صوبے دفاعی بجٹ میں کس طرح ہاتھ بٹائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قراد داد لاہور جب منظور ہوئی اور اس میں جس نئے ملک کے خدوخال بیان کیے گیے تھے، ان کی روشنی میں مجوزہ ملک کو خود مختار ریاستوں کا الحاق یا کنفیڈریشن ہونا تھا۔ مگر بعد کے واقعات نے مملکت کو مرکزیت پسند ریاستی سانچے میں ڈھالا۔ حالانکہ مسلم لیگ اور قائداعظم ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کی بنیا دکے لیے آزاد بھارت میں تمام وفاقی اکائیوں کی مکمل خود مختاری کے متمنی تھے مگر مقامی و عالمی سیاسی صف بندی و سیاسی حالات کے نتیجے میں ہندوستان تقسیم ہوا تو پاکستان کے قیام کے لیے مسلم اکثریتی صوبے ایک ملک بن گئے۔ یاد رہنا چاہیےکہ پاکستان انہی صوبوں کے اتحاد کا مجموعہ ہے۔ مشرفی بنگال کا الگ ہونا ایک المیہ تھا۔ جس کی وجوہات میں سب بڑا اور مرکزی عامل ملک کو وفاقیت کے سانچے میں ڈھالنے سے انحراف کی پالیسی یا ہٹ دھرمی تھی۔ قیامِ پاکستان کے 26 سال بعد ملک کا پہلا جو جمہوری وفاقی آئین تشکیل پایا۔ اس میں مخصوص حالات کے تحت صوبائی خودمختاری کو دس سال تک التوا میں رکھنا ان معنوں میں طے پایا تھا کہ صوبے اپنے معاملات مشترکہ فہرست میں رہ کر چلائیں گے، یہ اجتماعی سیاسی بصیرت اور حقیقت پسندی کی ایک عمدہ مثال تھی۔

مگر دس سال بعد 1983 میں جب مشترکہ فہرست صوبائی فہرست بن جاتی، ضیاالحق اس میں حائل ہو گئے۔  مارشل لا نے مستحکم پاکستان کے اس خواب کو بھی روند ڈالا۔ بالآخر 2008 کے بعد منتخب پارلیمنٹ نے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے تعلقات میں وفاقیت کی نیو رکھی تاکہ کم آبادی والے اور مرکزی حاکمیت کے دائرے سے باہر رہ جانے والے صوبوں میں عوامی و قومی اضطراب کا خاتمہ ہو۔

شومئی قسمت 18ویں ترمیم کو روز اول سے ہی مرکزی حاکمیت کے رسیا و استفاده کرنے والے حلقوں کی مخالفت و ناگواری کا سامنا رہا کہ وہ  اپنی تاریخ سے بھی سبق حاصل نہ کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا ہر سیاسی سوال کو لاٹھی کے ذریعے حل کرنے کا یقین اتنا راسخ ہے کہ اسے بدلنے کی کوئی سبیل کارگر ہو رہی ہے نہ انداز فکر وعمل میں اصلاح احوال کے امکانات کی نمو۔

اب پھر وہی سوال من و تو ۔۔ مرکزیت و وفاقیت کے درمیان زور و شور سے اٹھایا جا رہا۔ وفاق اب ترمیم کو مجموعی سطح پر ہدف بنانے سے گریز کر رہا ہے مگر اس ترمیم کے سب سے اہم ستون، این ایف سی ایوارڈ میں تبدیل کا خواہاں ہوا لیکن یہ جان کر پسپا ہوا کہ 18 ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا مالی حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے اس میں کٹوتی ممکن نہیں۔ چنانچہ دسویں قومی مالیاتی کمیشن میں دو مختلف تجاویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ میرا موضوع ایک مجوزہ امکان تک محدود ہے۔

وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ رائج مالیاتی کمیشن کے مطابق مالی وسائل کی تقسیم کے بعد اس کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے معقول رقم نہیں بچتی زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی اور ملک کی سلامتی کے امور پر صرف ہو جاتے ہیں چنانچہ مرکز چاھتا ہے کہ اب صوبے مالیاتی کمیشن سے اپنے ماحصل میں سے ملکی دفاع میں حصہ ڈالیں۔

بلاشبہ پاکستان کا مضبوط دفاع ہر ایک کی غیر متزلزل امنگ ہے۔ پاکستان کا استحکام ہر صوبے اور عوام کی پختہ آرزو ہے اس لیے اگر ملکی دفاع کو مستحکم بنانے کے صوبے مالی طور پر اپنا حصہ ڈالیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ البتہ اس تجویز کو سر کے بل نہیں بلکہ پاوں کے بل پر کھڑا کیا جانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اس تجویز کو عسکری اداروں میں موجود ملازمین کی متناسب نمائندگی کے اصول کو قبول کر کے قابل عمل بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر۔

قومی مالیاتی کمیشن صوبائی حصے میں کٹوتی یا تبدیلی کے بغیر صوبوں کو جو وسائل منتقل کرے اس کی مجموعی رقم میں سے اس تناسب سے رقم منہا کرلی جائے جس تناسب سے دفاعی ادارے میں اس صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ اگر فوج اور اسکے تمام ذیلی اداروں میں کسی صوبے کے افراد کا تناسب دس فیصد ہے تو اس تناسب سے وہ صوبہ دفاعی اخراجات کے لیے وفاق کے قابل تقسیم پول سے ملنے والے وسائل سے دفاعی بجٹ میں حصہ ادا کرے۔ اس تناسبی حصہ داری کا ایک طریل المدتی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ دفاعی ادارے میں صوبوں کی نمائندگی میں موجود عدم توازن رفتہ رفتہ توازن پہ استوار ہو جائے گا

دفاعی ادارے اور اس کے ذیلی محکموں تجارتی کمپنیوں صنعتی اداروں سمیت مراعات مہیا کرنے والے اداروں میں جس صوبے کے افراد جتنی تعداد میں موجود ہیں اس صوبے کو دفاعي اخراجات میں اسی تناسب سے دفاع کے پول میں اپنا حصہ ڈال کر دفاعی امور کی یکسوئی سے انجام پذیری میں ہاتھ بٹانا چاھیے۔ ثانوی طور یہ نکتہ بھی طے کر دیا جائے کہ اس تجویز پر آمادگی کے بعد کس آفت ھنگامہ آرائی یا بد امنی پر قابو پانے کے لیے کوئی صوبہ آئین کے تحت فوج یا اس کے کسی ذیلی یونٹ کو مدد کے لیے طلب کرنے گا تو اسے مذکورہ امداد وتعاون کے لیے اسے کسی محکمے کو اضافی اخراجات یا ادائیگیاں نہیں کرنا پڑیں گی۔ اضافی تنخواہ یا دوسری مدات کے مختلف اخراجات کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

متذکرہ بالا تجویز اس پس منظرمیں پیش کی گئی ہے ہے جس طرز کا وفاقی نظم اس وقت ملک میں رائج ہے وفاق تمام مالی وسائل پہلے جمع کرتا ہے پھر آبادی کی بنیاد پر صوبوں میں تقسیم کرتا ہے کوئی صوبہ کتنی دولت و وسائل پیدا کرتا ہے اسے در خود اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ حالانکہ وفاقی نظام حکومت کی اصولی ساخت اس سے بہت مختلف ہے۔ وفاق کے پاس دنیا کی بیشتر وفاقی ریاستوں میں کم از کم محکمے اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔

وفاقی اصول کے تحت مرکز کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور، کرنسی۔ خزانہ و مواصلات کے محکمے ہوتے ہیں۔ اور ہر طرح کے ٹیکس کی وصولیاں صوبوں کی ذمہ داری ہوتی ہے جو اس کی مجموعی آمدن کہلاتی ہے اور عدم مرکزیت کے تدارک کے لیے ایسے تمام اختیارات مقامی و ضلعی بلدیاتی اداروں کے پاس ہوتے ہیں یا ہونے چاہیں ۔ اصولاً  مقامی یا بلدیاتی ادارہ اپنی حدود میں ہر طرح کی پیداواری تجارتی سرگرمی اور سروسز پر ٹیکسز عائد کرنے جمع شدہ محاصل کا ایک حصہ (جس کا تعین دستوری سطح پر کیا جا چکا ہو۔) مثلاً 40 / 60 کی شرح یا جس تناسب پر اتفاق رائے ہو جائے  تو مقامی حکومتیں اس فارمولے پر عمل کریں ۔ اور طے شدہ حصہ خود استعمال کر کے اپنی جغرافیائی حدود میں عوامی بہبود کے ترقیاتی کام کریں ۔ تعلیم صحت عامہ جنگلات زراعت وغیرہ تمام امور انجام دیں اور صوبے کا مختص شدہ حصہ صوبائی حکومت کو ادا کر دیں جو پالیسی سازی قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے مختصر امور کی انجام دہی کرے۔ اسی طرح صوبہ اور وفاق میں بھی دسائل کی ترسیل (نیچے سے اوپر) شیڈول کے مطابق مرکز کو مہیا کرے تو ایک حقیقی وفاقیت جنم لیتی ہے۔ جو قراد داد پاکستان کا مرکزی محور و مقصد ہے۔ اس طور پر مرکز کو اپنے زیر انتظام معاملات چلانے میں سہولت ہوگی۔ صوبوں کی جانب سے امتیازی رویوں کی شکایات کا خاتمہ ہوگا، پاکستان مستحکم و مضبوط ہوگا ملکی دفاع اور ملک کے اندر سیاسی تنازعات سے موثر طور عہدہ براہی ممکن ہو گی۔

دسواں قومی مالیاتی کمیشن (جس کی ساخت پر بھی سوالات اٹھ چکے ہیں) اگر درست سمت میں فیصلے کرے گا تو ملک میں سیاسی استحکام آئے گا، معاشی سرگرمیوں کو پر امید یقینی بنیاد میسر آئے گی۔ اس کے برعکس نتائج بہت ہی منفی ہوں گے۔ امید کرنی چاہیےکہ حکومت اجتماعی سیاسی بصیرت بروےکار لایے گی اور وزیر خزانہ ہی کمیشن کے اجلاسوں کی صدارت فرمائیں گے۔ کسی مشیر کو صدارت سونپ کر بحران پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔ یہ وزیراعظم کی سیاسی بصیرت کا زبردست امتحان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *