وبا کے دنوں میں عید کی خریداری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی ستم کاریاں اپنی جگہ مگر عید کا تصور دل کو بالکل ویسے ہی گدگداتاہے جیسے ہم بچپن میں بے قراری سے عید کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ہفتوں پہلے خریداری شروع ہوتی، رنگ برنگ کپڑے، ہم رنگ جوتے، پرس، کلپ اور جانے کیا کچھ۔ چاند رات گزرنے میں ہی نہ آتی اور اس کی طوالت دل کو بے چینی میں مبتلا کرتی۔ صبح کاذب کے ساتھ ہی اچھل کے بستر سے برامد ہوتے، عیدی کا تصور آنکھوں میں ستارے بھرتا۔ اماں کی نرم آواز اور سویوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوتی۔

 ان یادوں کے ساتھ کچھ ہی لمحوں بعد دل پہ گھونسہ سا پڑتا ہے۔ ہمارے آنگن میں عید منانے والی دور کسی اور دیس میں بستی ہیں۔ ہماری چھوٹی چڑیا کو گھونسلا چھوڑے ابھی ایک برس مکمل نہیں ہوا، گود کی گرمی ابھی باقی ہے۔ انیس برس میں یہ پہلی عید ہو گی جب ماں اپنی ننھی چڑیا کے بغیر عید منائے گی!

انگلیاں بے قراری سے نمبر ملا رہی ہیں،

” شہر بانو! بیٹا عید کے لئے نئے کپڑے تو خرید لو، میرا کریڈٹ کارڈ استعمال کر لینا”

” اماں! ایک بات کہوں؟ برا نہیں منائیے گا پلیز “

“نہیں بیٹا! کہو”

” کیا آپ جانتی نہیں لاکھوں لوگ دنیا میں موت کے گھاٹ اتر چکے؟ ان گنت معیشت کے ہاتھوں تباہ ہو چکے۔ بے شمار ابھی بھی اس جنگ سے نبرد آزما ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ جانے بچ پائیں گے یا نہیں۔ اور بچ جانے کی صورت میں یہ علم نہیں کہ زندگی کیسے گزاریں گے؟ بے یقینی، افسردگی اور مایوسی ہر طرف پنجے گاڑے ہوئے ہے۔

اماں! آپ تو خود اس قیامت کی عینی شاہد بھی ہیں اور ہر روز ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ امید اور خوف سے بنی تار پہ بھی چلتی ہیں۔

کیا ہمیں لاکھوں لوگوں پہ گزر جانے والی اس بپتا کے بعد عید کی خوشیاں منانے کا حق ہے؟ اگر ایک برس انسانیت کے سوگ میں ہم یہ تہوار جوش وخروش سے نہیں منائیں گے، نئے کپڑے نہیں پہنیں گے تو کیا فرق پڑے گا اماں!

چودہ سو سال پہلے کربلا کے میدان میں شہید ہونے والوں کی یاد آج تک دل سے جاتی نہیں۔ ڈھائی ماہ سوگ میں ہر طرح کی خوشی اپنے اوپر حرام کر لی جاتی ہے۔ اب جو لاکھوں لوگ نادیدہ دشمن کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے چکے، کیا ان کی یاد میں ایک برس بھی نہیں؟

آپ تو ڈاکٹر ہیں، آپ سمیت ساری دنیا میں ڈاکٹروں اور نرسوں نے اس آگ میں خود کو جھونک دیا ہے۔ بے شمار اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکے۔ ان کے بچے ہمیں عید کی خوشیاں مناتے دیکھ کے کیا سوچیں گے؟ کیا ہم ان کے اندھیرے گھروں کے سامنے اپنی چھت پہ چراغاں کریں گے؟ جب وہ بچھڑ جانے والوں کی یاد میں آنسو بہائیں گے، ہم نئے کپڑے پہن کے مسکرائیں گے؟

کیا عید دوبارہ نہیں آئے گی اماں ؟ کیا اس برس ہم خاموشی سے یہ تہوار نہیں منا سکتے؟ پلیز میرے کپڑوں کے لئے مختص رقم سے کسی ایسے فرد کی مدد کر دیجیے جن کے چولہے میں آگ ٹھنڈی پڑ چکی ہو”

ہمارے پاس ان تمام سوالوں کے جواب میں جامد خاموشی تھی۔

ہم کیا کہتے کہ ہم تو وہ قوم ہیں جنہیں نہ راستوں کی خبر ہے نہ سمت کا اندازہ۔ عالمی سطح پہ دنیا تہہ و بالا ہو چکی، قوموں کی منہ زور آزادی کو خدشات کی لگام نے جکڑ کے بے بس کر ڈالا۔ معاشی تباہی و بربادی سے نہ جانے سنبھل بھی پائیں گے یا نہیں۔ اب انفرادی سطح پہ بھی زندگی کے میلے ویسے نہیں ہوں گے۔

ایسے میں وطن عزیز میں ہر قسم کی احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، کپڑوں کی برینڈڈ دوکانوں کے سامنے دھکم پیل کرتی ہوئی خواتین دل کو ایک اضطراب میں مبتلا کرتی ہیں۔ کیا واقعی نئے ملبوسات اس قدر اہم ہیں کہ اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے شاپنگ کی جائے اور بے شمار لوگوں کوخطرے میں ڈال دیا جائے۔

کیا ہم سنگ دل اور بے حس قوم ہیں؟ کیا انسانیت کو پامال کرنے والا سانحہ صرف اس کا ہے جس پہ گزر گیا؟ کیا موت کا غم صرف اسے نڈھال کرتا ہے جس کے گھر سے لاشہ اٹھا؟ اگر یہ آگ ہمارے گھر میں بڑے پیمانے پہ نہیں لگی تو کیا ہمیں اپنی تفریح اور خوشی کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیا احساس کی سب شمعیں بجھ چکیں؟

ہوائے نیم شب آنسوؤں سے بھری ہے، ہیروں کی طرح چمکتی بوندیں! گزرا ہوا وقت ان کے ساتھ ہے جدھر ہم نہیں۔ آنے والا وقت اس طرف ہے جدھر وہ نہیں۔

شور وشغب کا یہ کھنڈر

اس میں بھی پنہاں ہیں بہت

خاموشیوں کے مکرو فن

ہر رنگ کے سو واہمے، الٹی متوں کا بانکپن

ہر نقل میں اک اصل ہے

ہر اصل میں کچھ کھوٹ سی

گہنا چکا سب کچھ یہاں

ہر برزن و بازار میں پھر بھی ہے میلے کا سماں

(سلیم الرحمن)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply