قرآن، نظام شمسی اور ہماری تحقیق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاند ستاروں سے ہمارا پہلا تعارف بچپن میں ہوا جب گرمیوں میں سر شام ہی چارپائیاں صحن میں بچھا دی جاتیں اور رات کے کھانے کے بعد کھلے آسمان کے نیچے سونا ایک نعمت ہوا کرتا تھا۔ نیند کی وادی میں کھونے سے قبل آسمان پر ستاروں کو ایک ایک کر گننا اور پھر گنتی میں شمار کیے ہوئے ستاروں کا کھو جانا ایک خوب مشغلہ تھا۔ کبھی کبھار بادل چاند اور ستاروں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے نظر آتے اور ہم اس خوف میں مبتلا ہو جاتے کہ اگر بادل جیت گئے تو پھر چارپائیاں دوبارہ اندر کمرے میں بچھانی پڑیں گی تو نیند کیسے آئے گی؟

خیر وقت گزرتا گیا اور ہمیں انگریزی کی کتاب سے ٹونکل ٹونکل لٹل سٹار والی نظم نے اور بعد میں جنرل سائنس کی کتاب سے ایک سورج، ایک چاند، نو سیاروں کا پتا چلا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہمیں درسی کتب سے نظام شمسی کے حوالے سے باقاعدہ پڑھایا گیا۔

اب تو وہ نو سیارے کم ہو کر آٹھ رہ گئے ہیں کیونکہ 18 فروری 1930 کو دریافت ہونے والے آخری سیارے پلوٹو کو اگست 2006 میں بین الاقوامی فلکیاتی یونین ”آئی اے یو“ کی سیارہ کے لئے جاری کی گئی تین نکاتی تعریف پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے نظام شمسی کی سیاروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

ہمیں درسی کتب میں جا بجا یہ پڑھایا گیا کہ سائنس کی آج کی ترقی کی بنیادیں مسلمان سائنسدانوں نے رکھی تھیں۔ اور نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ بھی ہے کہ علم مومن کی گمشدہ میراث یے۔

لیکن پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہم بحیثیت مسلمان آج بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں اور تھامس ایڈیسن صرف 84 سال کی عمر میں 18 اکتوبر 1931 کو ایک ہزار ترانوے رجسٹرڈ ایجادات کے بعد دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ صرف ایک بلب کی ایجاد میں وہ ایک ہزارویں کوشش کے بعد کامیاب ہوا۔ اور جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ ایک ہزار مرتبہ فیل ہوئے جس پر اس کا جواب تھا کہ بلب کی ایجاد کے ایک ہزار مراحل تھے۔

گزشتہ روز جب سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے آیت نمبر 39 اور 40 پر پہنچا جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے ؛
”اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی)۔ سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک، ایک دائرے میں تیر رہا ہے۔“

تو ان آیات کو پڑھنے کے بعد ایک بات واضح ہوئی کہ ہمیں بحیثیت مسلمان بہت پہلے اشارے کتاب مبین کے ذریعے سے پہنچا دیے گئے تھے لیکن ہم نے ان پر تحقیق نہ کی۔ قرآن پاک کو ہمیشہ ثواب حاصل کرنے کے لئے پڑھتے رہے۔ اور ہم جیسے عجمی جو عربی سے ناواقف ہیں نماز بھی عربی میں پڑھتے ہیں اور اللٰہ پاک سے کیا مانگتے ہیں خود بھی معلوم نہیں۔ یہ تو بھلا ہو محترم زاہد حسین چھیپا صاحب کا جنہوں نے اسلام 360 جیسی خوبصورت اور عمدہ ایپلی کیشن تیار کی اور قرآن پاک کو آسان ترجمے کے ساتھ پڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جس نظام شمسی کا ذکر اللٰہ پاک نے اپنی پیاری کتاب میں بہت پہلے بیان فرما دیا ہم نے اس کو کس حد تک اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ اور سائنس کے موضوعات پر اپنی اسی کمزوری کی وجہ سے ہم آج بھی کرونا کی ویکسین کی تیاری کے لیے اغیار کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *