک سرزمین سے ناپاک سرزمین بڑی آسانی اور رضامندی سے منتقل کر دیے گئے۔ واقفان حال کہتے ہیں۔ اس بارے میں کوئی انکوائری آرڈر کر دی گئی ہے۔ کچھ اس قسم کی ہی واردات بلوچستان میں دو روز قبل کابینہ کے اجلاس میں ڈالی گئی جب محکمہ فوڈ کی جانب سے ارسال کردہ سمری کے مطابق کہا گیا کہ امسال گندم کی خریداری میں بڑی مشکلات ہیں اور سب سے بڑی رکاوٹ زمینداروں سے فرد حقیت کا حصول ہے۔ لہذا اسے دور کیے بغیر خریداری ممکن نہیں ہے۔

دراصل یہ فرد حقیت والی شرط نیب نے چھوٹے زمینداروں کے فائدے کے لیے بنائی تھی کہ پہلے سرکار چھوٹے کاشت کار سے سرکاری نرخ پر گندم خریدے اور سبسڈی کا فائدہ انہیں ہو ورنہ تو وہ بے چارے آڑھتی کے رحم وکرم پر ہوتے تھے جو اپنے قرض اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے گندم اونے پونے داموں پر اسے ہی بیچنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ جب کہ سرکار کی سبسڈی کا فائدہ بڑے زمیندار اٹھا لیتے تھے۔ اس مرتبہ ایک موہوم سی امید بندھی تھی کہ اس شرط کی وجہ سے انہیں بہتر نرخ ملے گا لیکن وہ آس و امید دو روز قبل ٹوٹ گئی جب صوبائی کابینہ نے اس شرط کو متفقہ طور پر ختم کر دیا۔

یہاں تو کسی کو لابی کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوئی کیونکہ فیصلہ کرنے والے خود ہی اس کے بینیفشری تھے۔ تمام بڑے بڑے بھاری بھر کم زمیندار اس لاغر اور کمزور صوبے کی مضبوط کابینہ کا حصہ ہیں اور جو زمیندار نہیں بھی ہیں۔ وہ بھی ان کی ہمنوائی میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ویسے اس صوبے کے وزیراعلی انتہائی داد کے مستحق ہیں کہ کس چالاکی سے اس طرح کے معاملات پر خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے اجتماعی ذمے داری کے اصول کے تحت کابینہ کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح مستقبل میں ہر قسم کی پوچھ گچھ سے بچنے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔

ایک وزیر بتا رہے تھے کہ محکمہ گندم کے وزیر نے مذکورہ اجلاس میں وزیراعلی کی شان میں 15 منٹ تک جو قصیدے پڑھے اور جو مدح سرائی کی وہ دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ نو رتنوں سے بچائے ویسے اپنی تعریف ہر ایک کو اچھی لگتی ہے۔ اگر وہ کرے جو اپنے آپ کو بڑا سردار بھی کہے تو اور بھی مزا آ جاتا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ وزیراعلی بلوچستان ”نہ کرپشن کرتے ہیں اور نہ کرنے دیں گے“ کا راگ الاپتے رہے ہیں۔

اگر ان کے بس میں اچھی حکمرانی نہیں ہے تو منصب سے خود کو رضاکارانہ طور پر الگ کریں کیونکہ ان کے بقول وہ اقتدار سے مفادات کا حصول نہیں کر رہے ہیں تو پھر یہ کیا ہے کہ سیکرٹری فوڈ ایک ایسے شخص کو لگایا ہے جو نہ صرف نیب کیسز میں ضمانت پر رہا ہے بلکہ ایک بہترین اور نیک چیف سیکرٹری ناصر محمود کھوسہ اس کے پرسنل فائل پر لکھ چکے ہیں کہ صوبے کا سب سے کرپٹ ترین افسر ہے اور اس کو ایسی کوئی پوسٹنگ نہ دی جائے جس میں مال شامل ہو جبکہ ڈائریکٹر فوڈ سابق ڈپٹی کمشنر چاغی کو لگایا گیا جس کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی فائل وزیراعلی بلوچستان کی اپنے ٹیبل پر پڑی ہے۔

مرکزی حکومت تو شاید دواؤں کے سکینڈل میں کوئی انکوائری کروا لے لیکن یہاں یہ ممکن نہیں کیونکہ اس شہر میں سب نے دستانے پہنے ہوئے ہیں۔ چوری کرنے والے اور سراغ رساں آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ جب کہ صوبے میں گزشتہ دو سال سے خود ساختہ ایماندار حکمران وجود رکھتے ہیں۔ حالات یہ بتاتے ہیں کہ آہستہ آہستہ جام کمال کی ایماندار کی بلی تھیلے باہر آ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *