عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ”جو بچھڑ گئے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تمام کالم صدیقی صاحب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کے نام ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں 28 اکتوبر 2010 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا کالم ”آغا جی“ شامل کیا ہے جو ”آغا شورش کاشمیری“ کے بارے میں ہے۔ مصنف نے آغا صاحب کو عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد اس سرزمین کا سب سے بڑا خطیب اور ان کے ہفت روزہ اخبار ”چٹان“ کو صحافت کا ایک دبستان قرار دیا ہے۔

کالم میں درج ایک دلچسپ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار ایوب خان نے ایک ملاقات میں آغا صاحب کے سامنے ترغیب کا کوئی پتا پھینکا۔ آغا صاحب بولے، ”سیاست میں روپیہ لے کر کام کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان خود کشی کر لے یا ماں، بیٹی، بہن کو بالا خانے پر بٹھا کر ان کی کمائی کھاتا رہے“ ۔ گورنر ملک امیر محمد خان بھی وہیں موجود تھے، کہنے لگے ”شورش کی یہی ادا مجھے پسند ہے“ ۔ ایوب خان نے آغا سے پرجوش مصافحہ کیا اور زینے تک چھوڑنے آئے۔ پھر ہاتھ بھینچتے ہوئے کہا ”انشا اللہ ہم عمر بھر دوست رہیں گے“ ۔

ایک کالم ”اور بڑھی تاریکی“ کے عنوان سے مولانا شاہ احمد نورانی کے بارے میں شامل کیا گیا ہے جس میں مصنف نے مولانا سے ہونے والی تین ملاقاتوں کا احوال لکھا ہے۔ درمیانی ملاقات میں مولانا نے ”نوائے وقت“ کو جہادی قرار دیا تھا۔ تحریر کے انجام میں صدیقی صاحب نے کافی حد تک مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے ایک ”شرارت“ بھی کر رکھی ہے۔

”ایک اور شہید“ کے عنوان سے کالم مفتی نظام الدین شامزی کے بارے میں ہے، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما کی شہادت کے بارے میں لکھی جانے والی اس تحریر کے ایک مقام پر مصنف نے لکھا ہے : ”جنت کے کسی باغ دلکشا میں مولانا یوسف لدھیانوی نے ان کا استقبال کرتے ہوئے پوچھا ہو گا، تو کیا ابھی بھی پاکستان جو ں کا توں ہے؟“ ، تو گویا صدیقی صاحب نے مفتی صاحب کو جنت کا ٹکٹ بھی جاری کر دیا ہے۔

قاضی حسین احمد صاحب کے بارے میں دو کالم شامل کتاب ہیں۔ ایک کالم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے لیے بھی وقف کیا گیا ہے۔ سدا بہار اپوزیشن لیڈر نواب زادہ نصراللہ خان کے بارے میں ایک کالم بعنوان ”میں مر گیا ہوں کیا؟“ لکھا گیا ہے۔ اس عنوان کی بابت ایک واقعہ ہے جو کچھ یوں ہے ؛ بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں لاہور بار سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ خان صاحب نے تجویز دی کہ طویل آمریت کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر ایک ہو جائیں۔

پنجاب اور مرکز میں مل کر حکومت بنائیں اور جمہوریت کے قلعے کو طالع آزماؤں سے بچانے کے لیے مل جل کر کام کریں۔ خطاب کے اختتام پر ایک وکیل نے سوال کیا، ”اگر آپ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے یہ دونوں جماعتیں مل گئیں تو اپوزیشن کا کردار کون ادا کرے گا؟“ ۔ نواب زادہ مسکرائے اور ایک لمحے کے توقف کے بغیر کہا، ”میں مر گیا ہوں کیا؟“ ۔

”وہ مرد درویش“ کے عنوان سے کالم ایک ایڈووکیٹ کے بارے میں ہے جو مولانا مودودی سے کافی متاثر تھا اور سید عطا اللہ شاہ بخاری نے ایک ملاقات میں اس وکیل صاحب کو ”سید کے لاہوری لعل“ سے مل کر کام کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔ اس وکیل صاحب نے ”سید“ کے ساتھ مل کر ایسا کام کیا کہ طفیل محمد ایڈووکیٹ سے میاں طفیل محمد اور سید مودودی کے بعد امیر جماعت اسلامی بنے۔

دو کالم نواب بہرام خان کے بیٹے نواب اکبر بگٹی کے بارے میں ہیں جنھیں 70 ء کی دہائی کے بجائے ایسی جگہ سے ہٹ کیا گیا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔ کالموں میں بگٹی صاحب کے تعارف کے ساتھ وہ واقعہ بھی درج ہے جب بگٹی صاحب نے بھٹو دور میں چودھری ظہور الہی کو اپنی مہمان داری میں قتل کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ صدیقی صاحب نے کالموں میں اکبر بگٹی کی میت کے ساتھ ہونے والی بے حرمتی کا نوحہ لکھا ہے اور نماز جنازہ کی دردناک روداد بھی بیان کی ہے۔

”کیا عجب شخص تھا!“ کے عنوان سے ایک کالم پروفیسر غفور احمد کے بارے میں ہے جس کا اختتام کچھ یوں کیا گیا ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ جب باب رحمت کھلے گا اور اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کی جھولیاں انعام و اکرام سے بھرنے لگے تو پروفیسر غفور احمد سر جھکائے قطار میں سب سے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی کسی فرشتے سے فرمائیں گے، ”غفور احمد کو میرے پاس لاؤ“ ۔ کتاب پڑھتے ہوئے جب قاری اس صفحہ پر پہنچتا ہے تو لگتا ہے حضرت صدیقی صاحب بھی ”کافی“ پہنچی ہوئی ہستی ہیں۔

مصنف عباس اطہر کے بارے میں لکھتے ہیں : اپنی تخلیق کسے پسند نہیں ہوتی۔ کبھی شاہ جی (عباس اطہر) کے سامنے ان کے کالم کی تعریف کی جاتی تو ان کے چہرے پر نو بیاہتا دلہنوں جیسی ایک شفق سی کھل اٹھتی اور وہ شرما سے جاتے، جواب میں بس ایک لفظ کہتے، ”اچھا!“ ۔

میاں برادران کے والد میاں محمد شریف کے بارے میں دو کالم ہیں جن میں جلاوطنی کے دوران وفات پا جانے پر ان کے تابوت کو پاکستان لانے کی جدو جہد بھی بیان کی گئی ہے۔

ایک دلیر اور باخبر صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی کہانی بھی لکھی گئی ہے، جن کی 27 مئی 2011 کو ایشیا ٹائمز آن لائن میں ایک چونکا دینے والی اسٹوری شائع ہوئی، انہوں نے انکشاف کیا کہ مہران بیس پر حملہ الیاس کاشمیری کے بریگیڈ 313 کی کارروائی تھی جو در اصل القاعدہ کا ایک ذیلی گروپ تھا۔ صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ سلیم شہزاد نے اس آرٹیکل کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور کہا کہ دوسرا حصہ خوف ناک ہو گا۔ شاید یہی بات ان کے قتل کا سبب بنی اور کہانی ادھوری رہ گئی۔

اشفاق احمد صاحب کے بارے میں صدیقی صاحب بیان فرما ہیں کہ، اشفاق احمد کے بارے میں مکتب فکر کا لفظ تو بہت چھو ٹا لگتا ہے، اس کوہ قامت شخص کے سامنے ”دبستان“ کا لفظ بھی بونا دکھائی دیتا ہے۔ اسے ایک ”عہد“ کہتے ہوئے بھی تشنگی نہیں بجھتی۔ وہ تو ایک ”زمانہ“ تھا، صدیوں پر محیط زمانہ۔

صدیقی صاحب نے احمد فراز کی نظم کو ہی ان کے لیے لکھے گئے کالم کا عنوان بنا یا کہ ”خواب مرتے نہیں!“ ۔ ارشاد احمد حقانی کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک خود نوشت بھی مرتب کی تھی اور اپنی اس کتاب کے پبلشر کو ایک چھوٹی سی تحریر بھی دے رکھی تھی جس میں درج تھا کہ ”میں مارچ 2010 میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا“ ۔ جب باون لاکھ آبادی والے شہر لاہور سے ارشاد حقانی جیسی شخصیت کا جنازہ پڑھنے صرف ڈھائی سو افراد آئے تو صدیقی صاحب کو بہت دکھ ہوا جو ان کی اس تحریر سے جھلکتا ہے اور اس پر انہوں نے حسن نثار سے لے کر مجیب الرحمن شامی تک جیسی شخصیات پر طنز کے تیر برسائے ہیں۔

کتا ب میں سب سے زیادہ کالم محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں ہیں جن میں مصنف نے بی بی سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی روداد لکھی ہے، ساتھ ہی بے نظیر کی شہادت اور اس کے پس منظر پر کچھ سوال بھی اٹھائے ہیں۔ صدیقی صاحب نے عامر میر کی کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں بے نظیر نے اپنے ”قاتل“ کا نام بھی بتایا تھا۔ محترمہ نے اپنے دوست و ترجمان مارک سیگل کو کی گئی ای۔ میل میں بھی اسی شخص کا نام لکھا تھا۔

ایک کالم بشیر احمد بلور صاحب کی شان میں بھی لکھا گیا ہے جو ان کے ”قتل ناحق“ پر روشنی ڈالتا ہے۔ ایک کالم جسٹس رانا بھگوان داس پر بھی ہے (یہ کالم ان کی زندگی میں لکھا گیا تھا) جو مصنف سے شناسائی نہ ہونے کے باوجود ان کی والدہ کی وفات پر ان کے گھر اظہار افسوس کو پہنچ جاتے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی انہوں نے رسمی تعزیتی جملے کہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ دعا اور فاتحہ خوانی تو ان کے ہاں روا نہیں، سو بات اس نوع کی گفتگو تک محدود رہے گی، لیکن جسٹس صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ثقہ مسلمانوں کے اندازمیں فاتحہ پڑھی۔

آخری تمام کالم مصنف کے قریبی عزیزوں کے بارے میں ہیں جن میں ان کی والدہ اور بھائی شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *