تعلیم دشمن وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی دو دن میں 8 ارب کا کاروبار ہوا اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ عوام کے پاس پیسہ تو ہے۔ لیکن کہیں کہیں ایسا بھی دیکھنے کو آیا کہ ماں نے اپنے کان سونے کر دیے بالیاں نکال دیں اور لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی اپنی شادی کی بالیاں سونار بیچ دیں، بیٹی کا نیا جوڑا جو خریدنا تھا۔ لوگ کیا کہتے اگر بیٹی عید پر پرانا جوڑا پہنتی، ایک تو اس غریب کو لوگ کیا کہیں گے مار دیتا ہے۔

خیر اس صورتحال سے قبل راشن تقسیم کا کام جاری تھا کچھ دوستوں کی مدد سے تب تو ہر کوئی مجبور نظر آ رہا تھا لیکن کچھ واقعی مجبور تھے۔ دوستوں کی مدد سے کچھ د ن یہ کام جاری رہا مختلف افراد جنہوں نے تعاون کیا ان کی جانب سے اور ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر چندے کی درخواست بھی ہوئی۔ جس دن سوچتے آج آخری دن ہے اسی دن کوئی نہ کوئی ضرورت مند سامنے آ جاتا لہذا دوبارہ دوستوں سے رابطہ کرنا پڑتا اسی طرح ایک دن کو کام کا آخری دن سمجھ کر لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی موبائل اٹھا کر دیکھا تو محلے کے قاری صاحب کا فون تھا۔ قاری صاحب اسلام علیکم کیسے ہیں آپ؟ جی میں ٹھیک ہوں آپ خیریت سے ہیں؟ جی میں خیریت سے ہوں۔ بھائی وہ معلوم پڑا تھا آپ راشن تقسیم کر رہے ہیں۔

قاری صاحب کی یہ بات سن کر میں چکرا گیا۔ قاری صاحب کی تنخواہ صرف 15 ہزار ہے خدا جانے مسجدوں میں محدود نمازی ہونے کی وجہ سے ملی ہوگی یا نہیں؟ میں نے لرزتی آواز میں کہا جی قاری صاحب کیا آپ کو اپنے لئے درکار ہے؟ ارے نہیں وہ ہمارے مدرسے کے قاری صاحب ہیں نا ان کی ویسے ہی تنخواہ 7000 ہے، مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے وہ بھی ادا نہیں ہو سکی نہ ہی اس بار رمضان میں سفیر حضرات کی کوئی خاص نصرت ہوئی۔ رہتے تو مدرسے میں ہی ہیں لیکن بیچارے کھائیں کیا۔ مولانا صاحب کی بات سن کر میں بے تاب ہوگیا کیوں کہ مولانا صاحب نے تو آج تک خود کے لئے ایک پیسہ نہیں مانگا تھا۔ میں نے کہا جی قاری صاحب میرے پاس ایک دوست کے زکٰوۃ کے کچھ پیسے پڑے ہیں لیکن اس وقت تو دکانیں بند ہوچکی ہیں میں پھر بھی کوشش کرتا ہوں۔

میری بات کے جواب میں مولانا صاحب کی زبان سے نکلنے والے الفاظ مجھ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ میں کھڑے کھڑے زمین میں دھنس رہا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا قیامت کا روز ہے میں جام کوثر پینے آقا ﷺ کے پاس پہنچا ہی ہوں کہ آقاﷺ نے مجھے سے منہ موڑ لیا ”ارے میاں دراصل وہ سید ہیں نا تو زکٰوۃ تو نہیں لیں گے نہ ہی صدقہ“ ۔ کس مدرسے کے قاری صاحب وہی پاکستانی مدارس جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا؟ کون مولانا صاحب وہی کہ جو انبیا کے وارث ہیں، ہم کیسے انہیں بھول گئے۔

لاک ڈاؤن سے قبل ہی پاکستانی مدارس نے ایک نیا رکارڈ بنا کر دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا تھا۔

پاکستان کا دنیا میں سب سے زیادہ حفاظ تیار کرنے کا اعزاز برقرار ہے، وفاق المدارس کے زیر اہتمام حالیہ تعلیمی سال کے دوران 77805 بچوں نے حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی، خوش قسمت بچوں میں 63805 طلبہ اور 14000 طالبات شامل تھے۔ مجموعی طور پر حفظ قرآن کریم کے شعبے میں 10 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ وفاق المدارس کو قرآن کریم کی خدمت پر کئی عالمی ایوارڈ مل چکے۔ پھر اچانک ملک میں لاک ڈاؤن ہوگیا۔

لاک ڈاؤن کے باعث مدارس نے بھی حکومتی احکامات کے تحت طلبہ کو گھر بھیج دیا۔ ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا حفظ یا دیگر شعبوں کے طالب علم جب واپس آئیں گے ان کی پوزیشن کیا ہوگی؟ کیا ان کا سبق باآسانی وہیں سے شروع ہو جائے گا جہاں چھٹیوں سے قبل چھوڑا تھا؟ علمی نقصان اپنی جگہ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں ملک بھر میں کتنے قراء حضرات ایسے ہیں جو اس وقت معاشی لحاظ سے پریشان اور مشکل میں ہوں گے؟ ان کے تقویٰ پر بلا شبہ کسی کو شک نہیں لیکن جب بھوک سے تڑپتا بچہ اپنے والد سے روٹی کی فرمائش کرتا ہے تو باپ سب بھول جاتا ہے۔ مدارس میں بھی ایسی ہی کئی افراد ہوں گے اگر انہوں نے اپنا شعبہ چھوڑ کر مزدوری شروع کردی تو ہم روز قیامت اللہ اور اس کے رسول کو کیا منہ دکھائیں گے؟

مدارس میں نمازی کم ہونے کی وجہ سے مساجد کے ساتھ بھی تعاون کم ہو گیا ہے۔ کیا حکومت کی جانب سے کوئی فنڈ جاری کیا گیا؟ مدارس کے بعد حال لے لیجیے پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کا۔ ہمارے بچپن میں ہمیں تربیت جاتی تھی ہے استاد کا درجہ والدین والا ہے، استاد ہمارے محسن ہیں لیکن آج کیبل اور انٹرنیٹ کے تعلیم یافتہ اماں ابا اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ تمہارا استاد تو ایک مافیا ہے جو ہم سے پیسے لوٹ کر موج کر رہا ہے۔ آج کے بچے کو درس دیا جاتا ہے کہ تمہارا استاد کوئی نیکی نہیں کر رہا وہ تو تعلیم فروش ہے۔ میں ان ناسمجھوں کے لئے کراچی کے 70 فیصد اسکولوں کا احوال پیش کر رہا ہوں۔

کراچی کے 70 فیصد اسکولوں کی فیس 1500۔ 1000 روپے تک ہے۔ اگر اوسط ایک اسکول میں 300 بچے لگا لیں جو کے ممکن نہیں لیکن چلیں مان لیں سب کا اسکول چل رہا ہے سب کے پاس 300 بچے ہیں۔ اسکول کا آڈٹ کر کے دیکھیں تو ایک ماہ میں 75 فیصد طلبہ کی فیس آتی ہے۔ یعنی 270 طلبہ کی فیس آئے گی 1200 کے اعتبار سے یہ 33000 بنتے ہیں اس میں سے بلڈنگ کا کرایہ نکال دیں ایک لاکھ۔ اس میں سے اساتذہ کی تنخواہ بھی نکال دیں 1 لاکھ، ماسی، چوکیدار کی تنخواہ، اسکول میں ضرورت کی اشیا مثال کے طور پر مارکر، چارٹ وغیرہ بھی اسی میں سے آگئے، بجلی، پانی، گیس کے بل بھی اسی میں سے آگئے 50000 ان اخراجات کے لئے نکال دیں، اسکول میں اگر جنریٹر ہے تو اس کا خرچ الگ لیکن چلیں ہم نے مان لیا یہ مافیا ہیں پیٹرول پمپ سے پیٹرول مفت لیتے ہوں گے تو بھی ایک اسکول مالک کے پاس 70 ہزار تک آمدن ہوتی ہے اب اگر اسکول دو افراد نے مل کر کھولا ہے تو خود اندازہ لگا لیں۔

یہاں ضرور یہ سوال اٹھے گا کہ جن اسکولوں کی فیس 10000۔ 3000 ہے ان کو کس حصہ میں رکھا جائے تو عزیز ہم وطنوں ایسے اسکولوں کو آپ اب بھی فیس دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے ورنہ جرمانے کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی، لیکن سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا عقل مندی نہیں۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ تمام کام ایس او پیز کے تحت ہوسکتے ہیں تو اسکول اور مدارس کیوں نہیں کھل سکتے؟ گلیوں میں گھوم کر دیکھ لیں اسکول اور مدرسے نہ جانے والا بچہ گھر پر قید ہے یا گلیوں میں پتنگ بازی و بلے بازی میں مشغول ہے کیا کورونا علم دشمن وائرس ہے؟ جو ان طلبہ کو گلیوں میں تو کچھ نہیں کہے گا لیکن مدرسے و اسکول میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔

ہمیں ہٹ دھرمی سے ہٹ کر سمجھنا ہوگا کہ یہ قاری صاحب، یہ استاد جی، ماسٹر صاحب ہی ہماری بچوں کے محسن ہیں۔ ان کے متعلق ایک غلط پروپیگنڈا ملک کو تعلیمی بحران میں دھکیل دے گا۔ مدارس اور مساجد کے ساتھ تعاون نہ کیا گیا تو آخر ان سے وابستہ لوگ کیسے زندگی گزاریں گے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت کالا پیسہ شفاف کرانے کے لئے مختلف شعبوں کے لئے پالیسی لا رہی ہے۔ تمام شعبوں میں اسکیمیں لا رہی ہے لیکن اسکول، مساجد و مدارس تمام تر اسکیموں سے محروم ہیں۔ کیا ان کا جرم قوم کو تعلیم و شعور دینا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کورونا کی آڑ میں علمی درس گاہیں مٹا دی جائیں گی؟ مافیا مافیا کہنے والے غور کریں اگر یہ مدارس و چھوٹے اسکول نہ رہے تو آپ کا بچہ کہاں جائے گا؟ کیا آپ 5000 ماہانہ فیس ادا کر سکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *